پاک افغان جنگ کے تناظر میں سرمایہ کار کیا سوچتے ہیں؟

جمعہ 27 فروری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

کسی ملک کی سرحدوں پر غیریقینی صورتحال کا براہ راست اثر سرمایہ کاروں کے اعتماد پر پڑتا ہے، بات کی جائے پاکستان کی تو گزشتہ کم و بیش ایک برس کے دوران پاک افغان سرحد پر کشیدگی دیکھنے میں آئی ہے جس کی وجہ افغانستان کی سر زمین سے پاکستان میں دہشتگردی کے واقعات کرانا ہے۔

سوال یہ ہے کہ پاکستان کی جانب سے افغانستان میں دہشتگردوں کے ٹھکانوں پر کامیاب حملوں کے بعد  پیدا ہونے والی صورت حال سے مستقبل میں پاکستان کی معیشت پر اثرات کیا ہو سکتے ہیں؟

معاشی ماہر سلمان نقوی کا کہنا ہے کہ سرحدی تناؤ یا کسی بھی فوجی تصادم کی خبر مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال پیدا کرتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پاک افغان کشیدگی کے باعث اسٹاک مارکیٹ میں شدید مندی، انڈیکس 3 ہزار سے زائد پوائنٹس گرگیا

یہ بھی ’سرمایہ کار، خاص طور پر غیر ملکی فنڈز، خطرے سے بچنے کے لیے اپنے حصص فروخت کرنا شروع کر دیتے ہیں، جس سے انڈیکس میں اچانک بڑی گراوٹ دیکھنے میں آتی ہے۔‘

 ان کا کہنا ہے کہ لیکن یہ وہ صورتحال نہیں جو پاک بھارت جنگ کے دوران بنی تھی۔ ’ہمارا انداہ ہے کہ یہ جنگ جلد ختم ہو جائے گی اگر جنگ ختم ہو جاتی ہے تو اگلے کاروباری ہفتے کا تیزی سے آغاز کا امکان ہے۔‘

سینیئر صحافی و تجزیہ کار تنویر ملک نے وی نیوز کو بتایا ہے کہ پاکستان کی جانب سے افغانستان میں دہشتگردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کے بعد آج اسٹاک مارکیٹ میں کاروباری دن کا آغاز منفی ہوا۔

مزید پڑھیں: اسٹاک مارکیٹ بلند ترین سطح پر پہنچ کر مندی سے دوچار، کیا معیشت خطرے میں ہے؟

لیکن منفی آغاز کے بعد اسٹاک مارکیٹ نے ریکوری شروع کی، جس کی وجہ یہ ہے کہ ایک بات تو سب کے علم میں ہے کہ افغانستان کی جانب سے دہشتگردی کی کاروائیاں ہو رہی ہیں دوسری جانب اگر دونوں ممالک کا تقابل کیا جائے تو سرمایہ کاروں کے علم میں یہ بات واضع ہے کہ پاکستان ایک مضبوط ملک ہے جسکی وجہ سے سرمایہ کار پر اعتماد نظر آتے ہیں۔

تنویر ملک کا کہنا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کا کوئی مقابلہ بنتا نہیں ہے ہاں افغانستان دہشتگردی کی کارائیوں کی کوشش تو کرسکتا ہے لیکن روایتی جنگ نہیں کرسکتا، جو بھی جنگ ہو مارکیٹ پر منفی اثرات چھوڑتی ہے۔

’۔۔۔لیکن اس وقت معاملہ یہ ہے کہ پاکستانی مارکیٹ پر سرمایہ کاروں کا اعتماد ہے، آئی ایم ایف کمیشن بھی پاکستان میں موجود ہے، آنے والے دنوں میں مارکیٹ میں بہتری نظر آنے کا امکان ہے۔‘

مزید پڑھیں: پاک افغان سرحد پر کشیدگی: چمن میں ایمرجنسی نافذ، طبی مراکز ہائی الرٹ

اسٹاک مارکیٹ کے ماہر شہریار بٹ کا کہنا ہے کہ اسٹاک مارکیٹ جذبات پر چلتی ہے، 2 ملکوں کے درمیان کوئی بھی کشیدگی نہ صرف مقامی سرمایہ کار کو خوفزدہ کرتی ہے بلکہ بین الاقوامی ریٹنگ ایجنسیوں کے لیے بھی منفی سگنل بھیجتی ہے۔

’تاہم، ماضی میں دیکھا گیا ہے کہ جوں ہی سیاسی بات چیت شروع ہوتی ہے، مارکیٹ تیزی سے ریکور بھی کرتی ہے۔‘

مزید پڑھیں: اسٹاک ایکسچینج میں زبردست دباؤ، 100 انڈیکس میں تقریباً 4 فیصد کمی ریکارڈ

شہریار بٹ کا کہنا ہے کہ پاکستان اسٹاک مارکیٹ پاک افغان کشیدگی سے پہلے گراوٹ کا سامنا کر چکی ہے اور اس وقت ریکور کر رہی ہے، ہماری جنگیں بھارت سے بڑی تعداد میں ہوئی لیکن موجودہ صورت حال بالکل مختلف ہے۔

’اس کی وجہ یہ ہے کہ پاک بھارت جنگ میں 2 جوہری اور طاقت ور ممالک آمنے سامنے ہوتے ہیں جبکہ پاک افغان جنگ میں سرمایہ کار محسوس کر رہے ہیں کہ پاکستان ایک مضبوط ملک ہے اس لیے سرمایہ کار اپنا سرمایہ محفوظ سمجھ رہے ہیں۔‘

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

کیا مصنوعی ذہانت انسان کے قابو سے باہر ہو رہی ہے؟ اوپن اے آئی کے ماڈل نے ٹیسٹ کے دوران حدود توڑ دیں

مودی کا مؤقف مسترد، کاکروچ جنتا پارٹی کا احتجاج میں تیزی لانے کا اعلان، حکومت نے پھر مہلت مانگ لی

کراچی: لی مارکیٹ میں کھدائی کے دوران 2 مجسمے برآمد، ماہرین نے تحقیق شروع کر دی

خیبر پختونخوا میں 27 جولائی تک بارشوں اور تیز ہواؤں کی پیشگوئی، پی ڈی ایم اے کا الرٹ جاری

سوشل میڈیا نے تخلیقی صلاحیتوں کو محدود کر دیا، لوگ صرف ٹرینڈز کے پیچھے بھاگ رہے ہیں، جاوید اختر

ویڈیو

پاکستان کا دوٹوک انتباہ، حوثی باغیوں کی خیر نہیں، ایران کا بڑا اعلان، امریکا کی چال بھی ناکام

مودی نے طلبا کے سامنے گھٹنے ٹیک دیے، بھارتی ایجنسی کس طرح پاکستانی صحافیوں کو استعمال کرنے کی کوشش کررہی ہے؟

قدیم انجینیئرنگ سے دنیا حیران، 2 ہزار سال پرانا چینی تالا جسے کھولنے کے لیے محض چابی نہیں بڑا دماغ بھی چاہیے

کالم / تجزیہ

قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں

مشرقِ وسطیٰ میں پاکستان کا ابھرتا ہوا کردار

شفاف انتخابات کا فریب