نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار گزشتہ روز ایک اہم سفارتی تقریب کے دوران پھسلنے کے باعث زخمی ہو گئے، تاہم انہوں نے دن بھر اپنی سرکاری ذمہ داریاں جاری رکھیں، جس پر حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ ذمہ داری کی اعلیٰ مثال ہے۔
اس واقعے کے بعد پاکستانی میڈیا کے کردار کو بھی سراہا جا رہا ہے کہ اس نے ریٹنگ کے لیے واقعے کو بار بار نشر کرنے سے گریز کیا اور خبروں کا مرکز مذاکرات اور سفارتی اجلاس کو رکھا۔
سینیئر صحافیوں کا کہنا ہے کہ یہ عمل قابلِ تعریف ہے اور میڈیا کے اس ذمہ دارانہ رویے کی تعریف کی جانی چاہیے کیونکہ یہ دن پاکستان کے لیے اہم تھا اور عالمی نظریں ملک پر مرکوز تھیں۔
یہ بھی پڑھیے سفارتی ذمہ داریوں کے انجام دہی کے دوران اسحاق ڈار گرپڑے، کندھے میں ہیئرلائن فریکچر کی تشخیص
سابق چیئرمین پیمرا و سینیئر صحافی ابصار عالم کے مطابق میڈیا نے اس معاملے میں غیر ضروری سنسنی اور تضحیک سے گریز کرتے ہوئے ایک حد تک پیشہ ورانہ بلوغت (میچورٹی) کا مظاہرہ کیا۔ ماضی میں اکثر ایسے واقعات کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا رہا، تاہم اس بار میڈیا نے نسبتاً ذمہ داری دکھائی۔
انہوں نے اس رویے کی ایک اہم وجہ یہ بتائی کہ اب میڈیا پر پیچھے سے ہدایات دینے والے عناصر کی گرفت پہلے کی نسبت کم دکھائی دیتی ہے۔ جب میڈیا پر دباؤ کم ہوتا ہے تو ادارے خود اپنے ادارتی فیصلے کرنے کے قابل ہوتے ہیں، جس سے پیشہ ورانہ معیار بہتر ہوتا ہے۔ تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ میڈیا کی ساکھ، جو ماضی میں مختلف اثر و رسوخ کے باعث متاثر ہوئی، اس کی مکمل بحالی میں وقت درکار ہوگا اور مزید میچورٹی کی ضرورت ہے۔
خارجہ امور پر رپورٹنگ کرنے والے صحافی انس ملک نے کہا کہ میڈیا نے اس واقعے میں ’سبسٹنس اوور سنسنی‘ کی پالیسی اپنائی۔ نائب وزیراعظم کی مسلسل سفارتی مصروفیات، بین الاقوامی روابط اور دباؤ کو مدنظر رکھنا ضروری تھا۔ یہ ایک بدقسمت حادثہ تھا اور میڈیا نے اسے غیر ضروری طور پر نمایاں کرنے کے بجائے پالیسی اور سفارتی معاملات پر توجہ مرکوز رکھی۔
انس ملک کے مطابق میڈیا ایک ارتقائی مرحلے سے گزر رہا ہے جہاں وہ آہستہ آہستہ سنجیدہ اور مسئلہ پر مبنی رپورٹنگ کی طرف بڑھ رہا ہے۔ ایسے واقعات میں غیر ضروری طنز و مزاح سے گریز کرنا میڈیا کے پیشہ ورانہ معیار کی عکاسی کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے اسحاق ڈار گر کر زخمی، ’پاکستانی میڈیا نے ریٹنگ کے بجائے ذمہ داری کو ترجیح دی‘
سینیئر صحافی وسیم عباسی نے بھی میڈیا کے اس طرزِ عمل کو سراہتے ہوئے کہا کہ کسی کا پھسل جانا ایک عام انسانی واقعہ ہے اور اسے کسی کی شخصیت یا قابلیت سے جوڑنا غیر مناسب ہے۔ ان کے مطابق پاکستانی معاشرتی اقدار بھی یہی تقاضا کرتی ہیں کہ ایسے مواقع پر احترام اور ہمدردی کا مظاہرہ کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ اس روز پاکستان کے لیے سفارتی سطح پر ایک اہم دن تھا، اس لیے میڈیا نے اس واقعے کو نمایاں نہ کر کے بڑے قومی اور عالمی امور کو ترجیح دی۔ ان کے مطابق یہ فیصلہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ میڈیا کو ملکی مفاد اور بین الاقوامی تناظر کی اہمیت کا ادراک ہے۔











