وقاحت کا زمانہ

منگل 17 مارچ 2026
author image

ساشا جاوید ملک

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ہمارے عہد کی شاید سب سے حیران کن حقیقت جنگیں نہیں، بلکہ ان جنگوں کے گرد موجود بے شرمی کی جسارت ہے۔

ظلم تاریخ میں ہمیشہ موجود رہا ہے۔ سلطنتیں طاقت کے زور پر قائم ہوئیں، جنگیں لڑی گئیں، اور کمزور قومیں بار ہا روندی گئیں۔ لیکن ان تمام ادوار میں ایک چیز اکثر باقی رہتی تھی: ظلم کو کم از کم کسی اخلاقی پردے میں چھپانے کی کوشش۔

آج مسئلہ صرف یہ نہیں کہ ظلم ہو رہا ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ ظلم کو کھلے عام درست قرار دینے کی وقاحت پیدا ہوچکی ہے۔ یہی ہمارے زمانے کی اصل کہانی ہے۔

دنیا کے نقشے پر کچھ شہر ایسے ہیں جو اب صرف جغرافیہ نہیں رہے، بلکہ عالمی ضمیر کے زخم بن چکے ہیں۔ تہران، اصفہان، بیروت اور غزہ۔ یہ شہر ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ جدید دنیا، جو خود کو قانون، انسانی حقوق اور تہذیب کا محافظ کہنے کا دعویٰ کرتی ہے، دراصل کتنی بار انہی اصولوں کو روند چکی ہے۔

عالمی سیاست میں ایک پرانا طریقہ کار ہے: پہلے جنگ چھیڑو، پھر اسے دفاع کا نام دو، اور آخر میں خود کو مظلوم ثابت کرو۔ یہی منطق ویتنام کی جنگ میں استعمال ہوئی۔ یہی منطق عراق کی تباہی کے گرد گھڑی گئی۔ یہی دلیل افغانستان کی طویل جنگ میں دہرائی گئی۔ اور اب مشرقِ وسطیٰ کے کئی خطوں میں وہی پرانا بیانیہ ایک نئی شکل میں سامنے آرہا ہے۔

ہسپتالوں پر بمباری، شہری آبادیوں کی تباہی، عورتوں اور بچوں کی اموات، یہ سب اب عالمی ضمیر کو جھنجھوڑنے کے بجائے ایک معمولی خبر بن کر رہ گئے ہیں۔

لیکن شاید اس وقت سب سے زیادہ تشویشناک پہلو صرف جنگ نہیں بلکہ اس جنگ کے گرد موجود خاموشی اور منافقت ہے۔

بین الاقوامی میڈیا کے بڑے ادارے، جو خود کو سچائی اور آزادیِٔ اظہار کے علمبردار کہتے ہیں، اکثر انہی طاقتوں کے بیانیے کو دہراتے نظر آتے ہیں جن کے فیصلوں نے دنیا کے کئی خطوں کو کھنڈر بنا دیا ہے۔

انسانی حقوق کا معیار بھی اب عجیب طریقے سے بدل چکا ہے۔ کچھ زندگیاں قیمتی سمجھی جاتی ہیں اور کچھ کو محض ’ضمنی نقصان‘ کہہ کر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔

درحقیقت عالمی سیاست میں جنگ صرف میدانِ جنگ میں نہیں لڑی جاتی، بلکہ بیانیے میں بھی لڑی جاتی ہے۔ دنیا کو بتایا جاتا ہے کہ کون مہذب ہے، کون خطرہ ہے، اور کون سی جنگ ضروری ہے۔

جب کسی خطے کو مسلسل عدم استحکام، شدت پسندی یا خطرے کی علامت بنا کر پیش کیا جائے تو اس کے خلاف کی جانے والی جارحیت بھی آسانی سے جائز قرار دی جا سکتی ہے۔ اس طرح طاقت صرف فوجی برتری کے ذریعے نہیں، بلکہ علم، میڈیا اور بیانیے کے ذریعے بھی قائم رہتی ہے۔

