گلوکارہ میشا شفیع کے وکیل نے لاہور کی سیشن کورٹ میں عدالت سے کہا کہ علی ظفر کا ان کے خلاف دائر ہتک عزت کا مقدمہ ختم کیا جائے۔
میشا شفیع کے وکیل ثاقب جیلانی نے اپنے حتمی دلائل میں کہا کہ مدعی نے ہتک عزت کے دعوے کے حق میں کوئی ٹھوس ثبوت پیش نہیں کیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ میشا نے متعدد مواقع پر مبینہ ہراسانی کی شکایات درج کرائی تھیں اور علی ظفر کی قانونی ٹیم کی جانب سے سخت کراس ایگزامینیشن کے باوجود اپنے بیانات میں مستقل رہیں۔
یہ بھی پڑھیں: عید کے لباس پر تنقید کے بعد علی ظفر نے قوم سے ’معافی‘ مانگ لی
وکیل نے بتایا کہ میشا نے ابتدا میں معاملہ نجی طور پر حل کرنے کی کوشش کی لیکن یہ کوششیں ناکام رہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی شخص کو اپنے ذاتی مسئلے کے بارے میں بات کرنے پر سزا نہیں دی جا سکتی۔
دوسری جانب علی ظفر کے وکیل عمر طارق گل نے کہا کہ میشا شفیع کے الزامات جھوٹے ہیں اور ان سے مدعی کی ساکھ اور شہرت کو شدید نقصان پہنچا۔ انہوں نے کہا کہ علی ظفر کے خلاف ایسی کوئی شکایت کسی اور نے نہیں کی۔
یہ بھی پڑھیں: میشا شفیع کیس پر خاندان نے کس کرب کا سامنا کیا، والدہ علی ظفر کی لب کشائی
دونوں طرف کے دلائل مکمل ہونے کے بعد ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج آصف حیات باجوہ نے سماعت ملتوی کر دی۔ عدالت ممکنہ طور پر مدافع کے دلائل کے حوالے کے بعد فیصلہ محفوظ کرے گی۔
علی ظفر کی جانب سے دائر ہتک عزت کے مقدمے میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ 2018 میں میشا شفیع کی جانب سے لگائے گئے مبینہ جنسی ہراسانی کے الزامات نے ان کی عوامی شبیہ کو نقصان پہنچایا اور ان کے اہل خانہ کو شدید ذہنی اذیت کا سامنا کرنا پڑا۔ مدعی نے عدالت سے استدعا کی کہ میشا شفیع کو ہرجانے کے طور پر 1 ارب روپے ادا کرنے کا حکم دیا جائے۔














