اسرائیلی پارلیمنٹ (کنیسٹ) کی جانب سے فلسطینیوں کے لیے سزائے موت سے متعلق نئے قانون کی منظوری پر عالمی سطح پر سخت ردِعمل دیکھنے میں آیا ہے۔
انسانی حقوق کی تنظیموں اور فلسطینی قیادت نے اس اقدام کو بین الاقوامی قوانین کے منافی اور کھلا امتیازی قانون قرار دیتے ہوئے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔
مزید پڑھیں: اسرائیلی پارلیمنٹ کا متنازع قانون منظور، فلسطینیوں کے لیے سزائے موت متعارف
یہ قانون پیر کے روز کنیسٹ میں تیسرے اور آخری مرحلے میں 48 کے مقابلے میں 62 ووٹوں سے منظور ہوا، جس میں اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے بھی حمایت میں ووٹ دیا۔
قانون کے مطابق اسرائیلی فوجی عدالتوں میں دہشتگردی کے الزامات میں سزا پانے والے فلسطینیوں کو 90 دن کے اندر پھانسی دی جائے گی، جس میں زیادہ سے زیادہ 180 دن تک تاخیر ممکن ہو سکتی ہے۔
اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹس کے رہنما یائر گولان نے اس قانون کو غیر ضروری قرار دیتے ہوئے کہاکہ اس سے اسرائیل کو کوئی سیکیورٹی فائدہ حاصل نہیں ہوگا بلکہ یہ بین الاقوامی پابندیوں کا باعث بن سکتا ہے۔
ووٹنگ سے قبل برطانیہ، فرانس، جرمنی اور اٹلی نے اس قانون پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ یہ اسرائیل کے جمہوری وعدوں کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔
فلسطینی اتھارٹی نے اس قانون کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ قانون سازی کے پردے میں ماورائے عدالت قتل کو جائز بنانے کی کوشش ہے، جبکہ حماس نے خبردار کیاکہ اس سے اسرائیلی جیلوں میں قید فلسطینیوں کی جانوں کو خطرہ لاحق ہو جائے گا۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھی اسرائیلی حکام سے قانون واپس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہاکہ اس کے ذریعے فلسطینیوں کو سزائے موت دینے کے لیے کھلی چھوٹ دی جا رہی ہے اور منصفانہ ٹرائل کی بنیادی ضمانتیں ختم کی جا رہی ہیں۔
اسرائیل کی ایسوسی ایشن فار سول رائٹس نے اس قانون کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر کردی ہے، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ یہ قانون غیر آئینی، امتیازی اور قانونی اختیار کے بغیر نافذ کیا گیا ہے۔ اب سپریم کورٹ کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ آیا اس درخواست کی سماعت کی جائے یا نہیں۔
انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق فلسطینی قیدیوں کو بغیر متفقہ فیصلے سزائے موت دینا منصفانہ ٹرائل اور قانونی عملداری کے اصولوں کو کمزور کرتا ہے۔
90 دن کے اندر پھانسی عدالتی نظرثانی کے مواقع محدود کر دیتی ہے، جس سے ناقابلِ واپسی عدالتی غلطیوں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ دہشتگردی کی درجہ بندی کے تحت فلسطینیوں کو نشانہ بنانا نظامی عدم مساوات اور ادارہ جاتی قانونی تفریق کو ظاہر کرتا ہے۔
انسانی حقوق کے رہنماؤں کے مطابق اسرائیلی جیلوں میں 9300 سے زیادہ فلسطینی، جن میں 350 بچے اور 66 خواتین شامل ہیں، فوری خطرے میں ہیں، جس سے عملاً پہلے سے جاری اقدامات کو قانونی شکل دی جا رہی ہے۔ وزیر قومی سلامتی ایتمار بن گویر کے جشن منانے والے بیانات اور سخت حراستی حالات سیاسی محرکات اور دباؤ کی نشاندہی کرتے ہیں۔
مزید پڑھیں: فلسطینی علاقوں کے اسرائیل میں انضمام کے خلاف اقوام متحدہ میں پاکستان سمیت 8 ممالک کا مشترکہ بیان
انسانی حقوق کے رہنماؤں کے مطابق یہ قانون ماضی کی ان مثالوں سے مشابہت رکھتا ہے جہاں ریاستوں نے مخصوص آبادیوں کو دبانے کے لیے سزائے موت کو قانونی حیثیت دی۔ اسرائیل کی یہ پالیسی ساختی جبر کو مزید گہرا کرتی ہے اور امتیازی سلوک کو ادارہ جاتی شکل دیتی ہے۔
جرمنی، فرانس، اٹلی، برطانیہ اور اقوام متحدہ نے تحمل کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ لازمی سزائے موت حقِ زندگی کے خلاف ہے۔
یہ قانون تنازع کے نظم و نسق میں ایک خطرناک تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے جو زندگی، مساوات، قانونی عمل اور بین الاقوامی انسانی اصولوں کو چیلنج کرتا ہے۔














