امریکا نے چینی کمپنی پر ایران سے خفیہ تعاون کا الزام عائد کردیا

جمعہ 27 مارچ 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکی حکام نے چین کی بڑی چِپ ساز کمپنی ایس ایم ائی سی پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ ایران کی فوج کو چِپ بنانے کی ٹیکنالوجی فراہم کر رہی ہے۔

 یہ انکشاف بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائٹرز کی ایک خبر میں کیا گیا ہے، جس میں امریکی حکام کے حوالے سے بتایا گیا کہ یہ تعاون تقریباً ایک سال سے جاری ہے اور اس کے رکنے کے کوئی آثار نظر نہیں آتے۔

امریکی عہدیداروں کے مطابق اس تعاون میں نہ صرف چِپ سازی کے آلات کی فراہمی شامل ہے بلکہ تکنیکی تربیت بھی ہو سکتی ہے، جو ایران کے فوجی صنعتی نظام کو مضبوط بنانے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔ تاہم یہ واضح نہیں کیا گیا کہ آیا یہ آلات امریکی ٹیکنالوجی پر مبنی تھے یا نہیں، کیونکہ اگر ایسا ہے تو یہ امریکی پابندیوں کی کھلی خلاف ورزی تصور ہو سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیے چین، روس، شمالی کوریا اور ایران مل کر کام کررہے ہیں، نیٹو چیف

یہ معاملہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا پہلے ہی چین کی جدید سیمی کنڈکٹر صنعت کو محدود کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ایس ایم ائی سی کو ماضی میں بھی امریکی پابندیوں کا سامنا رہا ہے، خاص طور پر اس کے مبینہ چینی فوج سے روابط کے باعث، جن الزامات کو کمپنی مسلسل مسترد کرتی آئی ہے۔

دوسری جانب چین کا مؤقف ہے کہ وہ ایران کے ساتھ صرف معمول کی تجارتی سرگرمیاں انجام دے رہا ہے۔

ادھر چینی وزیر خارجہ وانگ یی نے حالیہ بیان میں خطے میں بڑھتی کشیدگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فوری امن مذاکرات کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

چین نے اب تک مشرق وسطیٰ کے اس تنازع میں کسی ایک فریق کی کھل کر حمایت نہیں کی، تاہم ایسے الزامات اس کی غیرجانبداری پر سوالات کھڑے کر رہے ہیں۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکا اور اسرائیل کی جانب سے 28 فروری سے ایران کے خلاف شروع کی گئی کارروائیوں کے بعد خطے میں کشیدگی بڑھ چکی ہے۔

 اس جنگ کے باعث عالمی مالیاتی منڈیوں میں بے چینی، تیل کی قیمتوں میں اضافہ اور مہنگائی کے خدشات بھی شدت اختیار کر چکے ہیں۔

ماہرین کے مطابق اگر ایران کو جدید چِپ سازی کی ٹیکنالوجی حاصل ہو جاتی ہے تو وہ اپنے فوجی سازوسامان، الیکٹرانک سسٹمز اور ہتھیاروں کو مزید جدید بنا سکتا ہے، جس سے خطے میں طاقت کا توازن متاثر ہو سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے ایران چین سے سپرسونک اینٹی شپ میزائل خریدنے کے قریب، خطے میں کشیدگی میں اضافہ

 تاہم ابھی تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ ان ٹیکنالوجیز کا جنگ میں عملی طور پر کتنا کردار رہا ہے۔

اس خبر پر نہ تو ایس ایم ائی سی ، نہ ہی چینی حکومت اور نہ ہی ایران کی جانب سے کوئی باضابطہ ردعمل سامنے آیا ہے، جس کے باعث معاملہ مزید پیچیدہ اور حساس بن گیا ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ معاملہ مستقبل میں امریکا اور چین کے تعلقات میں مزید کشیدگی کا باعث بن سکتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

’پاکستان زندہ باد، پاک فوج زندہ باد‘: محمود اچکزئی کا حکومت کی غیرمشروط حمایت کا اعلان

وزیراعظم شہباز شریف کا مشرق وسطیٰ میں جنگ بندی کی خلاف ورزیوں پر اظہار تشویش

پی ایس ایل 11، حیدر آباد کنگز مین کی پشاور زلمی کے خلاف بیٹنگ جاری

پی ٹی آئی کا لیاقت باغ میں جلسہ ملتوی کرنے کا اعلان

غیرملکی وفود کی آمدورفت، اسلام آباد پولیس کی عوام کے لیے اہم ہدایات جاری

ویڈیو

جو کوئی نہ کر سکا پاکستان نے کر دکھایا، بھارت میں صف ماتم

پاکستان کی عالمی سطح پر پذیرائی، گرین پاسپورٹ کو دنیا بھر میں عزت مل گئی

امریکا ایران جنگ بندی: پاکستان کی سفارتکاری پر اسلام آباد کے عوام کیا کہتے ہیں؟

کالم / تجزیہ

نوبل امن انعام تو بنتا ہے

پاکستان نے جنگ بندی کیسے کرائی؟ کیا، کیسے اور کیونکر ممکن ہوا؟

فیصلہ کن موڑ: امن جیتے گا یا کشیدگی؟