برطانیہ میں ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ گھروں میں استعمال ہونے والی بیٹریاں، جو ویپس، کھلونوں، ہیڈفونز اور گاڑیوں کی چابیوں میں لگی ہوتی ہیں اب گھریلو کچرے اور ری سائیکلنگ کے نظام میں آگ لگنے کی بڑی اور تیزی سے بڑھتی ہوئی وجہ بن رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: لیتھیم بیٹریاں کتنی کارآمد ہوتی ہیں اور مارکیٹ ریٹ کیا ہے؟
جزیرہ گرنزی کی انتظامیہ کے مطابق گزشتہ 4 برسوں کے دوران کچرا پروسیسنگ مراکز میں لگنے والی تقریباً 40 آگ کی وارداتیں بیٹریوں سمیت خطرناک اشیا کے غلط طریقے سے پھینکے جانے کے باعث پیش آئیں۔
حالیہ واقعے میں گرنزی کی ایک خاتون کو ایسے کھلونے کچرے میں پھینکنے پر، جن میں بیٹریاں لگی ہوئی تھیں، 11 ہزار 500 پاؤنڈ جرمانے کا سامنا کرنا پڑا جو بعد میں کم کر کے ایک ہزار پاؤنڈ کر دیا گیا۔
آئی لینڈ ویسٹ کی ڈائریکٹر فے گرائم کا کہنا ہے کہ خاص طور پر لیتھیئم آئن بیٹریاں آگ لگنے کے بڑھتے ہوئے خطرات کی بڑی وجہ بن رہی ہیں۔
ان کے مطابق جب بیٹریاں عام کچرے یا ری سائیکلنگ کے ڈبوں میں پھینک دی جاتی ہیں تو کچرا اٹھانے یا پروسیسنگ کے دوران بھاری مشینری سے دبنے یا پھٹنے کا خدشہ ہوتا ہے جس سے چنگاری پیدا ہو سکتی ہے اور آگ بھڑک سکتی ہے۔
اسی نوعیت کا ایک واقعہ سنہ 2018 میں بھی پیش آیا تھا جب ری سائیکلنگ کے سامان میں شامل ایک لیتھیئم بیٹری کو گرنزی کے ری سائیکلنگ سینٹر میں لگنے والی بڑی آگ کی ممکنہ وجہ قرار دیا گیا۔
اسی طرح سنہ 2025 میں گھریلو ویسٹ اینڈ ری سائیکلنگ سینٹر میں بھی ایک کنٹینر میں آگ لگنے کا واقعہ سامنے آیا جس کی وجہ غلط طریقے سے پھینکی گئی اشیا کو سمجھا گیا۔
مزید پڑھیے: بیٹری سے متعلق غلط فہمیاں جو فضائی سفر کے لیے خطرہ بن گئیں
فے گرائم کے مطابق اگر بیٹری کچرے میں شامل ہو جائے تو فوری طور پر آگ لگنے کا خطرہ پیدا ہو جاتا ہے کیونکہ غلط طریقے سے سنبھالنے کی صورت میں بیٹری سے چنگاری نکل سکتی ہے جو آگ کا باعث بنتی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ عملے، صارفین اور دیگر افراد کی حفاظت کے لیے ضروری ہے کہ بیٹریاں ہرگز عام کچرے میں نہ پھینکی جائیں۔
ماہرین نے عوام کو ہدایت کی ہے کہ بیٹریاں ہمیشہ مخصوص کلیکشن پوائنٹس پر جمع کرائی جائیں۔ گرنزی میں گھریلو ویسٹ اینڈ ری سائیکلنگ مراکز پر بیٹریاں جمع کرنے کے لیے خصوصی مقامات موجود ہیں جہاں سے انہیں محفوظ طریقے سے ری سائیکل کیا جاتا ہے اور بعد میں برطانیہ بھیجا جاتا ہے۔
ماہرین کے مطابق ویپس حالیہ برسوں میں ایک بڑا مسئلہ بن کر سامنے آئے ہیں کیونکہ بہت سے لوگوں کو علم نہیں ہوتا کہ ان میں بیٹریاں لگی ہوتی ہیں۔
اسی طرح گاڑیوں کی چابیاں، کھلونے، ری چارج ہونے والے آلات اور چھوٹے گھریلو برقی آلات میں بھی بیٹریاں موجود ہوتی ہیں، اس لیے کچرا پھینکنے سے پہلے اشیا کو اچھی طرح چیک کرنا ضروری ہے۔
ماہرین نے مزید خبردار کیا ہے کہ بیٹریوں کے علاوہ فلیئرز، گیس کینسٹرز، باربی کیو یا کیمپنگ گیس سلنڈر اور آتش بازی جیسی اشیا بھی عام کچرے میں نہیں پھینکنی چاہئیں کیونکہ یہ شدید خطرناک ثابت ہو سکتی ہیں۔
مزید پڑھیں: استعمال شدہ الیکٹرک گاڑی میں بیٹری کتنی کارگر ہوتی ہے؟
ان اشیا کو تلف کرنے کے لیے مخصوص اور محفوظ طریقہ کار اختیار کرنا ضروری ہے۔












