13 یورپی ممالک اور کینیڈا کے سفارتکاروں نے مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی آبادکاروں کی جانب سے فلسطینیوں پر بڑھتے حملوں اور غیرقانونی یہودی آبادکاروں کی دہشتگردی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسرائیل سے فوری کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
یورپی ممالک بشمول فرانس، اسپین اور برطانیہ کے مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ فلسطینی آبادی کے خلاف بڑھتا ہوا تشدد اور اسرائیلی سکیورٹی فورسز کی کارروائیاں قابلِ مذمت ہیں۔
حالیہ ہلاکتوں پر تشویش
رپورٹس کے مطابق مارچ کے آغاز سے اب تک کم از کم 6 فلسطینی یہودی آبادکاروں کے حملوں میں شہید ہو چکے ہیں، جس پر سفارتکاروں نے گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔
فلسطینیوں کو بے دخل کرنے کی کوشش
بیان میں کہا گیا کہ یہ حملے فلسطینیوں کو ان کی زمینوں سے بے دخل کرنے اور خوف و ہراس پیدا کرنے کے لیے کیے جا رہے ہیں، جسے فوری طور پر روکا جانا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیے مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی آبادکاروں کے جرائم پر اقوام متحدہ کی رپورٹ کیا کہتی ہے؟
سفارتکاروں نے اسرائیلی حکام پر زور دیا کہ وہ مہلک حملوں، چھاپوں اور تشدد میں ملوث عناصر کے خلاف کارروائی کریں اور قانون کی عملداری یقینی بنائیں۔
اسرائیلی فوجی قیادت کا ردعمل
اسرائیلی فوج کے سربراہ ایال زامیر نے بھی آبادکاروں کے بڑھتے حملوں کو ’اخلاقی طور پر ناقابلِ قبول‘ قرار دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے اسرائیلی آبادکاروں نے مسجد اقصیٰ پر دھاوا بول دیا، ایک دن میں 88 فلسطینی شہید
یاد رہے کہ مقبوضہ مغربی کنارے میں تقریباً 30 لاکھ فلسطینیوں کے ساتھ 5 لاکھ سے زائد اسرائیلی آبادکار رہتے ہیں، جن کی بستیاں بین الاقوامی قوانین کے تحت غیر قانونی سمجھی جاتی ہیں۔
تشدد میں مسلسل اضافہ
غزہ جنگ 2023 کے بعد سے مغربی کنارے میں تشدد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق اب تک 1050 سے زائد فلسطینی اسرائیلی فوج یا آبادکاروں کے حملوں میں مارے جا چکے ہیں، جبکہ 45 اسرائیلی بھی ہلاک ہوئے ہیں۔
حال ہی میں ایک خاندان کی ہلاکت
فلسطینی حکام کے مطابق حالیہ واقعے میں اسرائیلی فوج نے ایک گاڑی پر فائرنگ کر کے دو بچوں سمیت چار افراد کو ہلاک کر دیا، جبکہ اسرائیلی مؤقف کے مطابق یہ کارروائی سکیورٹی خدشات کے تحت کی گئی۔














