بلوچستان کے سیکیورٹی اداروں نے کامیاب کارروائی کرتے ہوئے افغان دہشتگرد کو گرفتار کرلیا۔
وزیرِ داخلہ بلوچستان نے افغان شہری اور افغان طالبان دہشتگرد حبیب اللہ کی ویڈیو جاری کر دی۔ ویڈیو میں اس نے اپنا افغان شناختی کارڈ بھی دکھایا۔
افغان طالبان کے مبینہ دہشتگرد سیکیورٹی اداروں پر حملوں کا اعتراف کر رہے ہیں۔ pic.twitter.com/5WJDMzOj1u— WE News (@WENewsPk) April 5, 2026
وزیر داخلہ بلوچستان میر ضیااللہ لانگو نے کہاکہ ایک اہم کارروائی کے دوران افغانستان سے تعلق رکھنے والے دہشتگرد کو گرفتار کر لیا گیا ہے، جو فتنہ الخوارج (ٹی ٹی پی) اور افغان طالبان دونوں کے لیے کام کر رہا تھا۔
یہ بات انہوں نے ہوم سیکریٹری حمزہ شفقات اور ڈی آئی جی کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ اعتزاز گورایہ کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس میں کہی، جس میں پاکستان میں دہشتگردی کے افغان روابط کے شواہد پیش کیے گئے۔
پریس کانفرنس میں بتایا گیا کہ بلوچستان کے علاقے کچلاک میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن (آئی بی او) کے دوران افغان شہری حبیب اللہ کو گرفتار کیا گیا، جس نے دورانِ تفتیش بلوچستان میں دہشتگردی میں ملوث ہونے کا اعتراف کیا۔
ان کے مطابق گرفتار ملزم نے انکشاف کیا کہ وہ افغان طالبان اور ٹی ٹی پی کا کارندہ تھا اور پاکستان کی سیکیورٹی فورسز پر حملوں میں شریک رہا۔
حکام کے مطابق ان حملوں میں پاک فوج کے جوان شہید اور متعدد اہلکار زخمی ہوئے۔ مزید تفتیش کے دوران معلوم ہوا کہ گرفتار دہشتگرد کا بھائی شیر افغان بھی ٹی ٹی پی نیٹ ورک سے وابستہ ہے۔
پریس بریفنگ میں یہ بھی بتایا گیا کہ حبیب اللہ کو اس سے قبل شبہ کی بنیاد پر ایک ماہ تک حراست میں رکھا گیا تھا تاہم اسے عام شہری سمجھتے ہوئے رہا کر دیا گیا تھا۔ بعد ازاں ٹھوس شواہد ملنے پر اسے دوبارہ کچلاک سے گرفتار کیا گیا، جہاں اس نے سرحد پار دہشتگردی کے روابط کو بے نقاب کیا۔
وزیر داخلہ بلوچستان نے کہاکہ حکومتِ پاکستان اور سیکیورٹی ادارے متعدد بار اس بات کے شواہد فراہم کر چکے ہیں کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہو رہی ہے۔
مزید پڑھیں: سچ ہمیشہ جھوٹ پر غالب آتا ہے، وزارت اطلاعات نے افغان ترجمان کا گمراہ کن پروپیگنڈا بے نقاب کردیا
انہوں نے کہاکہ پاکستان بارہا افغان حکومت سے مطالبہ کر چکا ہے کہ وہ اپنی سرزمین کو دہشتگردی کے لیے استعمال ہونے سے روکے اور ایسے عناصر کے خلاف کارروائی کرے۔
پریس کانفرنس کے دوران وزیرِ داخلہ کی بریفنگ، دہشتگرد کا اعترافی بیان اور متعلقہ تفصیلات پر مبنی سلائیڈز بھی پیش کی گئیں۔













