بہت سی خوب صورت روایات جن سے ہمیں حقیقی مسرت کا احساس ہوتا تھا، دل کے تار ہلتے تھے، ہم انتظار کی لذت سے آشنا ہوتے تھے، بدلتے وقت کے ساتھ قدم ملا کر چلنے کی دھن میں ہم نے ان روایات کو ترک کردیا۔
اس زیاں کی ایک مثال عید کارڈ کا ہماری زندگیوں سے رخصت ہونا ہے۔ عید کے موقعے مختلف رنگوں کے یہ کارڈ کبھی ہمارے دل خوشی سے بھر دیتے تھے۔ اب سوشل میڈیا پر مبارک سلامت بہت ہے لیکن روح سے خالی پیغامات کی اس یلغار سے خوشی تو نہ جانے ہوتی ہے یا نہیں البتہ عجب سی بیگانگی کا احساس ہوتا ہے کیوں کہ یہ عید کارڈ کی طرح صرف آپ سے مخصوص نہیں ہوتے بلکہ ایک فرد کی طرف سے بہت سے لوگوں کے لیے ہوتے ہیں اور پھر وہ مرحلہ آجاتا ہے جب موبائل کے لیے یہ بوجھ بن جاتے ہیں، اس لیے انہیں جلد یا بدیر ڈیلیٹ کرتے ہی بنتی ہے۔
پائیدار تعلق کی نشانیاں بھی پائیدار ہوتی ہیں اور بودے رشتوں کے لیے ذریعۂ اظہار بھی بودا ہوتا ہے۔ ہمارے زمانے کی یہی ریت ہے۔
یہ بھی پڑھیں: صحافت کا افتخار اور فیض صاحب کا مرثیہ
عید کارڈ ایک کلک کی مار نہیں تھا، اس کے لیے آپ کو ذہن میں خاکہ بنانا پڑتا، آپ بازار جاتے، مختلف لوگوں کے لیے الگ طرز کا کارڈ منتخب کرتے، ان کی عبارت الگ ہوتی، کہیں شعر تو کہیں محبت بھرے فقرے سے اس میں رنگ بھرتے جاتے، یہ آپ کے ذوقِ سلیم کی خبر دیتا تھا۔ یہ نہیں کہ بس انگلی کے ہلکے سے ٹچ سے آپ کے سامنے مختلف جذبوں کے اظہار کے آپشن کھل گئے۔
عید کارڈ سے عام آدمی کی ماضی میں گہری جڑت کے بارے میں قصے کہانیاں اخبارات، الیکٹرانک میڈیا اور سوشل میڈیا کے ذریعے بیان ہوتی رہتی ہیں۔ انہیں دیکھ کر ادیبوں کے عید کارڈ سے رشتے کی چند مثالیں میرے بھی ذہن میں آئیں تو خیال ہوا انہیں بیان کردیا جائے۔
سب سے پہلے معروف فکشن نگار ہاجرہ مسرور کے ایک خط کی طرف ذہن منتقل ہوا جو انہوں نے سنہ 1973 میں عربی کے ممتاز سکالر اور اردو ادیب محمد کاظم کی طرف سے عید کارڈ موصول ہونے کے بعد لکھا تھا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک عید کارڈ آپ کی اداسی دور کرنے میں کیا کردار ادا کر سکتا ہے۔
ہاجرہ مسرور نے لکھا: ’احمد تو آنے والوں سے عید ملتے رہے اور میں مارے بیزاری کے چیخیں مارنے کے بارے میں سوچ رہی تھی۔ تب لاہور سے آپ کا عید کارڈ آگیا۔ محض عید کارڈ نہیں مکمل خط بھی۔ اسے پڑھتے ہوئے میں مسکرائی تو نوید کو تجسس ہوا۔ کچھ دیر یہ عید کارڈ ان کے زیر مطالعہ رہا اور وہ مسکرائی تو یہ مسکراہٹ نوشین نے مع عید کارڈ کے جھپٹ لی اور جب احمد کمرے میں آئے اور ہم تینوں کو مسکراتا پایا تو چکرا کر پوچھا خیریت تو ہے، چنانچہ نوید نے بڑے ادب سے آپ کا عید کارڈ دونوں ہاتھوں پر رکھ کر ان کی خدمت میں پیش کردیا۔ اس کے بعد باقی دن جیسا ہنسی خوشی میں ہمارا گزرا خدا کرے آپ سب کا دن بھی ایسا ہی گزرا ہو۔ ہاں ایک خیال ضرور آیا کہ اگر ڈاکیے صاحب یہ عید کارڈ عین عید کے دن لے آتے تو ان کا کیا بگڑ جاتا‘۔
