ڈھاکہ ایئرپورٹ کے تیسرے ٹرمینل پر بنگلہ دیش اور جاپان کے مذاکرات بے نتیجہ

جمعہ 3 اپریل 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بنگلہ دیش اور جاپان کے درمیان ڈھاکہ کے حضرت شاہ جلال انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے تیسرے ٹرمینل کے آپریشن اور دیکھ بھال سے متعلق معاہدہ تاحال حتمی شکل اختیار نہ کر سکا۔

ڈھاکہ میں ہونے والے اعلیٰ سطحی مذاکرات کے دوسرے دور کے بعد بھی فریقین کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے۔

پیش رفت نہ ہونے کے باوجود ڈھاکہ نے ایک بار پھر اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ وہ اس منصوبے کا ٹھیکہ براہِ راست مذاکرات کے ذریعے ایک جاپانی کنسورشیم کو دینے کو ترجیح دیتا ہے، تاہم قومی مفادات کے تحفظ کو یقینی بنانے پر بھی زور دیا گیا ہے۔

 یہ بھی پڑھیں: روسی پیٹرولیم مصنوعات درآمد کرنے کے لیے بنگلہ دیش کی امریکا سے خصوصی استثنیٰ کی اپیل

شہری ہوا بازی و سیاحت کی وزیر افروزہ خانم کے مطابق اس وقت مذاکرات کا مرکز مالیاتی امور اور ریونیو شیئرنگ کے معاملات ہیں، جو مجوزہ معاہدے کے سب سے حساس نکات سمجھے جا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ریونیو سے متعلق امور پر کام جاری ہے اور باہمی اتفاق رائے کے بعد ہی حتمی فیصلہ کیا جائے گا، جبکہ مزید مذاکرات بھی متوقع ہیں۔

ذرائع کے مطابق اہم اختلافی نکات میں ایمبارکیشن فیس، ابتدائی ادائیگیاں اورآمدنی کی تقسیم کا فارمولہ شامل ہیں، جو ٹرمینل کی تجارتی عملداری کے لیے نہایت اہم ہیں۔

 مزید پڑھیں: جاپانی کمپنیوں کی اکثریت بنگلہ دیش میں کاروبار بڑھانے کا ارادہ رکھتی ہے

مملکت کے وزیر برائے شہری ہوا بازی و سیاحت ایم راشد الزمان ملت نے مذاکرات کو جاری قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ جلد معاہدہ طے پا جائے گا، اور جاپانی فریق سے نظرثانی شدہ پیشکش جمع کرانے کی بھی درخواست کی۔

ناکایاما ریکوکی زیر قیادت جاپانی وفد نے اجلاس میں اپنی تازہ پیشکش پیش کی جس میں کچھ لچک دکھائی گئی، تاہم بنگلہ دیشی توقعات پوری کرنے کے لیے مزید رد و بدل کی ضرورت برقرار ہے۔

اجلاس میں بنگلہ دیشی اعلیٰ حکام، بشمول وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اور مشیر خارجہ ہمایوں کبیر نے شرکت کی، جو اس منصوبے کی اسٹریٹجک اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔

 مزید پڑھیں: بنگلہ دیش کا متحدہ عرب امارات سے اظہارِ یکجہتی، دوطرفہ تعلقات مزید مضبوط بنانے پر زور

یہ تیسرا ٹرمینل، جس کی مالی معاونت جاپان انٹرنیشنل کوآپریشن ایجنسی نے تقریباً 21 ہزار 398 کروڑ ٹکا کی لاگت سے کی ہے، 99 فیصد سے زائد مکمل ہو چکا ہے۔

تقریباً 5 لاکھ 42 ہزار مربع میٹر رقبے پر مشتمل یہ ٹرمینل سالانہ مزید 1 کروڑ 20 لاکھ سے 1 کروڑ 60 لاکھ مسافروں اور تقریباً 9 لاکھ ٹن کارگو سنبھالنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

تاہم تکمیل کے قریب ہونے کے باوجود آپریٹرکی تقرری میں تاخیر کے باعث یہ ٹرمینل ایک سال سے زائد عرصے سے غیر فعال ہے، جس پر ہوا بازی کے شعبے سے وابستہ افراد نے تنقید بھی کی ہے اور اس سے ایئرلائنز کے توسیعی منصوبے متاثر ہو رہے ہیں۔

 مزید پڑھیں: بنگلہ دیش کا پولیس اصلاحات کے لیے فرانس سے تعاون کا مطالبہ

حکام کے مطابق جلد ہی مذاکرات کا ایک اور دور متوقع ہے، جس کا مقصد باہمی طور پر قابل قبول معاہدے تک پہنچنا ہے۔

اگر معاملات طے پا گئے تو 3 ماہ کے اندر معاہدے پر دستخط ہو سکتے ہیں، جبکہ حکام اس ٹرمینل کو رواں سال کے آخر یا 2027 کے اوائل تک فعال کرنے کا ہدف رکھتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق اس تعطل کا خاتمہ ڈھاکہ ایئرپورٹ پر رش کم کرنے اور بنگلہ دیش کو ایک علاقائی فضائی مرکز بنانے کے ہدف کے لیے نہایت اہم ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

لائیوآپریشن ایپک فیوری کامیاب، ایران کو بڑی شکست دی، امریکی وزیر جنگ پیٹ ہیگسیتھ

ایوانِ صدر میں سفارتی تقریب، 6 ممالک کے سفیروں نے صدر زرداری کو اپنی اسناد پیش کیں

امریکا ایران جنگ بندی: پاکستان کی سفارتکاری پر اسلام آباد کے عوام کیا کہتے ہیں؟

پاکستان نے خطے میں قیام امن کے لیے اہم اور مثبت کردار ادا کیا، رجب طیب ادروان

9 اپریل کا جلسہ: پی ٹی آئی کا موٹروے کی بجائے جی ٹی روڈ سے جانے کا فیصلہ

ویڈیو

امریکا ایران جنگ بندی: پاکستان کی سفارتکاری پر اسلام آباد کے عوام کیا کہتے ہیں؟

مری میں شدید بارش، لینڈ سلائیڈ اور سیلاب کا خطرہ، ہائی الرٹ جاری

اورنج لائن ٹرین میں مفت سفر کرنے کا آسان طریقہ

کالم / تجزیہ

نوبل امن انعام تو بنتا ہے

پاکستان نے جنگ بندی کیسے کرائی؟ کیا، کیسے اور کیونکر ممکن ہوا؟

فیصلہ کن موڑ: امن جیتے گا یا کشیدگی؟