سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے نجکاری کا اجلاس پارلیمنٹ ہاؤس میں چیئرمین کمیٹی سینیٹر افنان اللہ خان کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں پاکستان منرلز ڈیولپمنٹ کارپوریشن (پی ایم ڈی سی) اور پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز (پی آئی اے سی ایل) کی نجکاری سے متعلق امور، اثاثوں، مالی کارکردگی اور ملازمین کو فراہم کی جانے والی سہولیات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
پاکستان منرلز ڈیولپمنٹ کارپوریشن کے مینیجنگ ڈائریکٹر انجینیئر اسد احمد نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ادارے کے پاس ملک بھر میں وسیع معدنی ذخائر موجود ہیں۔
مزید پڑھیں: پی آئی اے کی نجکاری میں نئی پیشرفت، ایف ایف سی کی خریدار کنسورشیم میں شمولیت منظور
انہوں نے بتایا کہ کوئلے کی کانیں ڈگاری، شاریغ اور لاکھڑا میں 17 ہزار 363 ایکڑ رقبے پر پھیلی ہوئی ہیں جبکہ نمک کے معدنی ذخائر 22 ہزار 737 ایکڑ پر محیط ہیں۔ اس کے علاوہ صابن پتھر (سوپ اسٹون) کے ذخائر قریباً 7 ہزار ایکڑ پر موجود ہیں۔
کمیٹی کو بتایا گیا کہ بلوچستان کے اضلاع پشین اور ژوب میں قریباً 2 لاکھ 46 ہزار 753 ایکڑ رقبے پر معدنیات کی تلاش کا عمل جاری ہے اور اس مقصد کے لیے 3 سالہ لائسنس جاری کیے گئے ہیں۔
بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ پی ایم ڈی سی کا ہیڈ آفس اسلام آباد میں 40 کنال پر قائم ہے جبکہ حیات آباد میں علاقائی دفتر 15 کنال اور کوئٹہ کینٹ میں برانچ آفس 33 کنال پر واقع ہے۔ کھیوڑہ میں نمک کے ذخائر 18 ہزار 192 کنال پر پھیلے ہوئے ہیں جبکہ ملک بھر میں نمک کے مجموعی ذخائر کا رقبہ 51 ہزار 426 کنال بتایا گیا۔
کمیٹی کو آگاہ کیا گیا کہ بعض اراضی نجی کمپنیوں کو لیز پر دی گئی ہے۔ مثال کے طور پر کھیوڑہ منصوبے کے لیے 1120 کنال زمین سالانہ 5 لاکھ روپے کرایہ پر دی گئی ہے جبکہ ایک اور کمپنی کو 56 کنال زمین سالانہ ایک لاکھ 13 ہزار 780 روپے کے عوض فراہم کی گئی ہے۔
کمیٹی اراکین نے ان کرایوں کو مارکیٹ ریٹ کے مقابلے میں انتہائی کم قرار دیتے ہوئے معاہدوں پر نظرثانی کی ہدایت کی۔
چیئرمین کمیٹی نے متعلقہ کمپنیوں کے ساتھ لیز معاہدوں کا ازسرنو جائزہ لے کر کرایوں میں اضافہ کرنے کی سفارش کی۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ بلوچستان میں کان کنی کی زمین 30 سال کے لیے لیز پر دی جاتی ہے۔ کوئلے کی فی ٹن پیداوار پر پی ایم ڈی سی کو 2500 روپے ملتے ہیں جبکہ پیداوار کی لاگت قریباً 17 ہزار روپے فی ٹن ہے۔ ادارے کی سالانہ آمدن قریباً ایک ارب روپے جبکہ ٹیکس سے قبل مجموعی آمدن قریباً ڈھائی ارب روپے ہے۔
کمیٹی اراکین نے اسے کم قرار دیتے ہوئے کارکردگی بہتر بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔
سیکریٹری نجکاری کمیشن عثمان باجوہ نے پی آئی اے کی نجکاری کے عمل سے متعلق بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ نجکاری کے معاہدے کی مالی تکمیل اپریل کے اختتام تک متوقع ہے۔
