سراج الدین ،فیاض بخاری
حکومتِ پاکستان کی جانب سے ملک میں غیر قانونی طور پر مقیم افغان باشندوں کو دی گئی ڈیڈ لائن 10 جولائی کو ختم ہونے جا رہی ہے جس کے بعد قانون نافذ کرنے والے ادارے گرفتاریوں اور بیدخلی کے دوسرے مرحلے کا آغاز کر دیں گے۔
28 جون کو کراچی میں رینجرز کے دفتر پر ہونے والے دہشتگردانہ حملے کے بعد، ریاست نے امن و امان کی صورتحال پر کوئی بھی سمجھوتا نہ کرنے کا سخت فیصلہ کیا ہے، جس کے تحت شہر بھر میں دہشتگردوں کے سلیپر سیلز اور ٹھکانوں کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن جاری ہے۔
اب سیکیورٹی اداروں نے واضح کر دیا ہے کہ ملکی سلامتی کو نقصان پہنچانے والوں کو رعایت نہیں دی جائے گی۔
دہشتگردی کا نشانہ بننے والے شہریوں کی داستان
کراچی کے علاقے گلشنِ اقبال کے رہائشی 34 سالہ کامران احمد 28 جون کی اس شام کو کبھی نہیں بھول سکتے جب رینجرز دفتر پر بزدلانہ حملہ کیا گیا۔
وہ قریبی مارکیٹ میں موجود تھے جب اچانک دھماکے اور فائرنگ کی آوازوں سے پورا علاقہ گونج اٹھا۔ رہائشی کامران نے بتایا کہ اس واقعے نے شہریوں میں خوف و ہراس پھیلا دیا تھا، لیکن اب سیکیورٹی ایجنسیوں کے فوری ایکشن نے ان کا حوصلہ بڑھایا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:مریم نواز کی زیرصدارت ایپکس کمیٹی کا اجلاس، افغان باشندوں کے انخلا سمیت دیگر امور کا جائزہ
وہ بتاتے ہیں کہ ’جب تک غیر قانونی طور پر مقیم افراد کی مکمل چھان بین نہیں ہوتی، شہر میں امن قائم ہونا ممکن نہیں تھا۔ سیکیورٹی اداروں کی جانب سے مشکوک ٹھکانوں پر چھاپے اور بیدخلی کا عمل خوش آئند ہے، کیونکہ کراچی کے شہریوں کو اب مستقل امن کی ضرورت ہے۔‘
ایسا ہی کچھ احوال سہراب گوٹھ کے قریب واقع ایک نجی یونیورسٹی کے طالب علم 21 سالہ شاہزیب خان کا بھی ہے، جنہیں روزانہ ان علاقوں سے گزرنا پڑتا ہے جہاں غیر قانونی تارکینِ وطن کی بڑی تعداد موجود ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ حالیہ دنوں میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے بائیومیٹرک تصدیق اور سرچ آپریشنز کے بعد صورتحال میں نمایاں تبدیلی آئی ہے۔
ان کے مطابق سیکیورٹی ایجنسیوں نے دشمن کے آلہ کاروں کے خلاف گھیرا تنگ کر دیا ہے، جس سے عام شہریوں کو تحفظ کا احساس ملا ہے۔
کراچی میں سلیپر سیلز کا قیام اور ماضی کے چیلنجز
سیکیورٹی امور کے ماہر اور ریٹائرڈ قانون نافذ کرنے والے افسر اسلم سلیم کے مطابق کراچی میں غیر قانونی بستیوں اور سلیپر سیلز کا مسئلہ گزشتہ چند دہائیوں میں سنگین ہوا ہے۔
1990کی دہائی سے لے کر اب تک مختلف ادوار میں ان عناصر کے خلاف کارروائیاں کی گئیں، لیکن سیاسی مصلحتوں اور کچی آبادیوں کے پھیلاؤ کی وجہ سے یہ ناسور جڑ پکڑتا گیا۔
ان کا کہنا ہے کہ ماضی میں جب بھی دہشتگردوں کے خلاف ایکشن لیا جاتا، یہ عناصر ان غیر قانونی بستیوں میں روپوش ہو جاتے۔ تاہم موجودہ آپریشن کی خاص بات یہ ہے کہ اب جدید ٹیکنالوجی اور انٹیلیجنس شیئرنگ کے ذریعےتیزی سے کام جاری ہے۔
سیکیورٹی اداروں کی کارروائیاں اور بین الاقوامی تناظر
