لیڈی ولنگڈن اسپتال میں مریض کے آپریشن کے دوران ویڈیو بنانے کا واقعہ، ذمہ داران کے خلاف ایکشن

جمعہ 27 مارچ 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

 حکومت پنجاب نے لیڈی ولنگڈن اسپتال میں ویڈیو بنانے کے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ افسران اور ڈاکٹرز کے خلاف سخت انتظامی کارروائی شروع کردی ہے۔

محکمہ اسپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق ایم ایس لیڈی ولنگڈن اسپتال ڈاکٹر فرح انعام اور ہیڈ آف گائنی ڈیپارٹمنٹ پروفیسر ڈاکٹر عظمیٰ حسین سے 3 روز کے اندر وضاحت طلب کرلی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: لیڈی ولنگڈن اسپتال میں سی سیکشن پر ڈاکٹرز کی دوڑ، ویڈیو سامنے آنے پر انکوائری کا حکم

اسی معاملے میں 4 پوسٹ گریجویٹ ڈاکٹرز، ڈاکٹر طیبہ فاطمہ طور، ڈاکٹر ماہم امین، ڈاکٹر زینب طاہر اور عائشہ افضل کی پوسٹ گریجویٹ ٹریننگ فوری طور پر معطل کردی گئی ہے۔ متعلقہ ریزیڈنٹس کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اسپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ میں رپورٹ کریں۔

صوبائی وزیر صحت خواجہ سلمان رفیق نے کہا کہ اس نوعیت کے اقدامات طبی اخلاقیات کے منافی، مریض کے وقار کی توہین اور پیشہ ورانہ ضوابط کی خلاف ورزی کے مترادف ہیں، جو حکومتی قواعد اور اسپتال کے ایس او پیز کے تحت سختی سے ممنوع ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ویڈیو: اسپتال میں ڈاکٹرز کا مریض پر بدترین تشدد، وجہ کیا بنی؟

سرکاری مراسلے میں مجاز اتھارٹی نے واقعے کو سرکاری ذمہ داریوں کی ادائیگی میں غفلت کی سنگین مثال قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ معاملہ انتظامی خامیوں اور بدنظمی کی عکاسی کرتا ہے۔

سیکریٹری صحت پنجاب عظمت محمود نے خبردار کیا ہے کہ مقررہ وقت میں تسلی بخش جواب جمع نہ کروانے کی صورت میں متعلقہ افراد کے خلاف باقاعدہ تادیبی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp