کوئٹہ میں ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل نے بجلی چوری اور مالی بے ضابطگیوں کے خلاف کارروائیوں کے اعدادوشمار پیش کردیے۔
حکام کے مطابق مارچ 2024 سے مارچ 2026 تک 17 ہزار 560 پوائنٹس کا معائنہ کیا گیا، جس کے دوران ایک ہزار 193 بجلی چوری کے کیسز سامنے آئے۔
ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ بجلی چوری میں ملوث افراد کے خلاف 853 انکوائریاں کی گئیں اور 324 مقدمات درج کیے گئے۔ کارروائیوں کے دوران 172.98 ملین روپے کی مالی بے ضابطگیاں بے نقاب ہوئیں جبکہ قانونی اقدامات کے ذریعے 825.56 ملین روپے کی ریکوری بھی یقینی بنائی گئی۔
مزید برآں، 620 ٹیمپرڈ میٹر، 15 غیر قانونی ٹرانسفارمرز اور 1300 میٹر کُندا سسٹم ضبط کیا گیا۔ کیسکو کے افسران بھی کرپشن میں ملوث نکلے، جن میں اووربلنگ کے 14 افسران شامل تھے۔
اووربلنگ کے نتیجے میں 8 لاکھ 20 ہزار سے زیادہ یونٹس اضافی چارج کیے گئے، جس کے خلاف مجموعی طور پر 13 ایف آئی آرز درج کی گئیں۔
ایف آئی اے حکام نے اعلان کیا ہے کہ بجلی چوری اور مالی بے ضابطگیوں کے خلاف کریک ڈاؤن جاری رہے گا۔














