جنوبی لبنان میں اسرائیلی ٹینک کی گولہ باری سے مارونی کیتھولک پادری فادر پیئر الراحی جاں بحق ہوگئے، جس کے بعد علاقے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔
بین الاقوامی کیتھولک ذرائع ابلاغ اور مقامی حکام کے مطابق 9 مارچ کو اسرائیلی ٹینک نے قلعیا گاؤں میں ایک مکان کو نشانہ بنایا۔ ابتدائی گولہ باری میں گھر کے مالک اور اس کی اہلیہ زخمی ہوگئے۔ فادر پیئر الراحی اور دیگر مقامی افراد زخمیوں کی مدد کے لیے موقع پر پہنچے تو ٹینک سے دوبارہ فائر کیا گیا جس میں پادری شدید زخمی ہوگئے اور بعد ازاں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے۔ حملے میں کئی دیگر شہری بھی زخمی ہوئے۔
یہ بھی پڑھیے: پوپ لیو چہاردہم کا ایران حملوں پر پہلا ردعمل، ہتھیاروں کے بجائے مکالمے پر زور
فادر پیئر الراحی، جو ضلع مرجعیون میں قلعیا کے پیرش پادری تھے، اسرائیلی فوج کی جانب سے گاؤں خالی کرنے کے حکم کے باوجود اپنے علاقے میں رہنے پر قائم رہے۔ قلعیا ایک مسیحی اکثریتی مارونی گاؤں ہے جس کی آبادی تقریباً آٹھ ہزار افراد پر مشتمل ہے اور یہ اسرائیلی سرحد کے قریب واقع ہے۔
واقعے سے ایک دن قبل فادر الراحی نے ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا تھا کہ وہ خطرات کے باوجود اپنے لوگوں کے ساتھ رہیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ‘ہم اپنی زمین کا دفاع پُرامن طریقے سے کرتے ہیں، ہم میں سے کوئی ہتھیار نہیں اٹھاتا، ہم صرف امن، محبت اور بھلائی کا پیغام لے کر چلتے ہیں’۔
یہ بھی پڑھیے: پوپ لیو کی یورپ میں پھیلتے اسلاموفوبیا پر کڑی تنقید، لبنان میں امن کی اپیل
ادھر ویٹی کن کے مطابق رومن کیتھولک مسیحیوں کے روحانی پیشوا پوپ لیو چهاردہم نے مشرقِ وسطیٰ میں حالیہ بمباری کے واقعات پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے فادر پیئر الراحی کی ہلاکت پر بھی افسوس ظاہر کیا ہے۔
دوسری جانب جنوبی لبنان میں حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے باعث ہزاروں شہری اپنے گھروں سے نقل مکانی کر چکے ہیں، جبکہ مقامی آبادی کا کہنا ہے کہ وہ خطرات کے باوجود اپنے دیہات چھوڑنے کو تیار نہیں۔














