فلسطینی علاقوں کے اسرائیل میں انضمام کے خلاف اقوام متحدہ میں پاکستان سمیت 8 ممالک کا مشترکہ بیان

بدھ 25 مارچ 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان نے نیویارک میں اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم پر 8 ممالک کے مشترکہ بیان میں شامل ہو کر مقبوضہ فلسطینی علاقوں کے کسی بھی حصے کے انضمام (Annexation) اور فلسطینی عوام کی جبری بے دخلی کی سخت مخالفت کا اعادہ کیا ہے۔

پاکستان، برطانیہ، صومالیہ، لٹویا، یونان، فرانس، ڈنمارک اور بحرین کے مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ 1967 سے مقبوضہ فلسطینی علاقوں، بشمول مشرقی یروشلم، کی جغرافیائی اور آبادیاتی حیثیت تبدیل کرنے کی تمام کوششوں کی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل پہلے ہی مذمت کر چکی ہے۔

بیان میں اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ فوری طور پر تمام غیر قانونی بستیوں (Settlement activities) کا خاتمہ کرے۔ مقبوضہ علاقوں میں اپنی قانونی ذمہ داریوں کی مکمل پاسداری کرے۔

فلسطینیوں کے خلاف تشدد پر تشویش

بیان میں اسرائیلی پالیسیوں کو غیر قانونی اور ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ فلسطینی شہریوں پر حملے اور تشدد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ حالیہ واقعات میں فلسطینی بچوں کی ہلاکت بھی شامل ہے۔

مشترکہ اعلامیے میں مطالبہ کیا گیا کہ ان واقعات کے ذمہ داروں کو جوابدہ ٹھہرایا جائے۔

مقدس مقامات کی حیثیت برقرار رکھنے پر زور

بیان میں مقبوضہ بیت المقدس کے مقدس مقامات کے حوالے سے تاریخی اسٹیٹس کو برقرار رکھنے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا اور اس ضمن میں سلامتی کونسل کے مطالبات کو دہرایا گیا۔

انسانی اور معاشی بحران پر گہری تشویش

مشترکہ بیان میں مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں بگڑتی ہوئی انسانی اور معاشی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا، جس کی بڑی وجوہات نقل و حرکت پر سخت پابندیاں، بنیادی سہولیات تک رسائی میں رکاوٹیں، اسرائیل کی جانب سے فلسطینی ٹیکس محصولات کی روک تھام ہیں۔

فلسطینیوں کے حقِ خودارادیت کی حمایت

بیان میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ عالمی برادری بین الاقوامی قوانین، اقوام متحدہ کی قراردادوں اور عالمی عدالت انصاف کی 19 جولائی 2024 کی رائے کے مطابق فلسطینیوں کے حقِ خودارادیت کے حصول میں مدد دے گی۔

دو ریاستی حل پر زور

مشترکہ اعلامیے میں ایک بار پھر اس بات پر زور دیا گیا کہ مسئلے کا حل اقوام متحدہ کی قراردادوں، میڈرڈ اصولوں (Land for Peace)، عرب امن منصوبے کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔

بیان میں کہا گیا کہ ایک منصفانہ اور پائیدار امن کے لیے ضروری ہے کہ اسرائیلی قبضہ ختم ہو، دو ریاستی حل نافذ کیا جائے، ایک آزاد اور خودمختار فلسطین اور اسرائیل، 1967 کی سرحدوں کے مطابق، امن و سلامتی کے ساتھ ساتھ رہیں۔

یہ مشترکہ بیان فلسطین کے مسئلے پر پاکستان کے واضح اور مستقل مؤقف کی عکاسی کرتا ہے، جس میں عالمی قوانین کی پاسداری، انسانی حقوق کے تحفظ اور خطے میں پائیدار امن کے قیام پر زور دیا گیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ملک کے مختلف علاقوں میں شدید بارش، برفباری اور آندھی طوفان کا امکان، لینڈ سلائیڈنگ کا بھی الرٹ جاری

مریم نواز کے کسان دوست ویژنری اقدام سے صوبے کے کاشتکاروں کے مقدر بدلنے لگے

’پیٹرول چاہیے تو یہاں آجائیں‘، بھارت میں پیٹرول پمپس پر لمبی قطاروں پر پاکستانیوں کے تبصرے

اے آئی چیٹ کو محفوظ اور قابلِ اعتماد بنانے کے لیے نئی حفاظتی تکنیک متعارف

وزیراعلیٰ بلوچستان کی وفاقی وزیر آئی ٹی شزا فاطمہ خواجہ سے ملاقات، نیشنل ڈیجیٹل پالیسی پر تبادلہ خیال

ویڈیو

اورکزئی کی رابعہ بصری جو حصول علم کے لیے میلوں پیدل سفر کرتی ہیں

گلگت بلتستان کے شہریوں کا پاکستان کے لیے تن، من، دھن قربان کرنے کا عزم

’اسکوٹی نے زندگی بدل دی،‘ ڈیرہ اسماعیل خان کی اثواء رجاح

کالم / تجزیہ

کرکٹ ورلڈ کپ 92‘ فتح کا 34واں سال

کیا عارضی جنگ بندی مستقل ہو سکتی ہے؟

جالب نامہ