کوئٹہ کے علاقے اختر آباد ویسٹرن بائی پاس پر 18 انچ قطر کی گیس پائپ لائن دھماکے سے متاثر ہونے کے بعد بلوچستان کے مختلف علاقوں میں گیس کی فراہمی معطل ہو گئی ہے۔
گیس کی فراہمی اچانک معطل ہونے کے باعث شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق نامعلوم شرپسند عناصر نے دھماکہ خیز مواد کے ذریعے گیس پائپ لائن کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں زور دار دھماکہ ہوا اور پائپ لائن میں آگ بھڑک اٹھی۔
یہ بھی پڑھیں: ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافہ، بلوچستان میں عوام کو کن مشکلات کا سامنا ہے؟
واقعے کے بعد متعلقہ اداروں نے فوری طور پر علاقے کو گھیرے میں لے لیا جبکہ تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
سوئی سدرن گیس کمپنی لمیٹڈ کے مطابق دھماکے کے باعث پائپ لائن کے قریب موجود والو اسمبلی کو شدید نقصان پہنچا ہے، جس کی وجہ سے گیس کی فراہمی متاثر ہوئی۔
کمپنی کے مطابق اس واقعے کے نتیجے میں مستونگ، قلات، پشین، کچلاک اور زیارت سمیت کوئٹہ شہر کے مختلف علاقوں میں گیس کی سپلائی بند ہو گئی ہے۔
مزید پڑھیں: بلوچستان حکومت کی دیگر صوبوں کو گیس کی سپلائی بند کرنے کی دھمکی
کوئٹہ کے جن علاقوں میں گیس کی فراہمی معطل ہوئی ہے ان میں ہزارہ ٹاؤن، ہزار گنجی، خروٹ آباد، پشتون باغ، خیزی اور نوحصار شامل ہیں۔
گیس بند ہونے سے گھریلو صارفین اور کاروباری مراکز کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
ایس ایس جی سی کے مطابق واقعے کے فوری بعد سیکیورٹی اداروں اور بم ڈسپوزل اسکواڈ نے متاثرہ علاقے کی مکمل تلاشی لی تاکہ کسی بھی مزید دھماکہ خیز مواد کی موجودگی کو یقینی طور پر ختم کیا جا سکے۔
مزید پڑھیں: ایران کشیدگی کے اثرات بلوچستان تک پہنچ گئے، ایندھن سمیت اشیا خورونوش کی قلت کا خدشہ
کلیئرنس کے بعد کمپنی کی تکنیکی ٹیمیں 31 مارچ 2026 کی صبح سے متاثرہ پائپ لائن کی مرمت کا آغاز کریں گی۔
کمپنی حکام کا کہنا ہے کہ گیس کی فراہمی کی جلد بحالی کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کیے جا رہے ہیں جبکہ پیش رفت سے عوام کو آگاہ کیا جاتا رہے گا۔
ایس ایس جی سی نے صارفین کو پیش آنے والی مشکلات پر معذرت کرتے ہوئے یقین دہانی کرائی ہے کہ مرمتی کام مکمل ہوتے ہی گیس سپلائی بحال کر دی جائے گی۔