یہی وہ لمحہ ہے جب عالمی سیاست ایک عجیب تھیٹر میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ طاقتور رہنما ٹیلی ویژن اسکرینوں پر کھڑے ہو کر جنگی بیانات دیتے ہیں اور دنیا کو یہ یقین دلانے کی کوشش کرتے ہیں کہ یہی راستہ امن اور استحکام کی ضمانت ہے۔

پچھلے چند برسوں میں عالمی سیاست کی زبان میں بھی ایک نمایاں تبدیلی آئی ہے۔ سفارت کاری جو کبھی محتاط الفاظ اور تدبر پر قائم ہوتی تھی، اب اکثر طاقت کے جارحانہ مظاہرے میں تبدیل ہوتی نظر آتی ہے۔ عالمی سیاست ایک ایسے منظرنامے میں داخل ہو چکی ہے جہاں طاقت کا اظہار ہی سب سے بڑا پیغام بن گیا ہے۔

لیکن اس پورے منظرنامے کا سب سے گہرا اثر شاید صرف عالمی سیاست تک محدود نہیں رہا۔ یہ رویہ معاشروں کے اندر بھی سرایت کرچکا ہے۔ آج کل ایک لفظ بار بار سنائی دیتا ہے “The Audacity” ۔

لوگ اسے طنز کے طور پر استعمال کرتے ہیں، کبھی حیرت کے طور پر، اور کبھی کسی کی بے شرمی بیان کرنے کے لیے۔ لیکن اگر غور کیا جائے تو یہ محض ایک لفظ نہیں، بلکہ ہمارے عہد کی سماجی نفسیات کی علامت بن چکا ہے۔

سوشل میڈیا کے مباحث، سیاسی گفتگو اور روزمرہ انسانی تعلقات میں بھی ایک عجیب قسم کی بے باکی بڑھتی جا رہی ہے۔ ایک ایسی بے باکی جس میں لوگ نہ صرف غلطی کرتے ہیں بلکہ اس پر شرمندہ ہونے کے بجائے اسے اعتماد اور طاقت سمجھنے لگتے ہیں۔

ریاستوں کے رویے اور معاشروں کے رویے کے درمیان ہمیشہ ایک گہرا تعلق ہوتا ہے۔ جب طاقت کے ایوانوں میں بیٹھے لوگ کھلے عام طاقت کے استعمال کو جائز قرار دیتے ہیں تو اس کا اثر آہستہ آہستہ معاشروں کے اندر بھی پھیلنے لگتا ہے۔

زبان بدل جاتی ہے، اخلاقی حدود دھندلا جاتی ہیں، اور بے شرمی کو خود اعتمادی سمجھ لیا جاتا ہے۔

تاریخ ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ ظلم صرف طاقت کے ذریعے قائم نہیں رہتا، بلکہ اس کے معمول بن جانے سے قائم رہتا ہے۔ جب معاشرے مسلسل جنگ، تباہی اور ناانصافی کو دیکھتے دیکھتے اس کے عادی ہو جائیں تو اخلاقی ردِعمل آہستہ آہستہ کمزور پڑنے لگتا ہے۔ اس مرحلے پر ظلم کوئی غیر معمولی واقعہ نہیں رہتا بلکہ ایک انتظامی عمل، ایک خبر، یا ایک پالیسی بن جاتا ہے۔

یوں لگتا ہے جیسے پوری دنیا ایک ایسے دور میں داخل ہو چکی ہے جہاں طاقت، ڈھٹائی اور بےشرمی کے درمیان فرق مٹتا جا رہا ہے۔

اور شاید اس سوال سے جنوبی ایشیا بھی الگ نہیں ہے۔ اس خطے کی تاریخ بھی بڑی طاقتوں کی سیاست، جنگوں اور جغرافیائی کشمکش سے بھری ہوئی ہے۔ یہاں کی ریاستیں بھی اکثر عالمی طاقت کے کھیل کا حصہ بنتی رہی ہیں، اور یہاں کے معاشرے بھی اسی عالمی بیانیے کے اثرات سے مکمل طور پر محفوظ نہیں رہے۔

