غیر ملکی ایجنٹ ہونے کے الزامات، ’ہم نے عبدالستار ایدھی کو نہیں بخشا‘ ملالہ کا شہزاد رائے کو جواب

پیر 6 اپریل 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستانی نوبیل انعام یافتہ فعال ملالہ یوسفزئی نے گلوکار اور تعلیم کے شعبے میں متحرک سماجی کارکن شہزاد رائے کے نئے پوڈکاسٹ کی پہلی قسط میں پاکستان اور بین الاقوامی مسائل پر کھلے دل سے بات کی ہے۔

گفتگو کے دوران انہوں نے پاکستان میں اپنی فعالیت، عالمی سطح پر تعلیم اور انسانی حقوق کے لیے کیے جانے والے اقدامات پر روشنی ڈالی۔

پوڈکاسٹ میں ملالہ پر لگائے گئے ’غیر ملکی ایجنٹ‘ ہونے کے الزامات پر پوچھے گئے سوال کے جواب میں انہوں نے صاف الفاظ میں انکار کرتے ہوئے کہا کہ اچھے لوگوں کو ایجنٹ قرار دینا ایک پرانی عادت ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بے نظیر بھٹو شہید کے بعد نوبیل انعام یافتہ ملالہ یوسفزئی کے نام ایک اور اعزاز

’ہم نے عبدالستار ایدھی کو بھی نہیں بخشا۔‘

ملالہ نے یہ بھی بتایا کہ ان کا مقصد پاکستان کی منفی تصویر پیش کرنا نہیں بلکہ دنیا کو دکھانا ہے کہ دہشتگرد پاکستان کی نمائندگی نہیں کرتے بلکہ قربانی دینے والے لوگ، جان دینے والے اور آواز اٹھانے والے ہی حقیقی نمائندے ہیں۔

انہوں نے اس بات کی وضاحت کی کہ ملک چھوڑنا ان کی مرضی سے نہیں ہوا تھا۔

ملالہ نے یاد دلایا کہ طالبان نے ان پر سوات میں حملہ کیا جس کے بعد انہیں جب ایئر لفٹ کیا گیا تو وہ ہوش میں نہیں تھیں۔

’ایک دن اچانک جب ہوش آیا تو ڈاکٹرز میرے آس پاس تھے، اور سب انگریزی میں بات کررہے تھے۔‘

شہزاد رائے نے ان سے سوال کیا کہ سوئیڈش کارکن گریٹا تھنبرگ کی طرح ان کی آواز عالمی سطح پر کیوں اتنی بلند اور نمایاں نہیں ہے۔

مزید پڑھیں: یونیورسٹی میں منشیات کا استعمال طالبان حملے کی خوفناک یاد تازہ کر گیا، ملالہ یوسفزئی کا انکشاف

ملالہ نے جواب دیا کہ ہر شخص کو اپنے طریقے سے حقوق کے لیے لڑنے کا حق ہے اور ضروری نہیں کہ ایک ہی طریقہ سب کے لیے درست ہو۔

پوڈکاسٹ میں ملالہ نے فلسطین میں اپنی سرگرمیوں کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ 16 سال کی عمر سے اس مسئلے پر کام کر رہی ہیں۔

انہوں نے اپنی پچھلی ایوارڈ کی رقم 50,000 ڈالر فلسطین کے اسکولوں کو دی تھی۔

مزید پڑھیں: کیا ’ملالہ فنڈ‘ پاکستان میں تعلیم سے محروم 2 کروڑ سے زائد بچوں کے لیے راحت کا سبب بن سکتا ہے؟

ملالہ نے پاکستان میں بھی اپنی فعالیت کے حوالے سے کہا کہ ان کی توجہ لڑکیوں کی تعلیم پر ہے، لیکن وہ اقلیتوں کے حقوق، خواتین کے حقوق اور پاکستان کی جمہوریت کے تحفظ کے بارے میں بھی حساس ہیں۔

’میں نے پاکستان کی سیاسی تاریخ کا صرف ایک چھوٹا حصہ دیکھا ہے، لیکن 3 وزرائے اعظم کی تبدیلی، برطرفی اور جیل دیکھنے کے بعد یہ مجھے بہت دکھ دیتا ہے۔‘

ملالہ یوسفزئی کا کہنا تھا کہ جب لوگ انصاف کے لیے کھڑے ہوتے ہیں تو وہ ان کے ساتھ ہوتی ہیں۔

ملالہ نے مزید بتایا کہ ملالہ فنڈ کے ذریعے پاکستان میں اب تک 5 ارب روپے کی سرمایہ کاری کی گئی ہے، جس کا مقصد مقامی تنظیموں کے ذریعے بچیوں کی تعلیم کو فروغ دینا ہے۔

’پچھلے سال سندھ اور گلگت بلتستان میں 95 ملین روپے کی امداد دی گئی، جبکہ خیبر پختونخوا میں 10 اضلاع میں مفت ٹرانسپورٹ کی سہولت فراہم کی گئی۔‘

انہوں نے زور دے کر کہا کہ پاکستان میں 13 ملین بچیاں اسکولوں سے باہر ہیں اور وہ خواب دیکھتی ہیں کہ یہ تعداد صفر ہو جائے۔

ملالہ نے یہ بھی کہا کہ تبدیلی ایک دن میں ممکن نہیں لیکن بتدریج بہتری ہو رہی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

آپریشن ایپک فیوری کامیاب، ایران کو بڑی شکست دی، امریکی وزیر جنگ پیٹ ہیگسیتھ

ایوانِ صدر میں سفارتی تقریب، 6 ممالک کے سفیروں نے صدر زرداری کو اپنی اسناد پیش کیں

امریکا ایران جنگ بندی: پاکستان کی سفارتکاری پر اسلام آباد کے عوام کیا کہتے ہیں؟

پاکستان نے خطے میں قیام امن کے لیے اہم اور مثبت کردار ادا کیا، رجب طیب ادروان

9 اپریل کا جلسہ: پی ٹی آئی کا موٹروے کی بجائے جی ٹی روڈ سے جانے کا فیصلہ

ویڈیو

امریکا ایران جنگ بندی: پاکستان کی سفارتکاری پر اسلام آباد کے عوام کیا کہتے ہیں؟

مری میں شدید بارش، لینڈ سلائیڈ اور سیلاب کا خطرہ، ہائی الرٹ جاری

اورنج لائن ٹرین میں مفت سفر کرنے کا آسان طریقہ

کالم / تجزیہ

نوبل امن انعام تو بنتا ہے

پاکستان نے جنگ بندی کیسے کرائی؟ کیا، کیسے اور کیونکر ممکن ہوا؟

فیصلہ کن موڑ: امن جیتے گا یا کشیدگی؟