انہوں نے کہاکہ عارف حبیب کی سربراہی میں قائم کنسورشیم نئی انتظامیہ اور چیف ایگزیکٹو آفیسر کی تقرری کے لیے اقدامات کررہا ہے جبکہ کابینہ کمیٹی کی منظوری کے بعد فوجی فرٹیلائزر کمپنی کو بھی کنسورشیم میں شامل کیا جائےگا۔
کمیٹی کو بتایا گیا کہ کنسورشیم نے پی آئی اے ایکویٹی لمیٹڈ کے نام سے نئی کمپنی قائم کردی ہے جس میں تمام شیئر ہولڈرز شامل ہوں گے اور نجکاری کے عمل میں اب کوئی بڑی رکاوٹ باقی نہیں رہی۔ اس عمل کی نگرانی کے لیے دو ورکنگ گروپس بھی تشکیل دیے گئے ہیں جو مرکزی اسٹیئرنگ کمیٹی کو رپورٹ کریں گے۔
پی آئی اے ہولڈنگ کمپنی لمیٹڈ کے اثاثوں کے بارے میں بریفنگ دیتے ہوئے حکام نے بتایا کہ کمپنی کی مختلف جائیدادوں کی مجموعی مالیت قریباً 12 ارب روپے ہے جبکہ قریباً 180 ارب روپے کے واجبات بھی ہولڈنگ کمپنی کو منتقل کیے جا چکے ہیں۔ اسلام آباد کے نیو بلیو ایریا میں واقع ایک پلاٹ کی مالیت قریباً 3 ارب روپے بتائی گئی۔
پی آئی اے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ قومی ایئر لائن نے 2024 کے دوران 7.3 ارب روپے منافع حاصل کیا جبکہ سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کو 26 ارب روپے منافع رپورٹ کیا گیا ہے۔
اجلاس میں پی آئی اے کے ریٹائرڈ ملازمین اور پینشنرز کو فراہم کی جانے والی طبی سہولیات پر بھی غور کیا گیا۔ حکام کے مطابق ایئر لائن کے تقریباً 16 ہزار 500 پینشنرز ہیں جن میں سے 12 ہزار 500 فعال ہیں۔
اسٹیٹ لائف انشورنس کارپوریشن آف پاکستان کی جانب سے پیش کی گئی میڈیکل انشورنس تجاویز کو موزوں قرار دیتے ہوئے منظور کر لیا گیا اور بتایا گیا کہ ملک بھر کے مختلف اسپتالوں کے ساتھ انتظامات کیے جا رہے ہیں۔
چیئرمین کمیٹی سینیٹر افنان اللہ خان نے ریٹائرڈ ملازمین کی جانب سے موصول شکایات کا نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ انہیں بہتر طبی سہولیات فراہم کرنے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔
اجلاس کے دوران کمیٹی اراکین نے پی آئی اے کی جائیدادوں، نجکاری کے مختلف پہلوؤں اور نئے طیاروں کی خریداری پر جی ایس ٹی رعایت سے متعلق بھی سوالات اٹھائے۔
مزید پڑھیں: اسلام آباد ایئرپورٹ کی نجکاری، مالیاتی مشیر کی تقرری کے لیے مذاکراتی کمیٹی قائم
چیئرمین کمیٹی نے گوادر انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی اسٹریٹجک اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہاکہ مشرق وسطیٰ اور وسطی ایشیا کے قریب ہونے کی وجہ سے اس ایئرپورٹ کو علاقائی ہوابازی کے مرکز کے طور پر مؤثر انداز میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔
اجلاس میں سینیٹر انوارالحق کاکڑ، بلال احمد خان اور پلوشہ محمد زئی خان نے شرکت کی جبکہ سابق رکن قومی اسمبلی چوہدری منظور احمد بطور خصوصی مدعو شریک ہوئے۔ جبکہ نجکاری کمیشن، نجکاری ڈویژن اور دیگر متعلقہ اداروں کے اعلیٰ حکام بھی اجلاس میں موجود تھے۔














