25 کروڑ روپے مالیت کی چوری کا مقدمہ، 2 ہزار کی برآمدگی: عدالت نے گھریلو ملازمہ کو بری کر دیا

بدھ 25 مارچ 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اسلام آباد کی عدالت نے گھریلو ملازمہ کو قریباً 25 کروڑ روپے مالیت کی چوری کے مقدمہ  سے بری کر دیا۔ گھریلو ملازمہ رخسانہ بی بی پر گھر سے 4 لاکھ روپے، 5 لاکھ برطانوی پاؤنڈز اور 5 لاکھ سعودی ریال کی چوری کا مقدمہ درج تھا جبکہ دوران تفتیش برآمدگی صرف 2 ہزار روپے ہوئی۔

عدالت نے ملزمہ کی بریت درخواست منظور کرتے ہوئے تحریری فیصلے میں لکھا کہ بار بار مواقع دیے جانے کے باوجود استغاثہ کی جانب سے کوئی بھی گواہ پیش نہ کیا جا سکا۔ دستیاب ریکارڈ کی روشنی میں اگر استغاثہ کے شواہد ریکارڈ بھی کر لیے جائیں تو ملزمہ کو سزا کا امکان نہ ہونے کے برابر ہے۔ جوڈیشل مجسٹریٹ اسلام آباد ایسٹ رضوان الدین نے گھریلو ملازمہ رخسانہ بی بی کی چوری کے مقدمہ میں بریت درخواست منظور کرلی۔

پی ڈبلیو ڈی کی رہائشی خاتون ساجدہ زاہد نے اپنی گھریلو ملازمہ کے خلاف تھانہ لوئی بھیر میں جنوری 2024 میں چوری کا مقدمہ درج کرایا تھا کہ گھریلو ملازمہ نے گھر سے 4 لاکھ روپے، 5 لاکھ برطانوی پاؤنڈز اور 5 لاکھ سعودی ریال چوری کر لیے ہیں

ملزمہ کی جانب سے حبیب حنظلہ ایڈوکیٹ عدالت میں پیش ہوئے اور موقف اختیار کیا کہ ملزمہ بے گناہ ہے جسے بدنیتی کی بنیاد پر جھوٹے مقدمہ میں ملوث کیا گیا۔

عدالت نے فیصلہ سنایا کہ ملزمہ پر کروڑوں روپے مالیت کے چوری کے مقدمہ میں 18 ستمبر 2025 کو فرد جرم عائد کی گئی۔  یہ بات ناقابل یقین ہے کہ اتنی بڑی رقم گھر میں رکھ کر چابی ملازمہ کے حوالے کر دی جائے۔

عدالت نے مزید لکھا گھر میں غیر ملکی کرنسی کی موجودگی یا چوری سےمتعلق قانونی ثبوت یا دستاویزی شواہد پیش نہیں کیے گئے۔ مدعیہ کو ہمسایوں نے گھریلو ملازمہ کے گھر میں داخلے کی اطلاع دی لیکن کسی کا دفعہ 161 کا بیان ریکارڈ پر موجود نہیں۔ استغاثہ کو شواہد پیش کرنے کے متعدد مواقع دیے گئے لیکن کوئی گواہ پیش نہ کیا جا سکا۔

عدالت نے فیصلے میں لکھا کہ مدعیہ کے مطابق گھر سے بھاری رقم چوری ہوئی جبکہ ملزمہ سے صرف 2000 روپے برآمد ہوئے۔ برآمد کی گئی رقم بھی بغیر کسی نشاندہی یا تفصیل کے تھی جس کی کوئی قانونی حیثیت نہیں۔

استغاثہ کی کہانی انتہائی مشکوک ہے اور یہ قانون کا طے شدہ اصول ہے کہ شک کا فائدہ ہمیشہ ملزم کے حق میں جاتا ہے۔ مزید عدالتی کارروائی سے قیمتی وقت کا ضیاع ہو گا جسے حقیقی مقدمات کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے لہٰذا ملزمہ رخسانہ بی بی کو ضابطہ فوجداری کی دفعہ 249 اے کے تحت مقدمہ سے بری کیا جاتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

روسی ’شیڈو فلیٹ‘ کے خلاف برطانوی کارروائی، بھارتی کپتان کو 10 سال قید کا سامنا

جو روٹ ٹیسٹ کرکٹ میں سب سے زیادہ کیچز پکڑنے والے فیلڈر بن گئے

نوجوانوں کی مزاحمت نے مودی کو ’جن زی‘ بننے پر مجبور کردیا، سوشل میڈیا مہم مذاق بن گئی،برطانوی میڈیاکی رپورٹ

ایلون مسک نے مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس کے ذریعے عالمی نظامِ صحت میں انقلابی تبدیلی کی پیش گوئی کردی

الاسکا میں امریکی فضائیہ کے ریڈار مرکز کے قریب طیارہ تباہ، 8 افراد ہلاک

ویڈیو

کرائے کے جوتے، 6 ہزار میٹر بلند چوٹی: 14 سالہ ملائکہ خلجی کی حیران کن کہانی

ایک سال تک مفت اے آئی سہولت، پاکستانی طلبہ اسے کیسے حاصل کرسکتے ہیں؟

عمران خان کا علاج الشفا انٹرنیشنل کے بجائے پمز سے، حقائق کیا؟ پمز منتقلی کے خلاف پی ٹی آئی کا بڑا اقدام، خان کا سہیل آفریدی کے لیے پیغام

کالم / تجزیہ

سفید جادو، مثبت اور مددگار

عینی آپا ’آگ کا دریا‘ پار کیوں نہ کرسکیں؟

’ايسا ابّا کہاں سے لبھّا تھا‘