صدر مملکت آصف علی زرداری کی زیر صدارت قومی قیادت کے اہم اجلاس میں صوبوں نے ملک میں لاک ڈاؤن کی مخالفت کردی۔
اسلام آباد میں صدر مملکت کی زیرصدارت اعلیٰ سطح کے اجلاس میں ملک بھر میں اسمارٹ لاک ڈاؤن کے نفاذ پر غور کیا گیا۔
مزید پڑھیں: علاقائی صورتحال کے تناظر میں عوام پر قیمتوں کا بوجھ کم کرنے کے لیے اقدامات کیے جائیں، صدر مملکت کی ہدایت
اجلاس میں شریک چاروں صوبوں کی قیادت نے اس تجویز پر اختلاف ظاہر کیا اور ملک بھر میں اسمارٹ لاک ڈاؤن نہ لگانے کی سفارش کی۔
اجلاس میں کفایت شعاری اقدامات کو مزید سخت کرنے اور توانائی و ایندھن کی بچت کے لیے کیے جانے والے اقدامات پر مکمل عملدرآمد کو یقینی بنانے کا فیصلہ کیا گیا۔
ساتھ ہی صوبوں پر زور دیا گیا کہ وہ 254 ارب روپے کے ریلیف پیکج میں اپنا حصہ ڈالیں تاکہ عوام کو مہنگائی کے دباؤ سے محفوظ رکھا جا سکے۔
اجلاس میں وزیراعظم محمد شہباز شریف کے علاوہ نائب وزیرِ اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، سابق وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری، وزیر داخلہ محسن نقوی اور قومی سلامتی کے مشیر لیفٹیننٹ جنرل عاصم ملک بھی شریک ہوئے۔
اجلاس میں ملک میں قومی سلامتی، معاشی اور توانائی کی صورتحال پر تفصیلی غور کیا گیا اور خطے میں بدلتی ہوئی صورتحال کے ممکنہ اثرات کا جائزہ لیا گیا۔
شرکا نے ملک کو درپیش معاشی، توانائی اور سکیورٹی کے چیلنجز پر تبادلہ خیال کیا اور ان سے نمٹنے کے لیے جامع حکمتِ عملی اپنانے پر اتفاق کیا۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ وزیراعظم نے تیل کی قیمتوں میں اضافے کی تمام تجاویز مسترد کر دی ہیں اور حکومت کی کفایت شعاری کے اقدامات سے بچائی گئی رقم عوامی ریلیف پر خرچ کی جا رہی ہے۔ اس ضمن میں اخراجات میں کمی، ترقیاتی بجٹ میں کٹوتی اور سرکاری گاڑیوں کے ساٹھ فیصد استعمال کو فوری طور پر روکنے جیسے اقدامات کیے گئے ہیں۔
صدر مملکت نے واضح کیاکہ مشکل حالات میں معاشی طور پر کمزور طبقات کو اکیلا نہیں چھوڑا جائے گا اور مربوط فیصلہ سازی کو یقینی بنانے کے لیے معیشت، توانائی، غذائی تحفظ اور سکیورٹی کے شعبوں میں ہم آہنگی ضروری ہے۔
انہوں نے عوامی آگاہی کے لیے اقدامات پر بھی زور دیا، جس میں ایندھن کے کم استعمال، پبلک ٹرانسپورٹ کے فروغ اور مشترکہ سفری سہولیات کو اپنانے کی ترغیب شامل ہے۔
اجلاس میں چاروں صوبوں، گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر کی قیادت نے مہنگائی کے دباؤ، اشیائے ضروریہ کی فراہمی اور عوام پر اثرات کو کم کرنے کے لیے کیے گئے اقدامات پر بریفنگ دی۔
خطے کی مجموعی صورتحال اور اس کے پاکستان کی سکیورٹی، معیشت اور غذائی تحفظ پر ممکنہ اثرات کا بھی جائزہ لیا گیا جبکہ بریفنگ میں بتایا گیا کہ عالمی بحران کے باوجود ایندھن کی فراہمی میں کوئی رکاوٹ نہیں آئی اور ملک کی ضروریات پوری کرنے کے لیے وافر ذخائر موجود ہیں۔
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اجلاس کو حکومت کی فعال سفارتی کوششوں، ترکیہ، سعودی عرب اور مصر کی قیادت کے ساتھ حالیہ رابطوں اور تنازع میں شامل ممالک کے رہنماؤں سے ہونے والی بات چیت کے بارے میں بھی آگاہ کیا۔ انہوں نے اپنے آئندہ دورہ بیجنگ کے بارے میں بھی بریفنگ دی۔
اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے کہاکہ اسمارٹ لاک ڈاؤن نافذ کرنے کا فیصلہ صوبوں کی مختلف رائے کی وجہ سے نہیں کیا گیا۔
مزید پڑھیں: صدر مملکت سے وزیراعظم شہباز شریف کی ملاقات، قومی سطح پر مربوط حکمتِ عملی اور ادارہ جاتی ہم آہنگی پر زور
انہوں نے زور دیا کہ پاکستان کو امن قائم رکھنے میں کردار ادا کرنا چاہیے کیونکہ مسلم دنیا بحران میں ہمیشہ پاکستان کی طرف دیکھتی ہے۔
وزیرِ اعلیٰ نے کہاکہ جنگ میں کسی فریق کا حصہ نہیں بنیں گے اور قومی و عالمی بحران پر بلائے گئے اجلاس میں پاکستان کے مفاد کو مقدم رکھتے ہوئے شرکت کی۔
انہوں نے کہاکہ عوام پر اضافی بوجھ ڈالنے والے کسی فیصلے کا حصہ نہیں بنیں گے اور وفاقی بجٹ اور این ایف سی ایوارڈ کے حوالے سے تحفظات بھی موجود ہیں۔














