فٹبال شٹبال

جمعرات 9 جولائی 2026
author image

رعایت اللہ فاروقی

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

آج کل امریکا میں فٹبال ورلڈ کپ کھیلا جا رہا ہے۔ ہر چند کہ جدید رومن ایمپائر کے آخری شہنشاہ ڈونلڈ ٹرمپ نے اس ورلڈ کپ سے بھی برکت اٹھانے کی پوری کوشش کر ڈالی ہے مگر یہ فی الحال ہمارا موضوع نہیں۔ اب کچھ لوگ سوچنے بیٹھ جائیں گے کہ ورلڈ کپ میں برکت کی؟ لاحول ولاقوۃ الا باللہ۔ سو پورا لطیفہ سنا کر اپنی نوکری تو تیل نہیں کرسکتے بس کسی سے فرمائش کر ڈالیے کہ وہ لطیفہ سنا دے جس کی پنچ لائن ہے

’بیٹا ! جس چیز کو تمہارے ابا کے ہاتھ لگ جائیں، اس میں سے برکت اٹھ جاتی ہے‘۔

ہمارے ہاں فٹبال میں لگ بھگ ہر عمر کے افراد کی دلچسپی بھرپور ہے، مگر پاکستان کی چونکہ کوئی قابل ذکر فٹبال ٹیم ہی نہیں، یوں یہاں اس کھیل کا کوئی ایسا ماہر بھی نہیں پایا جاتا جو ٹی وی چینلز پر اس کے رموز زیر بحث لاکر اس کھیل کو ذرا ڈھنگ سے متعارف کرا سکے۔ نتیجہ یہ ہے کہ سوشل میڈیا پر ہونے والے تبصروں سے اندازہ ہوجاتا ہے کہ ہمارے نوجوان اس کھیل کے حوالے سے بہت ہی سطحی قسم کی معلومات رکھتے ہیں۔ مثلا انہیں لگتا ہے کہ بال لے کر مخالف ٹیم کی گول پوسٹ کی طرف سرپٹ دوڑنا ہی فٹبال کی اصل ہے۔ سو جس پلیئر کی سپیڈ سب سے تیز ہوئی وہی بڑا اسٹار ہے۔

ہم چونکہ ان اندھوں میں اس لحاظ سے کانے ہیں کہ جب بھی کسی چیز میں ایسی دلچسپی پیدا ہوئی کہ اسے مستقل دیکھنے یا سننے لگے تو پہلا کام یہی کیا کہ اسے اتنا سمجھ لیا جس سے سننے یا دیکھنے کا لطف ذرا ڈھنگ سے لے سکیں۔ چنانچہ موسیقی بجانے یا گانے کا شوق نہ ہونے ہونے کے باوجود اسے اتنا سمجھا ضرور کہ سنتے ہوئے اس کا لطف پوری طرح لے سکیں۔ یوں ہمیں مولانا آزاد کی طرح ستار بجانا تو نہیں آتا، مگر ستار سننا جانتے ہیں۔ یہی ڈرامے اور فلم کے معاملے میں بھی کیا۔ ایکٹنگ اور اس کے لوازمات کا اتنا شعور حاصل کر لیا کہ فلم اور ڈرامے کا لطف اس کی فنی باریکیوں سمیت لیا۔

یہ بھی پڑھیں: تفرقہ اور نام نہاد پوڈکاسٹرز

کچھ اسی طرح کا معاملہ فٹبال اور ٹینس کے ساتھ بھی رہا۔ اب آپ سوچیں گے کہ فٹبال  تو چلو سمجھ آتا ہے کہ کہ ایک سنسنی خیز گیم ہے، مگر یہ ٹینس جیسے بور گیم میں ہم نے کس خوشی میں دلچسپی لے لی؟ تو ایسا ہے کہ ٹینس صرف مردوں والی ہی بور ہوتی ہے۔ کیا سمجھے؟ اسٹیفی گراف کو دیکھ کر ہماری ٹینس میں دلچسپی پیدا ہوئی تھی، اور ماریہ شراپوا نے آکر اس دلچسپی کو آسمان پر پہنچا دیا تھا۔ جب شراپوا ریٹائرڈ ہوئیں تو ہم بھی کوئٹہ وال سود خور حاجی کی طرح عمرہ کر آئے اور پکی توبہ کرلی کہ آئندہ ٹینس نہیں دیکھیں گے۔

