وفاقی آئینی عدالت کا بھرتیوں سے متعلق بڑا فیصلہ، ڈی ایچ کیو کرک کیس میں ہائیکورٹ کا حکم کالعدم

بدھ 25 مارچ 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وفاقی آئینی عدالت نے سرکاری ملازمین کی بھرتیوں سے متعلق اہم فیصلہ سناتے ہوئے ڈی ایچ کیو اسپتال کرک میں درجہ چہارم کی آسامیوں پر تقرریوں کے معاملے میں پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔

مزید پڑھیں: چوہدری شوگر مل کیس: نیب نے لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کو وفاقی آئینی عدالت میں چیلنج کردیا

عدالت نے واضح کیا کہ سرکاری ملازمتوں میں تقرری ہر شہری کا بنیادی آئینی حق ہے، جو شفاف اور منصفانہ عمل کے ذریعے ہی یقینی بنایا جا سکتا ہے۔

عدالت نے اپنے تحریری فیصلے میں کہا کہ بھرتیوں کے معیار سے انحراف نہ صرف آئینی خلاف ورزی ہے بلکہ اس سے حکومتی نظام پر عوامی اعتماد بھی متاثر ہوتا ہے۔ نائب قاصد، خاکروب اور چوکیدار جیسی نچلی سطح کی آسامیوں کو بھی عوامی امانت قرار دیتے ہوئے عدالت نے کہا کہ ان تقرریوں میں دیانتداری اور احتیاط ناگزیر ہے، اور اہل امیدواروں کو نظر انداز کرنا حق تلفی کے مترادف ہے۔

مزید پڑھیں: وفاقی آئینی عدالت کا بڑا ریلیف، متوفی کوٹہ کیس میں بھرتیاں جاری رکھنے کی اجازت

عدالت نے پہلی اور دوسری سلیکشن کمیٹیوں کی سفارشات اور تمام تقرری احکامات کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے خیبرپختونخوا حکومت کو ہدایت دی کہ بھرتیوں کا عمل قانون کے مطابق ازسرِ نو مکمل کیا جائے۔ عدالت نے 60 روز میں عمل مکمل کر کے رپورٹ جمع کرانے اور غفلت برتنے والے افسران کے خلاف فوری محکمانہ کارروائی کا بھی حکم دیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp