پشین میں ہونے والے ایک سیاسی جلسے کی گونج بلوچستان کی سیاست میں موضوع بحث بن گئی ہے، جہاں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی سخت تنقید کے باوجود وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی اور ان کی کابینہ کی جانب سے مکمل خاموشی اختیار کی گئی، جس نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
پشین میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے سہیل آفریدی نے وزیراعلیٰ بلوچستان پر تنقید کرتے ہوئے کہاکہ وزیر اعلیٰ کی کوئی تھوڑی بہت حیثیت ہوتی ہے تو بندہ ان سے گلہ بھی کرتا ہے، لیکن جو جعلی ووٹوں کے ساتھ وزیراعلیٰ بنے ہوں ان سے ہم کیا گلہ کریں۔ ہماری جماعت کے کارکنوں کے ساتھ جو سلوک کیا گیا وہ قابل قبول نہیں۔
مزید پڑھیں: وفاقی حکومت قاسم خان کے بیان کو غلط رنگ دے رہی ہے، سہیل آفریدی
انہوں نے دعویٰ کیاکہ چمن میں پی ٹی آئی کے ضلعی صدر کے گھر کی چادر اور چار دیواری کے تقدس کی پامالی کی گئی۔ قبائلی روایات کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہاکہ مفتی صاحب بھی قبائلی ہیں اور ہم بھی قبائلی ہیں، چادر اور چار دیواری کے تقدس کی پامالی ہرگز برداشت نہیں کی جا سکتی۔
اس موقع پر انہوں نے تاریخی کردار عجب خان آفریدی کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ قبائلی معاشرے میں عزت و احترام کی اپنی اہمیت ہوتی ہے۔
سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ سیاسی اختلاف اپنی جگہ موجود رہتا ہے لیکن جمہوری انداز میں رویہ اختیار کرنا سب کے لیے بہتر ہوتا ہے۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ اس سخت بیان کے باوجود وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی یا ان کی کابینہ کے کسی رکن کی جانب سے فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا، جسے سیاسی حلقے ایک معنی خیز خاموشی قرار دے رہے ہیں۔
بلوچستان کے سینیئر صحافی اور تجزیہ کار عرفان سعید نے اس صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے وی نیوز سے گفتگو میں کہاکہ سہیل آفریدی جس صوبے میں بھی جاتے ہیں وہاں اس قسم کے بیانات دے جاتے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ پاکستان تحریک انصاف کی قیادت کو اس طرز سیاست پر گریز کرنا چاہیے کیونکہ اس طرح کے بیانات سے سیاسی ماحول میں کشیدگی پیدا ہوتی ہے۔
انہوں نے کہاکہ ایک صوبے کے وزیر اعلیٰ کی حیثیت سے اس طرح کے جارحانہ بیانات دینا مناسب نہیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ملک میں پہلے ہی سیاسی تناؤ موجود ہے۔
بلوچستان کے ایک اور سینیئر صحافی اور تجزیہ کار سید علی شاہ نے وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ پاکستان تحریک انصاف کا یہ مؤقف دراصل 8 فروری 2024 کے انتخابات کے بعد سے مسلسل سامنے آ رہا ہے اور یہ صرف بلوچستان تک محدود نہیں۔
ان کے مطابق پی ٹی آئی نہ صرف بلوچستان بلکہ وفاقی حکومت، وزیر اعظم اور دیگر صوبوں کی حکومتوں کو بھی تسلیم نہیں کرتی اور یہی اس جماعت کا سیاسی بیانیہ بن چکا ہے۔
مزید پڑھیں: پی ٹی آئی کو 3 سالوں سے مسلسل دیوار سے لگایا جارہا ہے، سہیل آفریدی
سید علی شاہ کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا اور بلوچستان کے عوام کے درمیان تاریخی طور پر اچھے تعلقات اور مضبوط روابط موجود ہیں، اس لیے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کو اس طرح کا جارحانہ انداز اختیار نہیں کرنا چاہیے تھا۔
انہوں نے کہاکہ اگر کسی حکومت کی قانونی حیثیت پر اعتراض ہو تو اس کے لیے سیاسی اور مہذب زبان استعمال کی جا سکتی ہے، لیکن سخت یا بازاری انداز میں بات کرنا مناسب نہیں۔













