سندھ کے ضلع نوشہرو فیروز میں لاہور جانے والی شالیمار ایکسپریس مال گاڑی سے ٹکرانے کے بعد پٹری سے اتر گئی، جس کے نتیجے میں ایک شخص جاں بحق اور 13 زخمی ہوگئے۔
زخمیوں کو ریسکیو 1122 نے فوری طور پر مدد فراہم کی اور ابتدائی طبی امداد دی، زخمیوں کی عمریں 15 سے 60 سال کے درمیان ہیں۔
ریسکیو 1122 نے ایک شخص کی موت کا دعویٰ کیا ہے، تاہم پاکستان ریلوے کے چیف ایگزیکٹو آفیسر عامر علی بلوچ نے دعویٰ کیا کہ اس حادثے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق جب شالیمار ایکسپریس لاکھا روڈ اسٹیشن کے قریب پہنچی تو اچانک وہاں پر کھڑی مال گاڑی سے ٹکرا گئی جس کے نتیجے میں چند کوچیں پٹری سے اتر گئیں۔
شالیمار ایکسپریس کے ڈرائیور حاجی فیاض نے بتایا کہ بریک صحیح کام نہیں کررہی تھی، جس کے باعث حادثہ پیش آیا۔
حادثے کے بعد مرکزی لائن پر ٹریفک متاثر ہوئی اور ریلیف ٹرین بھیجا گیا تاکہ پٹری کو کلیئر کیا جا سکے۔
پاکستان ریلوے کے ترجمان کے مطابق حادثے کی تحقیقات کے لیے 3 رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔
سی ای او عامر علی بلوچ کا کہنا ہے کہ ممکنہ طور پر ڈرائیور کی غفلت اس حادثے کی وجہ بنی، تاہم حتمی نتائج کمیٹی کی رپورٹ کے بعد ہی سامنے آئیں گے۔