یہی وجہ ہے کہ اس خطے کے لیے یہ بحث صرف نظریاتی نہیں بلکہ عملی بھی ہے۔ لیکن تاریخ ہمیں ایک اور سبق بھی دیتی ہے۔ ہر وہ نظام جو ظلم، دھوکے اور ناانصافی پر قائم ہوتا ہے، بالآخر اپنے تضادات کے بوجھ تلے ٹوٹ جاتا ہے۔ دنیا کے کئی حصوں میں نوجوان نسل پہلے ہی اس بیانیے کو چیلنج کر رہی ہے۔ یونیورسٹیوں میں ہونے والے مظاہرے، سڑکوں پر اٹھنے والی آوازیں اور انسانی حقوق کے لیے ابھرتی ہوئی عالمی تحریکیں اس بات کا اشارہ دیتی ہیں کہ یہ کہانی ابھی ختم نہیں ہوئی۔

شاید یہی امید کا واحد امکان ہے۔ کیونکہ اگر دنیا کو واقعی ایک زیادہ منصفانہ سمت میں لے جانا ہے تو سب سے پہلے ہمیں اس بےشرم ڈھٹائی  (audacity)کو پہچاننا ہوگا ۔ وہ جسارت جس کے ذریعے طاقتور جنگ کو امن اور ظلم کو انصاف بنا کر پیش کرتے ہیں۔

اور شاید ہمارے زمانے کا سب سے خطرناک لمحہ یہی ہے کہ تباہی کے دہانے پر کھڑی دنیا میں طاقت کے ایوان اب بھی مطمئن نظر آتے ہیں۔ تاریخ ہمیں ایک سادہ مگر سخت سبق دیتی ہے کہ طاقت اکثر جنگیں جیت لیتی ہے، مگر اخلاقی جواز ہمیشہ تاریخ کے ہاتھ میں رہتا ہے۔

اور جب ظلم معمول بن جائے تو خاموشی خود ایک جرم بن جاتی ہے۔ شاید آنے والی نسلیں ہم سے یہی پوچھیں گی، کیا ہم نے اس زمانے کی وقاحت کو پہچانا تھا؟ یا ہم بھی اس کے عادی ہو گئے تھے۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

ساشا جاوید ملک صحافی، محقق، اُستاد اور انسانی حقوق کی کارکن ہیں۔ وہ محنت کش طبقے، خواتین کے حقوق، ریاست و سماج کے تعلقات اور عالمی سیاست پر لکھتی ہیں، اور ان کی تحریریں قومی و بین الاقوامی اخبارات میں شائع ہوتی ہیں۔

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

بلوچستان: منگلہ زرغون غر میں آپریشن کے دوران 35 سے زیادہ دہشتگرد ہلاک، 3 کمانڈرز گرفتار

ایران کے لیے وقت تیزی سے ختم ہورہا ہے، اسے فوری اقدامات کرنا ہوں گے، ڈونلڈ ٹرمپ کی تہران کو وارننگ

اسلام آباد میں امریکا ایران مذاکرات کے دوسرے دور کے لیے کوششیں جاری ہیں، وزیراعظم شہباز شریف

اسحاق ڈار اور مصری وزیر خارجہ کے درمیان رابطہ، علاقائی صورت حال پر تبادلہ خیال

سعودی عرب میں ذوالحج کا چاند نظر آگیا، عیدالاضحیٰ 27 مئی کو منائی جائےگی

ویڈیو

چین سے امریکا اور ایران تک، دنیا کا پاکستان پر اعتماد، اسلام آباد کے شہریوں کی حکومت اور پاک فوج کو خراجِ تحسین

معذور افراد کو بااختیار بنانے کے لیے مین اسٹریم سوشل آرگنائزیشن مشن امریکا کی کوششیں

حکومت اور آئی ایم ایف کے مابین مذاکرات جاری، آئندہ مالی سال کا بجٹ کیسا تیار ہونے جا رہا ہے؟

کالم / تجزیہ

قدم قدم سوئے حرم

میڈیا اور پروپیگنڈا

جب محافظ ہی زہر فروشوں کے نگہبان بن جائیں