فٹبال البتہ ہم نے بچپن میں کچھ عرصہ کھیلی بھی تھی۔ ہر رائٹر کی طرح چونکہ ہم بھی پیدائشی طور پر نہایت سست اور کاہل ہیں، سو فٹبال میں دوڑنے والا کام ہمیں پسند نہ تھا۔ یوں ہم نے گول کیپر بننے کو ترجیح دی۔ ہمارے قد کاٹھ کے لحاظ سے گول پوسٹ اتنی بڑی تھی کہ وہاں قیلولے کے لیے چارپائی بھی بچھائی جاسکتی تھی، مگر یہ جو مخالف ٹیم ہوتی ہے ناں، اسے پتا نہیں گول پوسٹ کی جانب بار بار آنے کا اتنا شوق کیوں ہوتا ہے؟

 خدا ہی جانے کہ گول کیپنگ میں ہم اتنے پھرتیلے کیونکرثابت ہوئے کہ پی اے ایف مسرور کی سینیئر ٹیم کی نظروں میں آگئے۔ مگر وہاں ہمارا کیریئر دوسرے میچ سے آگے نہ بڑھ سکا۔ ایک کمینے اسٹرائیکر نے اتنی زور کی کک ماری تھی کہ ہم فٹبال سمیت گول پوسٹ والے جال میں یوں جاگرے کہ فٹبال تو زمین پر آگیا مگر ہم اوپر جال میں ہی کسی مچھلی کی طرح اٹک کر رہ گئے۔ یوں ہمیں کالم نگاری کے لیے زندہ رکھنے کی خاطر ٹیم سے باہر کردیا گیا۔

وہاں سے ہم کرکٹ کی طرف چلے گئے لیکن 94 والے فٹبال ورلڈ کپ نے ہمیں ایک بار پھر اس کھیل کی طرف کھینچ لیا مگر فقط تماشائی کے طور پر۔برازیل فٹبال کا دور عروج ہو تو ہم کیا مندروں کی مورتیاں بھی تماشائی بنے بغیر نہ رہ سکیں۔ وہ ورلڈ کپ چونکہ برازیل نے جیت لیا تھا یوں اب اگلے 14 سال اس انتظار میں گزارنے تھے کہ 98 والے ورلڈ کپ میں یہ ٹیم اعزاز کا دفاع کر پاتی ہے یا نہیں؟ اور جب وہ دفاع بھی ہوگیا تو ہمارے اگلے 4 سال بھی اس مقصد کے لیے بک ہوگئے کہ یہ ٹیم 4 سال بعد ہیٹرک کر پاتی ہے یا َ نہیں؟

یہ وہ موقع تھا جب ہم نے اس کھیل کے رموز سمجھنے کا فیصلہ کیا، تاکہ جب لطف لینا ہی ہے تو پوری طرح تو لے سکیں۔ اس کے لیے ہم نے ہر بڑے فٹبال میچ کے بعد ہونے والی گھنٹے بھر کی وہ اسٹوڈیو ٹاکس سننی شروع کیں جن میں ماہرین میچ کے دوران کی خوبیاں اور خامیاں ایکشن ری پلے کی مدد سے تفصیل سے واضح کرتے۔ یوں فٹبال کو ہم کسی کوچ جیسی ماہرانہ حد تک تو نہیں سمجھتے، مگر ان میں سے بھی نہیں جو کرسٹیانو رونالڈو کی سپرنٹ کو دل دے بیٹھنا ہی فٹبالی ذوق سمجھتے ہیں۔

تو حضور ایسا ہے کہ فٹبال رگبی جیسا کھیل نہیں کہ چور گویا مال سینے سے چمٹائے پوری اسپیڈ سے آگے آگے اور سارا محلہ پیچھے پیچھے۔ اور جوں ہی چور ہاتھ آیا تو پورا محلہ اس پر یوں چڑھ گیا کہ بیچارے کا کچومر ہی نکال دیا۔ فٹبال اگر برازیل کی لیجنڈری ٹیم کھیل رہی ہو تو فٹبال پچ کا ایریل شاٹ ہی 2 منٹ میں آپ پر واضح کردے گا کہ یہ شطرنج کی وہ بساط ہے جس پر مہروں کی جگہ جیتے جاگتے انسانوں نے لی ہوئی ہے۔ پوری فارمیشن شطرنج کے مہروں کی طرح ہی پوزیشن بدلتی نظر آتی ہے اور اس تاک میں رہتی ہے کہ حریف کا دفاع کب گیپ فراہم کرنے کی غلطی کرتا ہے۔

