اسرائیلی قانون پر فلسطینیوں کی تشویش، سزائے موت کا خدشہ

بدھ 1 اپریل 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

رائٹرز کے مطابق اسرائیل کے نئے قانون کے بعد فلسطینیوں کو خدشہ ہے کہ قیدیوں کو بغیر مکمل قانونی عمل کے سزائے موت دی جا سکتی ہے۔

مزید پڑھیں:سزائے موت کا سامنا کرنے والے کشمیری رہنما یاسین ملک کی زندگی پر ایک نظر

ناقدین کا کہنا ہے کہ قانون کا اطلاق زیادہ تر فلسطینیوں پر ہوگا، جبکہ اقوام متحدہ نے بھی اسے بین الاقوامی قوانین کے خلاف قرار دیا ہے۔

رام اللہ میں قیدیوں کے اہلخانہ نے احتجاج کرتے ہوئے قانون واپس لینے کا مطالبہ کیا، جبکہ ماہرین کے مطابق اسرائیلی سپریم کورٹ میں اسے چیلنج کیا جا سکتا ہے۔

ایک خاتون میسون شومریہ جن کے بیٹے منصور قید ہیں نے کہا کہ یہ خبر ہمارے لیے بجلی بن کر گری ہے، ہمیں اپنے بچوں کی زندگیوں کا شدید خوف ہے۔

مزید پڑھیں: لیڈی ڈیانا اپنے چھوٹے بیٹے ہیری کے لیے فکرمند کیوں رہتی تھیں؟

اسی طرح عبد الفتاح الحیمونی، جن کے بیٹے احمد پر حملے کے الزامات ہیں، نے خدشہ ظاہر کیا کہ ان کے بیٹے کو بھی سزائے موت کا سامنا ہو سکتا ہے اور اسے منصفانہ ٹرائل نہیں ملے گا۔

انہوں نے انسانی حقوق کی تنظیموں سے اپیل کی کہ وہ اسرائیلی حکومت پر دباؤ ڈالیں تاکہ یہ قانون نافذ نہ ہو سکے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

تونسہ میں ایچ آئی وی بحران، غیر تربیت یافتہ افراد سے انجیکشن لگوانے کا انکشاف

بحیرہ انڈمان میں کشتی ڈوبنے کا ہولناک واقعہ، 250 سے زائد افراد لاپتا ہونے کا خدشہ

امریکی سفارتکار زکری ہارکن رائیڈر کی مولانا فضل الرحمان سے ملاقات

خیبرپختونخوا: سرکاری ملازمین کی حکومتی اجازت کے بغیر غیرملکیوں سے شادی پر پابندی، نئے رولز جاری

ورلڈ کوانٹم ڈے: نئی ٹیکنالوجی کے چیلنج پر ادارے تیار، ڈیٹا کو لاحق خطرات میں اضافہ

ویڈیو

پاکستان، ایران اور امریکا کے درمیان امن معاہدے کے لیے مزید کیا سکتا ہے؟

پاکستان میں بھارتی مواد چلانے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے، عوام کی رائے

پچھلے 13 سالوں میں پی ٹی آئی نے خیبرپختونخوا میں کرپشن کے سوا کچھ نہیں کیا، آفتاب شیرپاؤ

کالم / تجزیہ

ایران امریکا تصادم کس طرف جا رہا ہے؟

ایک تھی آشا

سمندری ناکہ بندی اور فیصلہ کن گھڑی میں پاکستان کا ثابت قدم کردار