اسلام آباد میں پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے وزرائے خارجہ کے اہم اجلاس کے بعد نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے خطے میں امن کے لیے بڑے سفارتی اقدام کا اعلان کیا ہے، جس کے تحت پاکستان ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ مذاکرات کی میزبانی کے لیے تیار ہے۔
مزید پڑھیں: سعودی وزیر خارجہ کی وزیر اعظم سے ملاقات، پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے پر زور
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق اسلام آباد میں ہونے والے 4 ملکی مشاورتی اجلاس میں خطے کی موجودہ صورتحال، جاری جنگ اور اس کے تباہ کن اثرات پر تفصیلی غور کیا گیا۔ وزرائے خارجہ نے اس بات پر اتفاق کیا کہ موجودہ جنگ کسی کے مفاد میں نہیں اور اس سے صرف انسانی جانوں کا ضیاع اور تباہی ہو رہی ہے۔
اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ مسلم اُمہ کا اتحاد اس نازک وقت میں انتہائی اہم ہے، جبکہ تنازعات کے حل کے لیے مذاکرات اور سفارتکاری کو ہی واحد مؤثر راستہ قرار دیا گیا۔ وزرائے خارجہ نے اقوام متحدہ کے چارٹر، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے اصولوں کی پاسداری پر بھی زور دیا۔
اسحاق ڈار نے بتایا کہ پاکستان نے ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ مذاکرات کے لیے اسلام آباد میں میزبانی کی پیشکش کی ہے، جسے شریک ممالک کی مکمل حمایت حاصل ہے۔ ایران اور امریکا نے بھی پاکستان پر اعتماد کا اظہار کیا ہے۔
مزید پڑھیں: پاکستان کے ذریعے ایران کے ساتھ مذاکرات میں پیش رفت ہورہی ہے، ڈونلڈ ٹرمپ
انہوں نے مزید کہا کہ چین اور اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے بھی پاکستان کی امن کوششوں کی مکمل حمایت کی ہے، جبکہ دیگر عالمی رہنماؤں نے بھی اس اقدام کو سراہا ہے۔
وزیر خارجہ کے مطابق پاکستان خطے میں کشیدگی کم کرنے اور دیرپا امن کے قیام کے لیے اپنی سفارتی کوششیں جاری رکھے گا، اور اس مقصد کے لیے عالمی برادری کی حمایت اور تعاون ناگزیر ہے۔














