سہیل آفریدی کا وزیراعلیٰ بلوچستان کے خلاف سخت بیان کیا صوبوں میں تصادم پیدا کرےگا؟

منگل 31 مارچ 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پشین میں ہونے والے ایک سیاسی جلسے کی گونج بلوچستان کی سیاست میں موضوع بحث بن گئی ہے، جہاں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی سخت تنقید کے باوجود وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی اور ان کی کابینہ کی جانب سے مکمل خاموشی اختیار کی گئی، جس نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

پشین میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے سہیل آفریدی نے وزیراعلیٰ بلوچستان پر تنقید کرتے ہوئے کہاکہ وزیر اعلیٰ کی کوئی تھوڑی بہت حیثیت ہوتی ہے تو بندہ ان سے گلہ بھی کرتا ہے، لیکن جو جعلی ووٹوں کے ساتھ وزیراعلیٰ بنے ہوں ان سے ہم کیا گلہ کریں۔ ہماری جماعت کے کارکنوں کے ساتھ جو سلوک کیا گیا وہ قابل قبول نہیں۔

مزید پڑھیں: وفاقی حکومت قاسم خان کے بیان کو غلط رنگ دے رہی ہے، سہیل آفریدی

انہوں نے دعویٰ کیاکہ چمن میں پی ٹی آئی کے ضلعی صدر کے گھر کی چادر اور چار دیواری کے تقدس کی پامالی کی گئی۔ قبائلی روایات کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہاکہ مفتی صاحب بھی قبائلی ہیں اور ہم بھی قبائلی ہیں، چادر اور چار دیواری کے تقدس کی پامالی ہرگز برداشت نہیں کی جا سکتی۔

اس موقع پر انہوں نے تاریخی کردار عجب خان آفریدی کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ قبائلی معاشرے میں عزت و احترام کی اپنی اہمیت ہوتی ہے۔

سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ سیاسی اختلاف اپنی جگہ موجود رہتا ہے لیکن جمہوری انداز میں رویہ اختیار کرنا سب کے لیے بہتر ہوتا ہے۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ اس سخت بیان کے باوجود وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی یا ان کی کابینہ کے کسی رکن کی جانب سے فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا، جسے سیاسی حلقے ایک معنی خیز خاموشی قرار دے رہے ہیں۔

بلوچستان کے سینیئر صحافی اور تجزیہ کار عرفان سعید نے اس صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے وی نیوز سے گفتگو میں کہاکہ سہیل آفریدی جس صوبے میں بھی جاتے ہیں وہاں اس قسم کے بیانات دے جاتے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ پاکستان تحریک انصاف کی قیادت کو اس طرز سیاست پر گریز کرنا چاہیے کیونکہ اس طرح کے بیانات سے سیاسی ماحول میں کشیدگی پیدا ہوتی ہے۔

انہوں نے کہاکہ ایک صوبے کے وزیر اعلیٰ کی حیثیت سے اس طرح کے جارحانہ بیانات دینا مناسب نہیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ملک میں پہلے ہی سیاسی تناؤ موجود ہے۔

بلوچستان کے ایک اور سینیئر صحافی اور تجزیہ کار سید علی شاہ نے وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ پاکستان تحریک انصاف کا یہ مؤقف دراصل 8 فروری 2024 کے انتخابات کے بعد سے مسلسل سامنے آ رہا ہے اور یہ صرف بلوچستان تک محدود نہیں۔

ان کے مطابق پی ٹی آئی نہ صرف بلوچستان بلکہ وفاقی حکومت، وزیر اعظم اور دیگر صوبوں کی حکومتوں کو بھی تسلیم نہیں کرتی اور یہی اس جماعت کا سیاسی بیانیہ بن چکا ہے۔

مزید پڑھیں: پی ٹی آئی کو 3 سالوں سے مسلسل دیوار سے لگایا جارہا ہے، سہیل آفریدی

سید علی شاہ کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا اور بلوچستان کے عوام کے درمیان تاریخی طور پر اچھے تعلقات اور مضبوط روابط موجود ہیں، اس لیے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کو اس طرح کا جارحانہ انداز اختیار نہیں کرنا چاہیے تھا۔

انہوں نے کہاکہ اگر کسی حکومت کی قانونی حیثیت پر اعتراض ہو تو اس کے لیے سیاسی اور مہذب زبان استعمال کی جا سکتی ہے، لیکن سخت یا بازاری انداز میں بات کرنا مناسب نہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

شام کے وزیر خارجہ کا دورہ پاکستان مکمل: باہمی تعاون اور تعلقات کو فروغ دینے پر اتفاق

برونائی کے سلطان نے بہو سے شاہی اعزازات کیوں واپس لے لیے؟

عمران خان کو عین وقت پر شفا اسپتال کی بجائے پمز کیوں لے جایا گیا؟ طارق فضل چوہدری نے بتادیا

دنیا کے تیز ترین موٹرائزڈ لکڑی کے جوتے نے 70 میل فی گھنٹہ کی رفتار کا ریکارڈ قائم کردیا

حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں مزید اضافہ کردیا

ویڈیو

ایک سال تک مفت اے آئی سہولت، پاکستانی طلبہ اسے کیسے حاصل کرسکتے ہیں؟

عمران خان کا علاج الشفا انٹرنیشنل کے بجائے پمز سے، حقائق کیا؟ پمز منتقلی کے خلاف پی ٹی آئی کا بڑا اقدام، خان کا سہیل آفریدی کے لیے پیغام

امریکی صدر پر گانا چرانے کا الزام، گلوکارہ آریانا گرانڈے ڈونلڈ ٹرمپ پر برس پڑیں

کالم / تجزیہ

عینی آپا ’آگ کا دریا‘ پار کیوں نہ کرسکیں؟

’ايسا ابّا کہاں سے لبھّا تھا‘

قائداعظم کی بیماری: سازشی تھیوری دم توڑ گئی