امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران پر مزید فوجی کارروائیوں کے اعلان کے بعد عالمی منڈی میں سونے کی قیمتوں میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی۔
یہ بھی پڑھیں: ’فرانسیسی صدر کی اہلیہ بہت برا سلوک کرتی ہیں، وہ اب بھی بیوی کے حملے سے صحتیاب نہیں ہوسکے‘، ڈونلڈ ٹرمپ
جمعرات کو سونے کی قیمت دو ہفتوں کی بلند ترین سطح سے گر کر 2.8 فیصد کمی کے ساتھ 4,622 ڈالر فی اونس تک آ گئی جبکہ اس سے قبل قیمت میں 4 فیصد تک کمی بھی ریکارڈ کی گئی۔ امریکی گولڈ فیوچرز بھی 3.4 فیصد کم ہو گئے۔
عالمی رجحان کے اثرات پاکستان میں بھی دیکھے گئے، جہاں فی تولہ سونا 7,100 روپے سستا ہو کر 4 لاکھ 86 ہزار 962 روپے پر آ گیا جبکہ 10 گرام سونے کی قیمت 6,087 روپے کمی کے بعد 4 لاکھ 17 ہزار 491 روپے ہو گئی۔
چاندی کی قیمتوں میں بھی کمی ریکارڈ کی گئی۔ فی تولہ قیمت 350 روپے کم ہو کر 7,634 روپے اور 10 گرام 300 روپے کمی کے بعد 6,544 روپے پر آ گیا۔
قیمتوں میں کمی کی وجہ
ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان کے بعد سرمایہ کاروں کی جانب سے جنگ کے خاتمے کی امیدیں کم ہو گئیں۔
مزید پڑھیے: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تقریر کے اہم نکات
ماہرین کے مطابق اس صورتحال نے تیل کی قیمتوں، امریکی ڈالر اور بانڈز کی شرح منافع کو بڑھا دیا جس کے باعث سونے کی کشش کم ہو گئی۔
عالمی مارکیٹ پر اثرات
برینٹ کروڈ آئل کی قیمت میں 6 فیصد سے زائد اضافہ ہوا کیونکہ ایران کی جانب سے توانائی کے شعبے کو نشانہ بنانے کے خدشات نے سپلائی کے بارے میں تشویش بڑھا دی۔
دوسری جانب امریکی شرح سود میں کمی کی توقعات بھی کم ہو گئی ہیں اور اب دسمبر میں شرح سود میں صرف 12 فیصد کی کمی کی توقع رہ گئی ہے۔ فی الوقت شرح سود 25 فیصد ہے۔
مزید پڑھیں: ٹرمپ کا ایران جنگ جاری رکھنے کے اعلان کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ سونا عام طور پر مہنگائی اور عالمی کشیدگی کے دوران محفوظ سرمایہ کاری سمجھا جاتا ہے تاہم زیادہ شرح سود اس کی کشش کو کم کر دیتی ہے کیونکہ یہ منافع نہیں دیتا۔
دیگر دھاتوں کی صورتحال
دیگر بیش قیمت دھاتوں کی قیمتوں میں بھی کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ چاندی 5.4 فیصد، پلاٹینم 3.1 فیصد اور پیلیڈیم 1.8 فیصد سستا ہوگیا۔














