وفاقی آئینی عدالت: انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی تشریح سے متعلق مقدمہ، ایف بی آر کی استدعا منظور

پیر 6 اپریل 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وفاقی آئینی عدالت میں انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کے سیکشن 7ای کی تشریح اور اس کی آئینی حیثیت سے متعلق اہم کیس کی سماعت ہوئی۔

چیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔

سماعت کے دوران عدالت نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں سیکشن 7ای سے متعلق زیر التوا مقدمات طلب کر لیے اور آئندہ ہفتے سے کیس کو روزانہ کی بنیاد پر سننے کا فیصلہ کیا۔

یہ بھی پڑھیے: ایف بی آر کو مالی سال کے 9 ماہ میں 610 ارب روپے کا خسارہ، ہدف حاصل کرنا مشکل

ایف بی آر کی جانب سے وکیل حافظ احسان کھوکھر اور عصمہ حامد عدالت میں پیش ہوئے۔ اس موقع پر حافظ احسان کھوکھر نے مؤقف اختیار کیا کہ اس معاملے سے متعلق اپیلیں اسلام آباد ہائی کورٹ میں زیر التوا ہیں، لہٰذا انہیں وفاقی آئینی عدالت میں منتقل کیا جائے۔

عدالت نے ایف بی آر کی استدعا منظور کرتے ہوئے اسلام آباد ہائی کورٹ سے زیر التوا مقدمات کا مکمل ریکارڈ طلب کر لیا۔

عدالت کے اس اقدام کو ماہرین کی جانب سے اہم قرار دیا جا رہا ہے، جس سے سیکشن 7ای کی آئینی حیثیت سے متعلق معاملے پر جلد پیش رفت متوقع ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

تیزاب حملے کا شکار ڈاکٹر ماہ نور ناصر کے لیے بڑا اعزاز، اہم سڑک ان کے نام سے منسوب کردی گئی

آزاد کشمیر کے نئے وزیر اعظم کے نام پر نواز شریف، شہباز شریف اور مریم نواز کی مشاورت

بھارت میں اسکول کی عمارت نہ بننے پر بچوں کا احتجاج، کلاسز میں جانے سے انکار

ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کو پھر ’نیا امریکی علاقہ‘ قرار دے دیا، ایران کا سخت ردعمل

ایکنک نے تربیلا پانچویں توسیعی منصوبے سمیت اربوں روپے کی ترقیاتی اسکیموں کی منظوری دے دی

ویڈیو

ٹرمپ کی ایران کیخلاف معاشی جنگ تیز کرنے کی تیاری، تہران نے جوابی کارروائی کی دھمکی دے دی

پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی کی پبلک سیفٹی ایپ، خصوصی افراد کے لیے مؤثر سہولت

میدان میں حریف کھلاڑی کو تھپڑ مارنے پر سپر اسٹار لیونل میسی پر جرمانہ عائد

کالم / تجزیہ

گر آنکھ چھلک پڑے تو …… معاف کرنا

سفید جادو، مثبت اور مددگار

عینی آپا ’آگ کا دریا‘ پار کیوں نہ کرسکیں؟