وفاقی آئینی عدالت نے سرکاری ملازمین کی بھرتیوں سے متعلق اہم فیصلہ سناتے ہوئے ڈی ایچ کیو اسپتال کرک میں درجہ چہارم کی آسامیوں پر تقرریوں کے معاملے میں پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔
مزید پڑھیں: چوہدری شوگر مل کیس: نیب نے لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کو وفاقی آئینی عدالت میں چیلنج کردیا
عدالت نے واضح کیا کہ سرکاری ملازمتوں میں تقرری ہر شہری کا بنیادی آئینی حق ہے، جو شفاف اور منصفانہ عمل کے ذریعے ہی یقینی بنایا جا سکتا ہے۔
عدالت نے اپنے تحریری فیصلے میں کہا کہ بھرتیوں کے معیار سے انحراف نہ صرف آئینی خلاف ورزی ہے بلکہ اس سے حکومتی نظام پر عوامی اعتماد بھی متاثر ہوتا ہے۔ نائب قاصد، خاکروب اور چوکیدار جیسی نچلی سطح کی آسامیوں کو بھی عوامی امانت قرار دیتے ہوئے عدالت نے کہا کہ ان تقرریوں میں دیانتداری اور احتیاط ناگزیر ہے، اور اہل امیدواروں کو نظر انداز کرنا حق تلفی کے مترادف ہے۔
مزید پڑھیں: وفاقی آئینی عدالت کا بڑا ریلیف، متوفی کوٹہ کیس میں بھرتیاں جاری رکھنے کی اجازت
عدالت نے پہلی اور دوسری سلیکشن کمیٹیوں کی سفارشات اور تمام تقرری احکامات کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے خیبرپختونخوا حکومت کو ہدایت دی کہ بھرتیوں کا عمل قانون کے مطابق ازسرِ نو مکمل کیا جائے۔ عدالت نے 60 روز میں عمل مکمل کر کے رپورٹ جمع کرانے اور غفلت برتنے والے افسران کے خلاف فوری محکمانہ کارروائی کا بھی حکم دیا۔











