پاکستان کی مہم جو ایتھلیٹ اور اسنو بورڈر ثمر خان نے آرکٹک کے برف پوش علاقے میں منعقد ہونے والی 300 کلومیٹر طویل ڈاگ سلیج مہم کامیابی سے مکمل کرلی اور اختتامی مقام تک پہنچ گئیں۔
یہ بھی پڑھیں: کےٹو پر مہم جوئی کے دوران پاکستانی کوہ پیما جاں بحق، غیر ملکی محفوظ رہے
ثمر خان نے سوشل میڈیا پر اپنی کامیابی شیئر کرتے ہوئے کہا کہ یہ سفر صرف جسمانی آزمائش نہیں بلکہ ذہنی طور پر بھی انتہائی مشکل مرحلہ تھا، جس نے انہیں تھکن، شکوک اور اپنی حدود سے آگے بڑھنے پر مجبور کیا۔
انہوں نے بتایا کہ شدید سردی، ویران برفانی ماحول اور طویل سفر کے دوران خاموشی نے انہیں مشکلات کا سامنا کرنے اور خود پر یقین مضبوط کرنے کا موقع دیا۔ ان کے مطابق یہ تجربہ حوصلے، ہمت اور اعتماد کی حقیقی آزمائش ثابت ہوا۔
View this post on Instagram
ثمر خان نے انکشاف کیا کہ سفر شروع ہونے سے پہلے بھی انہیں مشکلات کا سامنا رہا، خاص طور پر ویزا سے متعلق غیر یقینی صورتحال رہی اور روانگی سے صرف ایک دن قبل پاسپورٹ پر ویزا موصول ہوا۔
انہوں نے اپنی کامیابی کو ذاتی کارنامے کے ساتھ ساتھ پاکستان کے لیے اعزاز قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ لمحہ پورے ملک کے نام ہے۔
ثمر خان نے اس مہم کے منتظمین اور پاکستان میں سویڈن کے حکام کا بھی شکریہ ادا کیا جن کی معاونت سے ان کا سفر ممکن ہو سکا۔
یہ بھی پڑھیں: 7708 میٹر کی بلند تریچ میر چوٹی کوہ پیماؤں کو کیوں پسند ہے؟
یہ برفانی مہم سخت موسمی حالات اور منفی درجہ حرارت میں کئی روز پر محیط سفر پر مشتمل ہوتی ہے، جس میں شرکا کو جسمانی طاقت کے ساتھ مضبوط ذہنی صلاحیت کا بھی مظاہرہ کرنا پڑتا ہے۔
اپنے پیغام کے اختتام پر ثمر خان نے نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر کسی کو بتایا جائے کہ وہ اپنے خواب پورے نہیں کرسکتا تو اسے ہمت نہیں ہارنی چاہیے، کیونکہ حدود کو چیلنج کیا جا سکتا ہے۔














