افواج پاکستان کی جانب سے افغانستان میں دہشتگردوں کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں، اور اب کابل کی جانب سے یہ پروپیگنڈا کیا جارہا ہے کہ پاکستان کی جانب سے شہری علاقوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
افغانستان میں طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کے اس دعوے پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں جس میں انہوں نے کہا تھا کہ پاکستان کی جانب سے دہشتگردوں کے ٹھکانوں پر کیے گئے حملوں کے دوران کابل میں منشیات کے عادی افراد کے ایک اسپتال کو نشانہ بنایا گیا۔
مزید پڑھیں: پاک افغان جنگ بندی کے لیے ترکیہ اور ایران سرگرم، کیا اس بار کوششیں کامیاب ہوسکیں گی؟
تجزیہ کاروں کے مطابق ماضی میں بھی ایسا دیکھا گیا ہے کہ جب دہشتگردی سے منسلک کسی مقام کو نشانہ بنایا جاتا ہے تو بعد ازاں اسے کسی شہری ادارے یا اسپتال کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔
بین الاقوامی رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ افغان سرزمین پر متعدد شدت پسند تنظیمیں اور ہزاروں غیر ملکی جنگجو موجود ہیں۔ ان میں تحریک طالبان پاکستان اور القاعدہ جیسے گروہ بھی شامل بتائے جاتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کی کارروائیاں ان نیٹ ورکس کے خلاف کی جاتی ہیں جو سرحد پار دہشتگردی کی منصوبہ بندی اور معاونت میں ملوث ہوتے ہیں۔
ان کے مطابق ایسے بیانات اکثر اس وقت سامنے آتے ہیں جب دہشتگردی سے متعلق مراکز کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔
مزید پڑھیں: پاک افغان جنگ کے تناظر میں سرمایہ کار کیا سوچتے ہیں؟
تجزیہ کاروں کے مطابق اصل مسئلہ کسی مبینہ اسپتال کا نہیں بلکہ افغان سرزمین پر سرگرم وہ شدت پسند نیٹ ورک ہیں جو خطے کے امن و استحکام کے لیے چیلنج بنے ہوئے ہیں۔
واضح رہے کہ افواج پاکستان کا افغانستان میں دہشتگردوں کے خلاف آپریشن غضب للحق جاری ہے، جس میں اب تک سینکڑوں دہشتگرد ہلاک ہو چکے ہیں۔














