پاکستانی نوبیل انعام یافتہ فعال ملالہ یوسفزئی نے گلوکار اور تعلیم کے شعبے میں متحرک سماجی کارکن شہزاد رائے کے نئے پوڈکاسٹ کی پہلی قسط میں پاکستان اور بین الاقوامی مسائل پر کھلے دل سے بات کی ہے۔
گفتگو کے دوران انہوں نے پاکستان میں اپنی فعالیت، عالمی سطح پر تعلیم اور انسانی حقوق کے لیے کیے جانے والے اقدامات پر روشنی ڈالی۔
پوڈکاسٹ میں ملالہ پر لگائے گئے ’غیر ملکی ایجنٹ‘ ہونے کے الزامات پر پوچھے گئے سوال کے جواب میں انہوں نے صاف الفاظ میں انکار کرتے ہوئے کہا کہ اچھے لوگوں کو ایجنٹ قرار دینا ایک پرانی عادت ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بے نظیر بھٹو شہید کے بعد نوبیل انعام یافتہ ملالہ یوسفزئی کے نام ایک اور اعزاز
’ہم نے عبدالستار ایدھی کو بھی نہیں بخشا۔‘
ملالہ نے یہ بھی بتایا کہ ان کا مقصد پاکستان کی منفی تصویر پیش کرنا نہیں بلکہ دنیا کو دکھانا ہے کہ دہشتگرد پاکستان کی نمائندگی نہیں کرتے بلکہ قربانی دینے والے لوگ، جان دینے والے اور آواز اٹھانے والے ہی حقیقی نمائندے ہیں۔
انہوں نے اس بات کی وضاحت کی کہ ملک چھوڑنا ان کی مرضی سے نہیں ہوا تھا۔

ملالہ نے یاد دلایا کہ طالبان نے ان پر سوات میں حملہ کیا جس کے بعد انہیں جب ایئر لفٹ کیا گیا تو وہ ہوش میں نہیں تھیں۔
’ایک دن اچانک جب ہوش آیا تو ڈاکٹرز میرے آس پاس تھے، اور سب انگریزی میں بات کررہے تھے۔‘
شہزاد رائے نے ان سے سوال کیا کہ سوئیڈش کارکن گریٹا تھنبرگ کی طرح ان کی آواز عالمی سطح پر کیوں اتنی بلند اور نمایاں نہیں ہے۔
مزید پڑھیں: یونیورسٹی میں منشیات کا استعمال طالبان حملے کی خوفناک یاد تازہ کر گیا، ملالہ یوسفزئی کا انکشاف
ملالہ نے جواب دیا کہ ہر شخص کو اپنے طریقے سے حقوق کے لیے لڑنے کا حق ہے اور ضروری نہیں کہ ایک ہی طریقہ سب کے لیے درست ہو۔
پوڈکاسٹ میں ملالہ نے فلسطین میں اپنی سرگرمیوں کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ 16 سال کی عمر سے اس مسئلے پر کام کر رہی ہیں۔
انہوں نے اپنی پچھلی ایوارڈ کی رقم 50,000 ڈالر فلسطین کے اسکولوں کو دی تھی۔
مزید پڑھیں: کیا ’ملالہ فنڈ‘ پاکستان میں تعلیم سے محروم 2 کروڑ سے زائد بچوں کے لیے راحت کا سبب بن سکتا ہے؟
ملالہ نے پاکستان میں بھی اپنی فعالیت کے حوالے سے کہا کہ ان کی توجہ لڑکیوں کی تعلیم پر ہے، لیکن وہ اقلیتوں کے حقوق، خواتین کے حقوق اور پاکستان کی جمہوریت کے تحفظ کے بارے میں بھی حساس ہیں۔
’میں نے پاکستان کی سیاسی تاریخ کا صرف ایک چھوٹا حصہ دیکھا ہے، لیکن 3 وزرائے اعظم کی تبدیلی، برطرفی اور جیل دیکھنے کے بعد یہ مجھے بہت دکھ دیتا ہے۔‘
ملالہ یوسفزئی کا کہنا تھا کہ جب لوگ انصاف کے لیے کھڑے ہوتے ہیں تو وہ ان کے ساتھ ہوتی ہیں۔

ملالہ نے مزید بتایا کہ ملالہ فنڈ کے ذریعے پاکستان میں اب تک 5 ارب روپے کی سرمایہ کاری کی گئی ہے، جس کا مقصد مقامی تنظیموں کے ذریعے بچیوں کی تعلیم کو فروغ دینا ہے۔
’پچھلے سال سندھ اور گلگت بلتستان میں 95 ملین روپے کی امداد دی گئی، جبکہ خیبر پختونخوا میں 10 اضلاع میں مفت ٹرانسپورٹ کی سہولت فراہم کی گئی۔‘
انہوں نے زور دے کر کہا کہ پاکستان میں 13 ملین بچیاں اسکولوں سے باہر ہیں اور وہ خواب دیکھتی ہیں کہ یہ تعداد صفر ہو جائے۔
ملالہ نے یہ بھی کہا کہ تبدیلی ایک دن میں ممکن نہیں لیکن بتدریج بہتری ہو رہی ہے۔