شہری اور سماجی امور کی ماہر نادیہ رحمان کے مطابق دنیا کے تمام ترقی یافتہ ممالک قومی سلامتی کو درپیش خطرات کے بعد سخت ترین قوانین نافذ کرتے ہیں۔
امریکا اور برطانیہ جیسے ممالک نے بھی ماضی میں دہشتگردی کے بڑے واقعات کے بعد اپنی سرحدوں کو محفوظ بنانے اور غیر قانونی مقیم افراد کی فوری بیدخلی کے لیے ہنگامی قوانین نافذ کیے تھے۔
پاکستان کا یہ قدم بھی اسی بین الاقوامی اصول کے عین مطابق ہے تاکہ اپنے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
حکومتی مؤقف اور آپریشن کی تفصیلات
دوسری طرف حکومتی اور سیکیورٹی ذرائع اپنے اس عزم پر قائم ہیں کہ ڈیڈ لائن میں اب کوئی توسیع نہیں ہوگی۔ جب اس حوالے سے قانون نافذ کرنے والے ادارے کے ایک اعلیٰ عہدیدار سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ کراچی کے تمام حساس علاقوں میں انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز جاری ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ آپریشن کا مقصد کسی مخصوص طبقے کو نشانہ بنانا نہیں، بلکہ ملک دشمن عناصر، بالخصوص فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے سہولت کاروں کا جڑ سے خاتمہ کرنا ہے۔
کراچی کے تاجر برادری اور عام شہری اس آپریشن کی مکمل حمایت کر رہے ہیں اور مطالبہ کر رہے ہیں کہ اس مہم کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے۔
شہریوں کا ماننا ہے کہ معاشی اور دفاعی استحکام کے لیے غیر قانونی تارکینِ وطن کی واپسی اور امنِ عامہ کا قیام ناگزیر ہو چکا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پاکستان میں غیر قانونی مقیم افغان باشندوں کی ملک بدری کے دوسرے مرحلے کا آغاز
اسی طرح وفاق کی جانب سے ڈیڈلائن مقرر ہونے کے بعد خیبر پختونخوا حکومت نے بھی صوبے میں مقیم غیر قانونی افغان باشندوں کی واپسی کے عمل کو مزید تیز کرنے کے لیے متعلقہ حکام کو ہدایات جاری کر دی ہیں۔
چند روز قبل محکمہ داخلہ و قبائلی امور میں ایک اجلاس بھی ہوا، جس میں افغان باشندوں کی واپسی، غیر قانونی رہائش اور سکیورٹی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں صوبے میں غیر قانونی طور پر مقیم افغان باشندوں کی واپسی کے عمل کا جائزہ لیا گیا اور اب تک کی صورتحال پر بریفنگ دی گئی۔
اجلاس میں وفاق کی جانب سے جاری احکامات پر عمل درآمد کا بھی جائزہ لیا گیا اور متعلقہ حکام کو ہدایات دی گئیں کہ واپسی کے عمل کو تیز کیا جائے اور رضاکارانہ واپسی کو ترجیح دی جائے۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ وفاقی حکومت کی پالیسی کے مطابق غیر قانونی طور پر مقیم افراد کے خلاف کارروائی میں تیزی لائی جائے گی اور 10 جولائی سے کارروائی شروع کرنے کے لیے انتظامات کا بھی جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ پولیس، ضلعی انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے ادارے اس سلسلے میں مشترکہ حکمت عملی اختیار کریں گے۔
افغان باشندوں کی واپسی کے لیے آگاہی مہم بھی جاری
پشاور میں تعینات ایک اعلیٰ پولیس افسر نے بتایا کہ ان کی جانب سے تیاری مکمل ہے اور ابھی سے افغان باشندوں کو واپسی کے لیے آگاہ کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ہر تھانے کی سطح پر فہرستیں تیار کی گئی ہیں کہ کتنے غیر قانونی افغان باشندے رہائش پذیر ہیں۔
