وزیراعظم پاکستان شہباز شریف کی زیر صدارت خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال کے تناظر میں ملک میں غذائی صورتحال اور وافر اشیائے خورونوش کی برآمدات سے متعلق ایک اہم جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔
اجلاس میں وزیراعظم نے ہدایت دی کہ ملکی غذائی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے اشیائے خورونوش کی طلب اور رسد کی مکمل نگرانی یقینی بنائی جائے۔
مزید پڑھیں: چین کو اشیاء اور خدمات کی پاکستانی برآمدات میں 40 فیصد اضافہ
بریفنگ میں بتایا گیا کہ پاکستان میں اشیائے خورونوش کا وافر ذخیرہ موجود ہے اور کسی بھی چیز کی قلت نہیں۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ عالمی سپلائی چینز متاثر ہونے کے باعث خطے میں پاکستانی مصنوعات کی برآمدات کی استعداد میں اضافہ ہوا ہے۔
انہوں نے ہدایت کی کہ موجودہ صورتحال میں خلیجی ممالک کو درکار اشیائے خورونوش کی فراہمی اور ان کے غذائی تحفظ کو مدنظر رکھا جائے۔
وزیراعظم نے ہدایت دی کہ پاکستانی غذائی ضروریات کو متاثر کیے بغیر وافر مقدار میں دستیاب اشیائے خورونوش کی خلیجی ممالک کو برآمد کے لیے جامع لائحہ عمل تیار کیا جائے۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ برادر خلیجی ممالک کو برآمد کی جانے والی اشیائے خورونوش کا اعلیٰ معیار یقینی بنایا جائے۔
اجلاس میں یہ بھی ہدایت کی گئی کہ پی این ایس سی بحری راستے کے ذریعے برادر خلیجی ممالک کو اشیائے خورونوش برآمد کرنے کے لیے ضروری اقدامات کرے۔ اجلاس کو ملک میں موجود اشیائے خورونوش کے موجودہ ذخائر اور پیداوار کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ پاکستان کے زرعی شعبے بشمول زرعی اجناس، گوشت، پولٹری، ڈیری اور سی فوڈ میں برآمدات کی وسیع استعداد موجود ہے۔
وزیرِ اعظم نے اس حوالے سے ایک کمیٹی تشکیل دینے کی ہدایت بھی کی جو روزانہ کی بنیاد پر صورتحال کا جائزہ لے گی۔ ساتھ ہی وزیرِاعظم نے برادر خلیجی ممالک میں تعینات سفیروں اور تجارتی افسران کو متحرک رہنے کی ہدایت بھی کی۔
مزید پڑھیں: مشرق وسطیٰ میں جنگی صورتحال کے پیش نظر پاکستان میں کن اشیا کی قیمتوں میں کمی متوقع ہے؟
اجلاس میں نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار، وفاقی وزرا جام کمال خان، رانا تنویر حسین، احد چیمہ، معاون خصوصی ہارون اختر اور متعلقہ اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔
اس کے علاوہ صوبائی چیف سیکریٹریز اور متعلقہ شعبوں کی نجی ایسوسی ایشنز کے نمائندگان بھی موجود تھے۔