مثلاً جب برازیل کی ٹیم اپنی پیک پر تھی تو بیشتر ٹیمیں اس کے خلاف 5 ڈیفنڈرز، 2 مڈ فیلڈرز اور 3 اسٹرائیکرز کی فارمیشن کو ترجیح دیتیں۔ اور برازیل کی ٹیم جواب میں 3 ڈیفنڈرز 4 مڈ فیلڈرز  اور 2 اسٹرائیکرز کی حکمت عملی اختیار کرتی۔ اب آپ پوچھیں گے کہ 10واں پلیئر کہاں گیا ؟ تو دسویں کو وہ حاضر ناظر والی ڈیوٹی پر مامور رکھتے۔ جو ابھی رائٹ ونگ کے ساتھ سپورٹ میں نظر آرہا تو اگلے ہی لمحے ڈیفنس اور وہاں سے سیدھا لیفٹ ونگ پر گول پوسٹ کے عین قریب رابرٹو کارلوس کے ساتھ سائے کی طرح بطور ڈھال موجود، یعنی ہر جگہ حاضر ناظر۔

اس 10ویں حاضر ناظر پلیئر کے ذریعے وہ حریف ٹیم کو مستقل کنفیوز رکھتے۔ کیونکہ اس پر نظر رکھنے کے لیے انہیں پورے میدان پر نظریں دوڑانی پڑتیں اور یہیں سے غلطی کے چانسز پیدا ہوتے۔ عام طور پر کاکا ہی یہ رول نبھاتا نظر آتا، مگر اس دسویں کو وہ شفل کیے رکھتے۔

برازیلین ٹیم  حریف کے 5 ڈیفنڈرز کے عین برخلاف 3 ڈیفنڈرز رکھ کر حریف ٹیم کو گویا اسٹرائیک کا دانا ڈالتی۔ اور اسٹرائیک ایسی چیز ہے کہ جب اسٹرائیکرز آگے بڑھتے ہیں تو اسی حساب سے مڈ فیلڈرز بھی آگے آتے ہیں، اور یہی وہ موقع ہوتا ہے جب اسٹرائیک کرنے والی ٹیم کے ڈیفنڈرز بھی ایکسائٹمنٹ میں سینٹر لائن کے اس پار تک آجاتے ہیں۔ برازیلین گویا اسی لمحے کا انتظار کرتے، سو لیفٹ سے رابرٹو کالوس گولی جیسی سپید کے ساتھ بال لیے جوابی حملے کے لئے پوری رفتار سے دوڑ پڑتا۔ اس سے حریف ڈیفنس کے ایسے ہوش پراں کر دیتا کہ وہ سب  اسی کی جانب لپک پڑتے۔ یوں رائٹ ونگ پوری طرح ایکسپوز ہوجاتا، سو کارلوس کا لانگ پاس بھی سیدھا وہیں جاتا۔ اور جب ڈیفنس اس طرف دوڑتا تو اتنا بڑا گیپ بن جاتا جس میں کب دونوں برازیلین اسٹرائیکرز ہی نہیں بلکہ 3 مڈ فیلڈز بھی  آ سمائے پتا ہی نہ چلتا۔ یوں حریف ٹیم ایک بڑے کیاس کا شکار ہوکر گول کھا بیٹھتی۔ اگر آپ برازیلین گیم پر غور کریں تو یہ پیٹرن آپ کو ان کے ہر میچ میں نظر آئے گا۔ ان کے بیشتر گول کاؤنٹر اسٹرائیکس کے دوران ہی ہوتے تھے۔ برازیلین حریف کی پانچ ڈیفنڈرز والی حکمت عملی اسی جوابی حکمت عملی سے توڑتے۔ وہ 5 ڈیفنڈرز کی اس دیوار سے سرٹکرا نے والی غلطی نہیں کرتے تھے۔

مزید پڑھیے: فری اسپیچ کا لولی پاپ

قابل غور نکتہ یہ ہے برازیلین ٹیم سپرنٹ بس اس ایک ہی موقع پر کرتی تھی۔ باقی گیم کے دوران وہ بال اپنے ہی پاس رکھتے ہوئے اسے چھوٹے بڑے پاسز کی مدد سے دائیں سے بائیں شفٹ کرتے ہوئے اگلی ٹیم کو ہی دانا دلتی نظر آتی۔ اور جب حریف زچ  ہوکر اس دانے پر لپکتا اور گیپ بنتا نظر آتا تو پھر دیکھنے کو ملتا ڈربلنگ کا شاندار  نظارہ۔

