آزاد کشمیر حکومت کے وزیر چوہدری محمد اخلاق کے بیٹے عباس حسین کو برطانیہ میں منشیات کی فراہمی کے جرم میں 30 ماہ قید کی سزا سنادی گئی۔
باخبر ذرائع کے مطابق عباس حسین اخلاق، جو وزیر مال آزاد حکومت ریاست جموں و کشمیر چوہدری محمد اخلاق کے صاحبزادے ہیں، نے ایلس بری (Aylesbury) میں کلاس اے منشیات کی سپلائی میں ملوث ہونے کا اعتراف کیا تھا، جس کے بعد عدالت نے انہیں ڈھائی سال قید کی سزا سنائی۔
مزید پڑھیں: وفاقی اور آزاد کشمیر حکومت کی عوامی ایکشن کمیٹی کو ایک بار پھر مذاکرات کی دعوت
اطلاعات کے مطابق اکتوبر 2024 میں پولیس نے وارنٹ کے تحت ان کی رہائش گاہ پر چھاپہ مارا جہاں سے کوکین، منشیات سے متعلق آلات، نقد رقم اور کئی موبائل فون برآمد ہوئے۔
تفتیش کے دوران ایک موبائل فون سے ایسے پیغامات بھی ملے جن میں منشیات کی فروخت کے اشتہارات اور خریداروں کی جانب سے موصول ہونے والی درخواستیں شامل تھیں۔
30 سالہ عباس حسین اخلاق کو ایلس بری کراؤن کورٹ نے 19 فروری کو سزا سنائی۔
عدالت نے برآمد ہونے والی نقد رقم ضبط کرنے، منشیات سے متعلق سامان تلف کرنے اور 228 پاؤنڈ بطور وکٹم سرچارج ادا کرنے کا حکم بھی دیا۔
ریکارڈ کے مطابق ملزم نے یکم ستمبر 2025 کو اسی عدالت میں جرم کا اعتراف کیا تھا، جبکہ ان پر یکم جولائی 2025 کو فرد جرم عائد کی گئی تھی۔
بکنگھم شائر پولیس کے مطابق پولیس منشیات کی سپلائی میں ملوث عناصر کے خلاف کارروائی جاری رکھے گی کیونکہ ایسی سرگرمیاں معاشرے پر منفی اثرات مرتب کرتی ہیں۔
مزید پڑھیں: بھارتی جارحیت سے شہدا کے ورثا و زخمی افراد کو معاوضہ، وفاق نے آزاد کشمیر حکومت کو کتنی رقم فراہم کی ہے؟
پولیس کے مطابق منشیات فروش نیٹ ورکس کے خاتمے کے لیے کھلی اور خفیہ دونوں نوعیت کی کارروائیاں جاری ہیں۔
واضح رہے کہ چوہدری محمد اخلاق کوٹلی کے حلقہ سہنسہ سے پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر آزاد کشمیر اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے تھے، بعدازاں وہ فارورڈ بلاک میں شامل ہوئے اور اس وقت بیرسٹر گروپ کے ساتھ پاکستان پیپلز پارٹی کا حصہ ہیں۔