’ہم گھر گھر جا کر واپسی کے لیے کہہ رہے ہیں اور خبردار بھی کر رہے ہیں کہ 10 جولائی سے باقاعدہ کارروائی ہوگی اور گرفتاریاں بھی ہوں گی۔‘
انہوں نے بتایا کہ صوبائی حکومت وفاق کی جانب سے جاری کردہ پالیسی پر عمل کر رہی ہے، تاہم پولیس کو خاص ہدایات ہیں کہ سختی یا غیر ضروری کارروائی سے گریز کیا جائے اور واپسی کا عمل رضاکارانہ رکھا جائے۔
یہ بھی پڑھیں:افغان شہریوں کی بے دخلی کیس: سپریم کورٹ نے وفاق، ایپکس کمیٹی اور وزارت خارجہ کو نوٹسز جاری کر دیے
انہوں نے بتایا کہ افغان باشندوں کی واپسی بھی جاری ہے، لیکن پشاور سے واپسی دیگر صوبوں اور اضلاع کی نسبت کم ہے۔
’افغان سٹیزن کارڈ ہولڈرز ہوں یا دیگر غیر ملکی باشندے، ہر اُس شخص کے خلاف کارروائی ہوگی جس کے پاس رہائش کے مکمل قانونی دستاویزات موجود نہیں ہوں گے۔‘
انہوں نے بتایا کہ پشاور میں مقیم غیر قانونی افغان باشندوں کی فہرستیں تیار ہیں، جبکہ 10 جولائی سے انہیں گرفتار کرکے سرحدی راستوں کے ذریعے افغانستان واپس بھیجا جائے گا۔
انہوں نے بتایا کہ اس مقصد کے لیے ضلع خیبر میں ٹرانزٹ کیمپ بھی قائم ہے، جہاں سہولیات کو دوبارہ فعال کیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ متعلقہ اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ واپسی کے عمل میں درپیش رکاوٹوں کو فوری طور پر دور کیا جائے۔
پولیس حکام نے بتایا کہ پشاور اور خیبر پختونخوا کے دیگر اضلاع میں تھانوں کی سطح پر کارروائیاں ہوں گی، جبکہ ضلعی انتظامیہ اور دیگر اداروں کے حکام بھی ان کارروائیوں میں شریک ہوں گے۔
اب تک کتنے افغان باشندے اپنے ملک واپس جا چکے ہیں؟
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ملک میں مقیم افغان باشندوں کی واپسی میں تیزی دیکھی گئی ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اپریل 2025 سے اب تک تقریباً 9 لاکھ 88 ہزار 812 افغان باشندے پاکستان سے افغانستان واپس جا چکے ہیں۔
ان میں 6 لاکھ 86 ہزار 772 غیر قانونی طور پر مقیم افغان، 71 ہزار 570 افغان سٹیزن کارڈ ہولڈرز اور 2 لاکھ 30 ہزار 470 پروف آف رجسٹریشن کارڈ رکھنے والے افغان باشندے شامل ہیں۔
مزید پڑھیں:پاکستان میں مقیم غیر قانونی افغان باشندوں کی واپسی کی ڈیڈ لائن ختم، آپریشن شروع کر دیا گیا
اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین (یو این ایچ سی آر) اور بین الاقوامی ادارہ برائے مہاجرت (آئی او ایم ) کے مطابق ستمبر 2023 سے مئی 2026 تک پاکستان سے 23 لاکھ 90 ہزار سے زیادہ افغان شہری افغانستان واپس جا چکے ہیں، جن میں اکثریت رضاکارانہ طور پر واپس جانے والوں کی ہے۔
یو این ایچ سی آر کے مطابق پاکستان میں اب بھی 9 لاکھ 32 ہزار سے زیادہ رجسٹرڈ افغان مہاجرین موجود ہیں، جن کے پاس پروف آف رجسٹریشن (پی او آر) کارڈ ہیں، جبکہ رجسٹرڈ اور غیر رجسٹرڈ افغان باشندوں کی مجموعی تعداد تقریباً 20 لاکھ کے لگ بھگ بتائی جاتی ہے، جن میں سب سے زیادہ افغان باشندے خیبر پختونخوا میں مقیم ہیں۔