فٹبال کی سب سے خوبصورت ترین چیز ڈربلنگ ہے۔ اگر آپ سوشل میڈیا پر 1986 ورلڈ کپ میں کیا گیا ڈیئگو میراڈونا کا ’گول آف دی سینچری‘ دیکھیں تو شاید بار بار دیکھ کر بھی آپ کو حیرت ہو کہ اس گول میں ایسی کیا بات ہے کہ اسے 20ویں صدی کا سب سے خوبصورت گول قرار دے دیا گیا؟ فقط 2 مڈ فیلڈرز اور 2 ڈیفندرز کو ڈاج ہی تو دیا گیا ہے۔

اگر آپ وہ وہ گول اس لمحے سے دیکھنا شروع کیجیے جب بال میرا ڈونا کے پاس آتی ہے تو نوٹ کرنے والی پہلی چیز یہ ہے کہ میراڈونا کا رخ اپنے ہاف کی جانب ہے۔ بال 2 انگلش مڈ فیلڈرز کے بیچ سے گزر کر اس کے پاس آتی ہے۔ اگر میراڈونا بال لینے کے بعد وہیں سے پلٹتا تو ایک سے ڈیڑھ سیکنڈ کا ایک وقفہ موڑ مڑنے کے لیے طے تھا، اور اسی وقفے میں دونوں انگلش مڈفیلڈرز اسے سینڈویچ کر دیتے۔ چنانچہ میراڈونا پلٹنے کی بجائے آگے بڑھا، دونوں مڈ فیلڈرز کے بیچ سے گزر کربائیں ہاتھ یوں گھوما کہ اس کے بائیں ہاتھ پر ایک ہی مڈ فیلڈرز رہ گیا اور وہ بھی مسلسل اس کی نظروں میں، یہاں سے شروع ہوئی ڈربلنگ، یعنی چھوٹے چھوٹے قدموں کی وہ جادوئی چال جس میں لمحوں کے حساب سے سپیڈ کم اور زیادہ ہوتی جاتی ہے۔ مگر اسپرنٹ ہرگز نہیں۔ پنلٹی ایریے میں 2 ڈیفنڈرز آگے بڑھتے ہیں اور وہ میرا ڈونا کی ڈربلنگ سے جیسے مسمرائز سے ہوجاتے ہیں۔ جس کی علامت یہ ہے کہ وہ انتہائی قریب سے گزرتے میراڈونا کو چھو تک نہیں پاتے۔

آخری مرحلے میں گول کیپر بھی ڈاج کھا کر زمین بوس ہوجاتا ہے بال سیدھی گول پوسٹ میں۔ ڈربلنگ کی مدد سے اس سے زیادہ نیٹ اینڈ کلین گول شاید ہی کوئی ہو۔ یہ اس زمانے کا گول ہے جب اسٹرائیکرز ٹانگیں تڑوا کر اسٹیچرز پر نکلا کرتے تھے، خود میراڈونا کی بھی ایک بار ٹانگ ٹوٹی۔ کیونکہ یہ آج والے سخت رولز تب تھے ہی نہیں۔ کھلاڑی ہیڈر کی آڑ میں اسٹرائیکرز کو فلائینگ کک تک ماردیا کرتے۔ اور ریفری اس زمانے کے گویا سارے ہی بابا رحمتے ہوا کرتے یا وہ جو فاؤل کرنے والے سے کہتے ’گڈ ٹو سی یو‘ ایسے دور میں اتنا نیٹ اینڈ کلین گول کہ میراڈونا کو ٹچ تک نہ کیا جاسکا، واقعی اعلیٰ درجے کی چیز ہے۔ اسی لیے فٹبال کے بہت سے لیجنڈ میراڈونا کو میسی سے بڑا پلیئر مانتے ہیں۔ ان کا استدلال ہی یہ ہے کہ بدترین قسم کے رف فٹبال والے اس دور میں اگر یہ نرم و نازک اور معصوم سا میسی ہوتا تو مر ہی جاتا۔

مزید پڑھیں: تجھے کون بچائے گا کالیا؟

استغفراللہ! یہ شیطان نے پتا نہیں آج ہمیں کن خرافات میں مبتلا کردیا، حالانکہ ایک بزرگ کہہ گئے کہ یہ جو کرکٹ شرکٹ، فٹبال شٹبال اور کھیڈیں شیڈیں ہوتی ہیں سب حرام ہوتی ہیں۔ بس اسی پر اکتفا کرتے ہیں، اللہ جی تو رحیم ہیں، بس ملا جی ہماری خطائیں معاف فرمائیں!

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp