کراچی: مصطفیٰ عامر قتل کیس میں چھاپے کے دوران زخمی ہونے والا پولیس افسر چل بسا

پیر 23 مارچ 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

کراچی میں مصطفیٰ امیر قتل کیس کے مرکزی ملزم کے گھر پر چھاپے کے دوران گولی لگنے سے زخمی ہونے والا پولیس افسر پیر کے روز زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسا۔

یہ بھی پڑھیں: مصطفیٰ عامر قتل کیس کے ملزم ارمغان کو پیکا ایکٹ کے مقدمے میں ضمانت مل گئی

میڈیا رپورٹس کے مطابق ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) سید اسد رضا نے بتایا کہ ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس (ڈی ایس پی) احسن ذوالفقار 8 فروری 2025 کو ڈی ایچ اے کے خیابان مومن میں واقع ملزم ارمغان قریشی کے گھر پر کیے گئے ایک مشترکہ چھاپے کے دوران زخمی ہوئے تھے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ وہ کارروائی اینٹی وائلنٹ کرائم سیل اور سٹیزنز پولیس لائژن کمیٹی (سی پی ایل سی) نے ملزم کی گرفتاری کے لیے کی تھی۔

چھاپے کے دوران ملزم کی جانب سے کی گئی فائرنگ میں ڈی ایس پی احسن ذوالفقار کو گولیاں لگیں جس کے بعد وہ کئی ماہ تک زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا رہے۔

کہا جاتا ہے کہ آپریشن مناسب منصوبہ بندی کے بغیر کیا گیا تھا اور مقامی پولیس کو پیشگی اطلاع نہیں دی گئی تھی تاہم وہ فائرنگ شروع ہونے کے بعد مدد کے لیے پہنچی۔

مزید پڑھیے: مصطفیٰ عامر قتل کیس میں فرد جرم کب عائد کی جائے گی؟

زخمی افسر ایک نجی اسپتال میں زیر علاج تھے تاہم زخموں میں انفیکشن پھیلنے کے باعث ان کی حالت بگڑ گئی اور وہ جانبر نہ ہو سکے۔

یاد رہے کہ 23 سالہ مصطفیٰ عامر کو 6 جنوری 2025 کو کراچی کے علاقے ڈی ایچ اے میں مبینہ طور پر ان کے دوستوں ارمغان قریشی اور شیراز عرف شاویز بخاری نے اغوا کے بعد قتل کر دیا تھا۔ پولیس کے مطابق ملزمان نے لاش کو گاڑی کی ڈگی میں ڈال کر بلوچستان کے علاقے حب میں گاڑی سمیت نذرِ آتش کر دیا۔

دونوں ملزمان نے عدالت میں الزامات سے انکار کیا۔

قتل کیس میں ارمغان قریشی کے خلاف حتمی چالان اگست 2025 میں جمع کرایا گیا تھا جبکہ گزشتہ ماہ انسداد دہشت گردی کی عدالت نے مرکزی ملزم اور شریک ملزم شیراز پر فرد جرم عائد کی۔

مزید پڑھیں: مصطفیٰ عامر قتل کیس کے ملزم ارمغان کی پولیس پر فائرنگ کی سی سی ٹی وی فوٹیج سامنے آگئی

مزید برآں 5 جنوری کو کراچی کی ایک عدالت نے ارمغان قریشی کو غیر قانونی کال سینٹر اور کریڈٹ کارڈ ڈیٹا چوری کے ایک مقدمے میں بعد از گرفتاری ضمانت بھی دی تھی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp