کراچی میں بدھ کی رات ہونے والی شدید بارش اور تیز آندھی نے شہر کا نظام زندگی درہم برہم کر دیا، جہاں تیز ہواؤں کی رفتار 90 کلومیٹر فی گھنٹہ سے تجاوز کرگئی۔ خراب موسم کے باعث شہر کے بڑے حصے اندھیرے میں ڈوب گئے جبکہ مختلف حادثات میں کم از کم 16 افراد جان کی بازی ہار گئے۔
View this post on Instagram
بارش اور آندھی کے فوراً بعد سوشل میڈیا پر شہر بھر میں ہونے والی تباہی کی ویڈیوز اور تصاویر گردش کرنے لگیں، جن میں درخت اکھڑنے، گاڑیاں الٹنے اور تیز ہواؤں کے باعث مختلف اشیا سڑکوں پر بکھرتی دکھائی دیں۔
View this post on Instagram
اداکارہ ماہرہ خان بارش شروع ہونے کے وقت شوٹنگ میں مصروف تھیں۔ انہوں نے ایک ویڈیو شیئر کی جس میں سیٹ کا ایک حصہ گرنے اور عملے کو محفوظ مقام کی جانب دوڑتے دیکھا جاسکتا ہے۔
View this post on Instagram
اداکار عدنان صدیقی اور فہد مصطفیٰ ایک پروگرام کی ریکارڈنگ کررہے تھے کہ اسی دوران اسٹوڈیو کی چھت سے پانی ٹپکنا شروع ہوگیا، جس کے باعث فہد مصطفیٰ پھسلتے پھسلتے بچ گئے۔ تاہم دونوں فنکاروں نے مشکل صورتحال میں بھی حوصلہ برقرار رکھا۔
View this post on Instagram
شہر کے دیگر علاقوں میں عید سے قبل کی تقریبات بھی متاثر ہوئیں، جہاں تیز ہواؤں کے باعث کھانے اور زیورات کے اسٹالز کو نقصان پہنچا اور شرکا کو پناہ لینا پڑی۔ کئی ریسٹورنٹس کے کھلے حصوں کے بھی شدید متاثر ہونے کی اطلاعات ملیں۔
اداکار آغا علی نے اپنے گھر سے ویڈیوز شیئر کیں جن میں ان کے 12ویں منزل پر واقع اپارٹمنٹ کی کھڑکیوں سے پانی اندر آتا دکھائی دیا۔ انہوں نے پانی روکنے کے لیے تولیہ اور وزنی سامان استعمال کرنے کی کوشش کی۔
people in karachi, please stay safe. Stay indoors and help others provide shelter if you can to humans and animals both. please be kind.
— mojojojo🇵🇸 (@mojojojo1_011) March 18, 2026
مشکل گھڑی میں متعدد شخصیات نے کراچی کے شہریوں کے لیے دعائیں اور نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔ میزبان شائستہ لودھی نے رحمت کی دعا کی جبکہ اداکارہ سونیا حسین نے طوفان کے بعد واپسی کے دوران تباہی کے مناظر بیان کیے۔
Karachi took a stand. The High Court ordered the removal of unsafe billboards to protect citizens. Yet last night, the same skyline cluttered again not by necessity, but by quiet compromises and policy backtracking. Who allowed this return? #StormHour
— Marvi Mazhar (@marvimazhar) March 19, 2026
ماہر تعمیرات مروی مظہر نے شہر میں لگے اشتہاری بورڈز پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تیز ہواؤں کے دوران یہ عوامی سلامتی کے لیے خطرہ بن جاتے ہیں۔ انہوں نے عدالتوں کے سابقہ احکامات پر عملدرآمد نہ ہونے پر سوال اٹھایا اور کہا کہ ماضی کے تجربات سے سبق نہیں سیکھا جارہا۔
The Supreme Court of Pakistan banned billboards and hoardings on public property in #Karachi ordered in 2018 and 2022. This ruling mandated the removal of all advertising boards from roads, bridges, and greenbelts to ensure public safety and restore the city's urban landscape.
— Marvi Mazhar (@marvimazhar) March 19, 2026
ماہرین کے مطابق کراچی میں بارشوں سے تباہی کے واقعات پہلے بھی پیش آتے رہے ہیں اور آئندہ مون سون سیزن کے حوالے سے شہریوں میں خدشات بڑھ گئے ہیں۔














