یونان پہنچنے کی کوشش میں بحیرہ روم کے خطرناک سفر کے دوران کم از کم 18 بنگلہ دیشی تارکین وطن ہلاک ہو گئے، جس نے غیر قانونی ہجرت کے جان لیوا راستوں پر ایک بار پھر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:یونان کشتی حادثے کا مرکزی ملزم عثمان ججہ سیالکوٹ سے گرفتار
بنگلہ دیش کے وزیر مملکت برائے تارکین وطن فلاح و سمندر پار روزگار نورالحق نور نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے اسے انتہائی افسوسناک قرار دیا۔ ان کے مطابق متعدد افراد کو بچا کر یونان میں اسپتالوں اور حراستی مراکز منتقل کیا گیا ہے، جبکہ متاثرین کی شناخت کا عمل جاری ہے۔

حکام کے مطابق کشتی میں مجموعی طور پر 43 افراد سوار تھے جن میں 38 بنگلہ دیشی اور 5 سوڈانی شامل تھے۔ متاثرین نے بتایا کہ انہیں بڑی اور محفوظ کشتی کا وعدہ کیا گیا تھا مگر ایک چھوٹی اور غیر محفوظ کشتی پر سوار کیا گیا، جس میں جی پی ایس اور دیگر بنیادی سہولیات بھی موجود نہیں تھیں۔ سفر کے دوران کئی افراد بیمار ہوئے جبکہ ہلاک ہونے والوں کی لاشیں سمندر میں پھینکنے کا دعویٰ بھی سامنے آیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:یونان کشتی حادثہ: اپنے جگر گوشوں کو کھونے والے کیا بتاتے ہیں؟
یونانی کوسٹ گارڈ کے مطابق جزیرہ کریٹ کے قریب 26 افراد کو بچا لیا گیا، جبکہ انسانی اسمگلنگ کے نیٹ ورکس کے خلاف تحقیقات جاری ہیں۔ ادھر بنگلہ دیشی حکومت نے بین الاقوامی ادارہ برائے مہاجرت کے ساتھ مل کر لاشوں کی واپسی اور زندہ بچ جانے والوں کی مدد کے لیے اقدامات شروع کر دیے ہیں۔
حکام نے ایک بار پھر غیر قانونی ہجرت سے باز رہنے کی تاکید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے خطرناک سفر نہ صرف جان کے لیے مہلک ہیں بلکہ بین الاقوامی تعلقات پر بھی منفی اثرات مرتب کرتے ہیں۔