یہ تو لاہور سے کراچی جانے والے عید کارڈ کا ذکر ہے جس سے لاہور کی چونا منڈی سے دلی کے ذاکر باغ جانے والے عید کارڈ کا خیال آرہا ہے۔ عید پر یہ کارڈ معروف ادیب انور سجاد اور ان کی اہلیہ رتی نے نامور نقاد شمیم حنفی کو ارسال کیا تھا جس میں ان کے ساتھ ساتھ ان کی اہلیہ صبا اور بیٹیوں سیمیں اور غزل کو بھی عید کی بہت بہت مبارک باد دی گئی تھی۔ وہ عید کارڈ صبا شمیم نے سینت کر رکھا ہے جس میں انور سجاد اور رتی کی ان کے خانوادے سے اپنایت کی خوشبو بسی ہے۔
عید کارڈ پاکستان سے ہی نہیں جاتے تھے انڈیا سے بھی یہاں آتے تھے۔ عید جن کا مذہبی تہوار نہیں تھا، ان کی طرف سے عید کارڈ آنا زیادہ معنویت کا حامل ہے کیوں کہ ان میں بین المذاہب ہم آہنگی کی مہکار رچی ہوتی تھی۔
لاہور میں ادب اور کتابوں کے شیدائی عاصم کلیار کا گھر صرف نادرو نایاب کتابوں کا خزانہ نہیں ہے بلکہ یہاں ادبی نوادرات کا بیش بہا ذخیرہ بھی ہے۔ اس خزینے میں جن مختلف ادیبوں کے ڈاکٹر وزیر آغا کے نام آنے والے عید کارڈ محفوظ ہیں ان میں گوپی چند نارنگ، ہرچرن چاولہ اور راجندر ملہوترہ شامل ہیں۔ عاصم کلیار کے نام اشفاق احمد اور بانو قدسیہ کے عید کارڈ بھی میری نظر سے گزر چکے ہیں۔
معروف شاعر، نقاد اور رسالہ ’سائبان‘ کے مدیر حسین مجروح نے گزشتہ برس عید کارڈ کی دم توڑتی روایت کے احیاء کی مؤثر کوشش کی تھی اور ان کی سائبان تحریک کی طرف سے اس پیغام کے ساتھ ادیبوں شاعروں کو عید کارڈ ارسال کیے گئے تھے:
’عید کارڈ، ماضی قریب کی ایک خوب صورت روایت جو تقریباً معدوم ہو چلی لیکن سائبان تحریک تو روٹھی ہوئی خوشبوؤں کو منا لینے کی سفارت پر مامور ہے سو آپ کو اور آپ کے سبھی پیاروں دلاروں کو عید مبارک‘۔
ادیبوں کی عید کارڈ سے ذاتی وابستگی کے قصوں کے بعد کچھ تذکرہ منٹو کے ریڈیائی ڈرامے ’عید کارڈ‘ کا۔ ڈرامے میں جنگ کے بارے میں مضمون کے ترجمے میں منہمک اور عید کارڈ کو ناپسند کرنے والے مسعود کو ان دوستوں کا سامنا ہے جن کے لیے عید کارڈ اظہار محبت کی دلیل ہے، ان کے جذبے کی آنچ سے رفتہ رفتہ مسعود بھی متاثر ہوئے بغیر نہیں رہتا اور اپنی ذات کے گنبد سے باہر نکل آتا ہے۔
ڈرامے کے آغاز میں ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ مسعود جنگ کے بارے میں مضمون کا ترجمہ ٹائپ کرتے ہوئے ساتھ ساتھ اسے زبان سے دہرا بھی رہا ہے ’اس زمانے کی جنگوں کے لیے سب سے ضروری چیزیں لوہا اور فولاد ہیں۔‘ اس دوران مسعود کا دوست خالد مخل ہوتا ہے اور جنگی ذخائر کی جمع آوری کے لیے لوہے اور فولاد کی پیداوار کی گردان سن کر کہتا ہے کہ وہ یہ کیا خرافات بک رہا ہے۔ خالد کچھ یاروں کو عید کارڈ روانہ کر چکا ہے اور باقیوں کو بھیجنے کی فکر میں ہے۔ اس کی میرٹھ میں بات پکی ہو چکی ہے اور وہ اپنی ہونے والی بیوی کو عید کارڈ روانہ کرنے کے سلسلے میں مسعود سے مشورہ کرتا ہے جو عید کارڈ کو بے کار اور کاغذ کے نکمے پرزے کہہ کر اسے عید کارڈ کی جگہ کچھ اور بھجوانے کی ترغیب دیتا ہے۔ خالد اس سے اتفاق نہیں کرتا اور کہتا ہے: ’خدا کی قسم اب تم میں قطعاً شعریت نہیں رہی، عید کارڈ میں ایک خاص بات ہے بھئی، عید کارڈ بڑی خوب صورت چیز ہے۔ اس سے آدمی کے مذاق کا پتا بھی چل جاتا ہے‘۔
مزید پڑھیے: منٹو کا ادب اور اشفاق احمد کا ’زاویہ‘
خالد اس کو طنزاً کہتا ہے کہ جنگ میں سب سے زیادہ ضروری لوہا اور فولاد ہیں اور اس وقت سب سے ضروری چیزیں عید کارڈ اور تحفے تحائف ہیں۔خالد عید کارڈ کی اہمیت جتاتا ہے جبکہ مسعود کو عید کارڈ میں کچھ بچپنا سا نظر آتا ہے۔ وہ انہیں کھلونے اور کاغذی پھول قرار دیتا ہے۔
اس کا عید کارڈ کے خلاف بھاشن سن کر خالد کہتا ہے: ’تم مجھے بہکانا چاہتے ہو۔ اور کیا؟ یہ اپنی نرالی منطق کسی اور سے چھانٹنا۔ میں عید کارڈ ضرور خریدوں گا، ضرور خریدوں گا اور تمہیں بھی ایک بھیجوں گا (وقفہ) میں تمہیں ہرگز نہیں بھیجوں گا کہ تم منہ دیکھتے ہی رہو۔ یہ تمھاری سزا ہے‘۔
اس ڈرامے میں یاسمین کا کردار بھی ہے جو اپنے عید کارڈ پر کچھ ٹائپ کروانے کی غرض سے مسعود کے پاس آتی ہے۔ اس نے ایک کارڈ بھائی کو اور دوسرا بہن کو ارسال کرنا ہے۔ بڑا اور رنگین کارڈ جس کی قیمت 8 آنے ہے بھائی جان کے لیے ہے جب کہ بہن کے لیے چھ آنے کا کارڈ ہے۔ مسعود بہن کے لیے دو آنے سستا کارڈ خریدنے کی وجہ دریافت کرتا ہے تو وہ اس میں ایک بڑا راز ہے کہہ کر ٹال جاتی ہے۔ یہ اقرار ضرور کرتی ہے کہ باجی جان کے مقابلے میں بھائی جان سے اسے زیادہ محبت ہے۔
دوسری عالمی جنگ کے زمانے کا یہ ڈراما، جنگ کے مقابلے میں عید کارڈ کو مسرت کی علامت کے طور پر سامنے لاتا ہے اور جنگ کے متعلق مضمون کے مترجم کو اپنے ذہن سے سامان حرب نکال کر نشاط کی چند کلیاں چننے کی دعوت دیتا ہے۔ عید کارڈ پہلے اس کے ذہن پر مسلط ہوتا ہے اور وہ ترجمے میں فولاد کی پیداوار کے بارے میں لکھتے لکھتے عید کارڈ کے الفاظ بھی لکھ ڈالتا ہے۔ غلطی کا احساس ہونے پر اس کے منہ سے نکلتا ہے‘ یہ عید کارڈ اچھا میرے دماغ پر سوار ہوا ہے‘۔
عید کارڈ کے دماغ سے دل تک سفر کا مرحلہ اس کے دوست خلیل سے مکالمے سے طے ہوتا ہے۔ اس کے دلِ مردہ میں عید کارڈ اور محبت کے تذکرے سے حرارت پیدا ہوتی ہے۔ خلیل بازار سے عید کارڈ خریدنے آیا تھا تو سوچا مسعود سے بھی مل لے۔ وہ اسے اپنے خریدے ہوئے بہت سے عید کارڈ دکھاتا ہے جس میں سے 15 عزیزوں اور دس دوستوں کے لیے ہیں، باقی ایک دو بھی کہیں نہ کہیں کھپ جائیں گے۔ مسعود پوچھتا ہے کہ کیا اسے جواب میں بھی ایسے رنگ برنگ عید کارڈ آئیں گے؟ خلیل کہتا ہے اسے فرق نہیں پڑتا بس ایک آدمی کا کارڈ آجائے تو بس عید ہوجائے: ’وہ عید کے خوب صورت تصور سے بھی کہیں زیادہ خوب صورت ہے‘۔
اس کے بعد وہ اپنی محبوبہ کے دلفریب حسن کی تعریف کرتا ہے۔ اسے وہ عید کارڈ دکھاتا ہے جس پر جھیل کی تصویر ہے۔ خلیل کے بقول ’اس کی آنکھیں اس جھیل کی طرح پراسرار ہیں‘۔ وہ کارڈ پر لکھے یہ الفاظ خاص طور پر دوست کو پڑھواتا ہے: ’تیری ان دو پراسرار جھیلوں کے نام جن پر تیری پلکوں کے سائے ہمیشہ جھکے رہتے ہیں‘۔
اس پر مسعود کہتا ہے کہ خلیل تم تو شاعر ہو گئے ہو اور چاہو تو بے قافیہ نظموں کا ایک دیوان بڑی آسانی کے ساتھ چھپوا سکتے ہو۔ وہ مسعود جو عید کارڈ کے خلاف باتیں کر رہا تھا، ان پر درج عبارتوں کا مذاق اڑا رہا تھا وہ اپنے پریمی دوستوں کو عید کارڈ تعلق خاطر کے لیے استعمال کرتے دیکھتا ہے تو اس کا دل موم ہو جاتا ہے، عید کارڈ کے خلاف اس کے ذہن میں تنے جالے صاف ہونے لگتے ہیں۔ جنگ کے بارے میں مضمون اس کے ذہن سے محو ہو جاتا ہے اور وہ خلیل سے دو عید کارڈ لے لیتا ہے۔ اس کے بعد مسعود کے طرزِ فکر و عمل کو منٹو کچھ اس طرح بیان کرتے ہیں: ’مسعود: تو یہ بات ہے۔ (وقفہ) عید کارڈ بری چیز نہیں۔ یعنی جب دو مفت مل گئے تو کیا برا ہے۔ بھیج کیوں نہ دیں۔ (وقفہ) ایک تو اس کو بھیج دینا چاہیے ۔۔۔۔ اماں اسی کو۔ اتنی جلدی نام بھول گئے۔ اسی کو، اپنی زہرہ کو۔ ہاں ہاں زہرہ ہی کو۔ (وقفہ) پیاری زہرہ کو ملے از طرف مسعود حسن مگن لال بلڈنگ سرکلر روڈ دہلی ۔۔۔ چلیے ۔۔۔۔ کیا یاد کرے گی‘۔
مزید پڑھیں: عمران خان سے ظہیر عباس تک: بڑا ہے درد کا رشتہ
اگلے دن ڈاکیے کے آنے سے یہ راز کھلتا ہے کہ موصوف نے یہ عید کارڈ دل کے خوش رکھنے کے خیال سے اپنے آپ کو پوسٹ کیے تھے جس کا اندازہ مسعود سے مکالمے کے بعد ڈاکیے کے اس معنی خیز جملے سے ہوتا ہے: ’یہ بابو لوگ بھی عجیب ہوتے ہیں۔ لڑکا بھی آپ اور لڑکی بھی آپ‘۔
حالات کی ستم ظریفی دیکھیے کہ آج جب عید آئی ہے تو دنیا میں جنگ کی افتاد پڑی ہے۔ لیکن ہمارے پاس عید کارڈ نہیں ہے، بلکہ اس کی بھولی بسری روایت کا تذکرہ ہے، جسے عیدکارڈ کے طور پر آج ہم اپنے قارئین کے نام کرتے ہیں۔ عید مبارک۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔













