حکومت پنجاب نے لیڈی ولنگڈن اسپتال میں ویڈیو بنانے کے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ افسران اور ڈاکٹرز کے خلاف سخت انتظامی کارروائی شروع کردی ہے۔
محکمہ اسپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق ایم ایس لیڈی ولنگڈن اسپتال ڈاکٹر فرح انعام اور ہیڈ آف گائنی ڈیپارٹمنٹ پروفیسر ڈاکٹر عظمیٰ حسین سے 3 روز کے اندر وضاحت طلب کرلی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: لیڈی ولنگڈن اسپتال میں سی سیکشن پر ڈاکٹرز کی دوڑ، ویڈیو سامنے آنے پر انکوائری کا حکم
اسی معاملے میں 4 پوسٹ گریجویٹ ڈاکٹرز، ڈاکٹر طیبہ فاطمہ طور، ڈاکٹر ماہم امین، ڈاکٹر زینب طاہر اور عائشہ افضل کی پوسٹ گریجویٹ ٹریننگ فوری طور پر معطل کردی گئی ہے۔ متعلقہ ریزیڈنٹس کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اسپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ میں رپورٹ کریں۔
صوبائی وزیر صحت خواجہ سلمان رفیق نے کہا کہ اس نوعیت کے اقدامات طبی اخلاقیات کے منافی، مریض کے وقار کی توہین اور پیشہ ورانہ ضوابط کی خلاف ورزی کے مترادف ہیں، جو حکومتی قواعد اور اسپتال کے ایس او پیز کے تحت سختی سے ممنوع ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ویڈیو: اسپتال میں ڈاکٹرز کا مریض پر بدترین تشدد، وجہ کیا بنی؟
سرکاری مراسلے میں مجاز اتھارٹی نے واقعے کو سرکاری ذمہ داریوں کی ادائیگی میں غفلت کی سنگین مثال قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ معاملہ انتظامی خامیوں اور بدنظمی کی عکاسی کرتا ہے۔
سیکریٹری صحت پنجاب عظمت محمود نے خبردار کیا ہے کہ مقررہ وقت میں تسلی بخش جواب جمع نہ کروانے کی صورت میں متعلقہ افراد کے خلاف باقاعدہ تادیبی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔













