برطانیہ میں مہنگائی کے اثرات کم کرنے کے لیے حکومت نے تنخواہوں اور کم از کم اجرت میں اضافے سمیت متعدد اقدامات کا اعلان کیا ہے۔ وزیراعظم سر کیئر اسٹارمر کا کہنا ہے کہ حکومت کم آمدنی والے طبقے کو ریلیف دینے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔
نئی پالیسی کے تحت 21 سال یا اس سے زائد عمر کے کارکنوں کی کم از کم اجرت 50 پنس اضافے کے بعد 12.71 پاؤنڈ فی گھنٹہ مقرر کر دی گئی ہے، جس سے تقریباً 27 لاکھ افراد مستفید ہوں گے۔ اسی طرح 18 سے 20 سال کے کارکنوں کی اجرت بڑھا کر 10.85 پاؤنڈ کر دی گئی ہے، جبکہ کم عمر ملازمین اور اپرنٹس کے لیے یہ شرح 8 پاؤنڈ فی گھنٹہ کر دی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: رواں ماہ مہنگائی 8 فیصد کے قریب رہنے کا امکان، وزارت خزانہ کی رپورٹ جاری
حکومت کے مطابق اس اضافے سے لاکھوں کارکنوں کی سالانہ آمدنی میں نمایاں اضافہ ہوگا۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدام بڑھتی مہنگائی اور عالمی حالات کے تناظر میں کیا گیا ہے، خصوصاً مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے باعث توانائی کی قیمتوں میں اضافے نے صورتحال کو پیچیدہ بنا دیا ہے۔
وزیراعظم اسٹارمر نے توانائی، انشورنس اور شپنگ کمپنیوں کے نمائندوں سے ملاقات کے بعد صورتحال کا جائزہ لیا اور کہا کہ حکومت قیمتوں میں کمی کے لیے ہر ممکن اقدام کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز میں استحکام سے عالمی منڈی میں قیمتیں کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: مشرق وسطیٰ کشیدگی: سندھ کابینہ کے اراکین 3 ماہ کی تنخواہوں سے دستبردار، 60 فیصد سرکاری گاڑیاں معطل
اعلان کے مطابق توانائی بلوں میں اوسطاً 117 پاؤنڈ سالانہ کمی کی جائے گی جبکہ ادویات کی قیمتوں کو بھی منجمد کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب کاروباری حلقوں نے خبردار کیا ہے کہ اجرتوں میں اضافے سے لاگت بڑھے گی، جس کے باعث قیمتوں میں اضافہ یا ملازمین کی تعداد میں کمی کرنا پڑ سکتی ہے۔ تاہم حکومت کا مؤقف ہے کہ یہ اقدامات عوام کو فوری ریلیف فراہم کریں گے۔













