ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافہ، بلوچستان میں عوام کو کن مشکلات کا سامنا ہے؟

جمعہ 27 مارچ 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بلوچستان میں ایل پی جی کی قیمتوں میں مسلسل اضافے نے شہریوں، گھریلو صارفین اور چھوٹے کاروباروں کے لیے نئی مشکلات پیدا کر دی ہیں۔ ایران میں حالیہ کشیدہ صورتحال اور سرحدی تجارت میں رکاوٹوں کے باعث سپلائی متاثر ہو رہی ہے، جس کے نتیجے میں کوئٹہ سمیت مختلف علاقوں میں قیمتیں تیزی سے بڑھ رہی ہیں۔

مقامی مارکیٹ ذرائع کے مطابق کوئٹہ شہر میں گزشتہ ایک ماہ کے دوران ایل پی جی کی قیمت میں قریباً 100 روپے فی کلو تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ حالیہ اضافے کے بعد شہر میں فی کلو قیمت قریباً 370 روپے تک پہنچ چکی ہے، جس سے گھریلو صارفین کے ساتھ ساتھ ہوٹلوں، چائے خانوں اور دیگر چھوٹے کاروباروں کے اخراجات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

مزید پڑھیں: ایل پی جی کی قیمتوں میں بڑا اضافہ، ریٹیل قیمت 350 روپے فی کلو تک پہنچ گئی

ایل پی جی فروخت کرنے والے دکاندار ہاشم احمد نے وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ایران میں کشیدگی اور سرحدی بندش کے باعث سپلائی چین متاثر ہو رہی ہے، جس کا براہ راست اثر مقامی مارکیٹ پر پڑ رہا ہے۔

ان کے مطابق جب سرحدی راستوں سے گیس کی ترسیل کم ہوتی ہے تو طلب بڑھ جاتی ہے اور قیمتیں تیزی سے اوپر چلی جاتی ہیں۔ صرف عید کے دنوں میں ہی ایل پی جی کی قیمت میں قریباً 35 روپے فی کلو اضافہ دیکھنے میں آیا، جبکہ گزشتہ چند ہفتوں میں مجموعی طور پر بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافے کا سب سے زیادہ اثر ان کاروباروں پر پڑ رہا ہے جو مکمل طور پر اس ایندھن پر انحصار کرتے ہیں۔ کوئٹہ کے ایک چائے ہوٹل کے مالک علی احمد خان نے بتایا کہ گیس کی قیمتوں میں مسلسل اضافے سے کاروبار چلانا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق پہلے ہی آٹا، دودھ، چینی اور دیگر اشیائے خورونوش مہنگی ہو چکی ہیں، اور اب مہنگی گیس خریدنا پڑ رہی ہے، جس سے منافع قریباً ختم ہو گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ چائے بنانے اور دیگر کھانے پکانے کے لیے روزانہ بڑی مقدار میں ایل پی جی استعمال ہوتی ہے۔ جب گیس مہنگی ہوتی ہے تو اس کا بوجھ براہ راست کاروبار پر پڑتا ہے۔ موجودہ صورتحال میں سستی چائے فروخت کرنا ممکن نہیں رہا، اس لیے وہ ایک کپ چائے کی قیمت میں قریباً 20 روپے تک اضافہ کرنے پر غور کر رہے ہیں تاکہ اخراجات کا کچھ ازالہ کیا جا سکے۔

ماہرین کے مطابق بلوچستان میں ایل پی جی صرف ایک گھریلو ایندھن نہیں بلکہ روزمرہ زندگی کا اہم حصہ بن چکی ہے۔ صوبے کے کئی علاقوں میں قدرتی گیس کی فراہمی محدود ہونے کے باعث گھروں، ہوٹلوں، بیکریوں اور چھوٹے ریسٹورنٹس میں اس کا استعمال زیادہ ہے۔ ایسے میں قیمتوں میں اضافہ براہ راست عام شہری کی جیب پر اثر انداز ہوتا ہے۔

مزید پڑھیں:مشرق وسطیٰ کشیدگی: پیٹرول کے بعد ایل پی جی کے 2 جہاز بھی پورٹ قاسم پر لنگر انداز

معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافہ مہنگائی کے ایک نئے سلسلے کو جنم دے سکتا ہے۔ جب ہوٹل، چائے خانے اور دیگر کاروباروں کے اخراجات بڑھتے ہیں تو وہ اپنی اشیا کی قیمتیں بڑھانے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ اس طرح گیس کی قیمت میں اضافہ بالواسطہ طور پر چائے، نان، کھانے اور دیگر اشیا کی قیمتوں میں اضافے کا سبب بنتا ہے۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران کے ساتھ سرحدی تجارت اور سپلائی چین جلد بحال نہ ہوئی تو بلوچستان میں ایل پی جی کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ اس سے نہ صرف گھریلو صارفین بلکہ چھوٹے کاروباروں کی مشکلات میں اضافہ ہوگا اور مقامی سطح پر مہنگائی کا دباؤ مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی میں 45 روز کی توسیع پر اتفاق

ڈیزل اور پیٹرول کی فی لیٹر قیمتوں میں 5،5 روپوں کی کمی کردی گئی

امریکا نے پولینڈ میں 4 ہزار فوجیوں کی تعیناتی کا منصوبہ منسوخ کردیا

فاطمہ ثنا کا ایک اور سنگ میل: صرف 15 گیندوں پر نصف سینچری بناکر ٹی 20 کا نیا عالمی ریکارڈ قائم کردیا

ڈاکٹر انعم فاطمہ پر ٹرولنگ، پی ٹی آئی کا خواتین کے ساتھ رویہ ایک بار پھر آشکار

ویڈیو

کوکین کوئین کے خلاف اگر منشیات اور اسلحہ رکھنے کا جرم ثابت ہوجائے تو مجموعی طور پر کتنی سزا ہوسکتی ہے؟

امریکا چین مذاکرات میں تجارت پر بات، اور روبیو کے نام سے جڑا دلچسپ معاملہ، آبنائے ہرمز بھی زیرِ بحث

پاکستان کا پہلا پانڈا بانڈ اجرا، وزیر خزانہ نے چین کے ساتھ مالی تعاون کو تاریخی سنگ میل قرار دے دیا

کالم / تجزیہ

جب محافظ ہی زہر فروشوں کے نگہبان بن جائیں

کبھی آپ نے ‘ناکامی’ کی تقریب منائی ہے؟

زخمی کھلاڑی کی شاندار اننگز