رائٹرز کے مطابق اسرائیل کے نئے قانون کے بعد فلسطینیوں کو خدشہ ہے کہ قیدیوں کو بغیر مکمل قانونی عمل کے سزائے موت دی جا سکتی ہے۔
مزید پڑھیں:سزائے موت کا سامنا کرنے والے کشمیری رہنما یاسین ملک کی زندگی پر ایک نظر
ناقدین کا کہنا ہے کہ قانون کا اطلاق زیادہ تر فلسطینیوں پر ہوگا، جبکہ اقوام متحدہ نے بھی اسے بین الاقوامی قوانین کے خلاف قرار دیا ہے۔
رام اللہ میں قیدیوں کے اہلخانہ نے احتجاج کرتے ہوئے قانون واپس لینے کا مطالبہ کیا، جبکہ ماہرین کے مطابق اسرائیلی سپریم کورٹ میں اسے چیلنج کیا جا سکتا ہے۔
ایک خاتون میسون شومریہ جن کے بیٹے منصور قید ہیں نے کہا کہ یہ خبر ہمارے لیے بجلی بن کر گری ہے، ہمیں اپنے بچوں کی زندگیوں کا شدید خوف ہے۔
مزید پڑھیں: لیڈی ڈیانا اپنے چھوٹے بیٹے ہیری کے لیے فکرمند کیوں رہتی تھیں؟
اسی طرح عبد الفتاح الحیمونی، جن کے بیٹے احمد پر حملے کے الزامات ہیں، نے خدشہ ظاہر کیا کہ ان کے بیٹے کو بھی سزائے موت کا سامنا ہو سکتا ہے اور اسے منصفانہ ٹرائل نہیں ملے گا۔
انہوں نے انسانی حقوق کی تنظیموں سے اپیل کی کہ وہ اسرائیلی حکومت پر دباؤ ڈالیں تاکہ یہ قانون نافذ نہ ہو سکے۔














