بنگلہ دیش اور جاپان کے درمیان ڈھاکہ کے حضرت شاہ جلال انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے تیسرے ٹرمینل کے آپریشن اور دیکھ بھال سے متعلق معاہدہ تاحال حتمی شکل اختیار نہ کر سکا۔
ڈھاکہ میں ہونے والے اعلیٰ سطحی مذاکرات کے دوسرے دور کے بعد بھی فریقین کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے۔
پیش رفت نہ ہونے کے باوجود ڈھاکہ نے ایک بار پھر اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ وہ اس منصوبے کا ٹھیکہ براہِ راست مذاکرات کے ذریعے ایک جاپانی کنسورشیم کو دینے کو ترجیح دیتا ہے، تاہم قومی مفادات کے تحفظ کو یقینی بنانے پر بھی زور دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: روسی پیٹرولیم مصنوعات درآمد کرنے کے لیے بنگلہ دیش کی امریکا سے خصوصی استثنیٰ کی اپیل
شہری ہوا بازی و سیاحت کی وزیر افروزہ خانم کے مطابق اس وقت مذاکرات کا مرکز مالیاتی امور اور ریونیو شیئرنگ کے معاملات ہیں، جو مجوزہ معاہدے کے سب سے حساس نکات سمجھے جا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ریونیو سے متعلق امور پر کام جاری ہے اور باہمی اتفاق رائے کے بعد ہی حتمی فیصلہ کیا جائے گا، جبکہ مزید مذاکرات بھی متوقع ہیں۔
ذرائع کے مطابق اہم اختلافی نکات میں ایمبارکیشن فیس، ابتدائی ادائیگیاں اورآمدنی کی تقسیم کا فارمولہ شامل ہیں، جو ٹرمینل کی تجارتی عملداری کے لیے نہایت اہم ہیں۔
مزید پڑھیں: جاپانی کمپنیوں کی اکثریت بنگلہ دیش میں کاروبار بڑھانے کا ارادہ رکھتی ہے
مملکت کے وزیر برائے شہری ہوا بازی و سیاحت ایم راشد الزمان ملت نے مذاکرات کو جاری قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ جلد معاہدہ طے پا جائے گا، اور جاپانی فریق سے نظرثانی شدہ پیشکش جمع کرانے کی بھی درخواست کی۔
ناکایاما ریکوکی زیر قیادت جاپانی وفد نے اجلاس میں اپنی تازہ پیشکش پیش کی جس میں کچھ لچک دکھائی گئی، تاہم بنگلہ دیشی توقعات پوری کرنے کے لیے مزید رد و بدل کی ضرورت برقرار ہے۔
اجلاس میں بنگلہ دیشی اعلیٰ حکام، بشمول وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اور مشیر خارجہ ہمایوں کبیر نے شرکت کی، جو اس منصوبے کی اسٹریٹجک اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔
مزید پڑھیں: بنگلہ دیش کا متحدہ عرب امارات سے اظہارِ یکجہتی، دوطرفہ تعلقات مزید مضبوط بنانے پر زور
یہ تیسرا ٹرمینل، جس کی مالی معاونت جاپان انٹرنیشنل کوآپریشن ایجنسی نے تقریباً 21 ہزار 398 کروڑ ٹکا کی لاگت سے کی ہے، 99 فیصد سے زائد مکمل ہو چکا ہے۔
تقریباً 5 لاکھ 42 ہزار مربع میٹر رقبے پر مشتمل یہ ٹرمینل سالانہ مزید 1 کروڑ 20 لاکھ سے 1 کروڑ 60 لاکھ مسافروں اور تقریباً 9 لاکھ ٹن کارگو سنبھالنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
تاہم تکمیل کے قریب ہونے کے باوجود آپریٹرکی تقرری میں تاخیر کے باعث یہ ٹرمینل ایک سال سے زائد عرصے سے غیر فعال ہے، جس پر ہوا بازی کے شعبے سے وابستہ افراد نے تنقید بھی کی ہے اور اس سے ایئرلائنز کے توسیعی منصوبے متاثر ہو رہے ہیں۔
مزید پڑھیں: بنگلہ دیش کا پولیس اصلاحات کے لیے فرانس سے تعاون کا مطالبہ
حکام کے مطابق جلد ہی مذاکرات کا ایک اور دور متوقع ہے، جس کا مقصد باہمی طور پر قابل قبول معاہدے تک پہنچنا ہے۔
اگر معاملات طے پا گئے تو 3 ماہ کے اندر معاہدے پر دستخط ہو سکتے ہیں، جبکہ حکام اس ٹرمینل کو رواں سال کے آخر یا 2027 کے اوائل تک فعال کرنے کا ہدف رکھتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق اس تعطل کا خاتمہ ڈھاکہ ایئرپورٹ پر رش کم کرنے اور بنگلہ دیش کو ایک علاقائی فضائی مرکز بنانے کے ہدف کے لیے نہایت اہم ہے۔













