چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو نے منی بجٹ کے لیے حکومت کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ جنگی بحران میں سیاسی اختلافات بھلا کر کام کرنا ہوگا۔ اس حوالے سے سیاسی منظر نامے میں ایک ہلچل مچی ہوئی ہے اور چہ مگوئیاں ہو رہی ہیں کہ وفاقی حکومت نے ملک کی موجودہ مالیاتی ضروریات کے پیش نظر منی بجٹ لانے پر غور شروع کر دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم سے بلاول بھٹو کی ملاقات، مسائل سے نبرد آزما ہونے کے لیے حکومتی پالیسی کی تعریف
آئی ایم ایف کی شرائط اور دفاعی بجٹ میں ممکنہ اضافے کے باعث حکومت مالیاتی خسارے کو پورا کرنے کے لیے ہنگامی اقدامات کر رہی ہے۔
بلاول بھٹو نے اپنے حالیہ بیان میں واضح کیا ہے کہ اگر حکومت ‘جنگی حالات’ یا ملک کے وسیع تر دفاعی مفاد میں منی بجٹ لاتی ہے تو پیپلز پارٹی اس کی حمایت کرے گی۔
ماہر معیشت مہتاب حیدر نے وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ وقت میں تو حکومت آئندہ مالی سال کے بجٹ کی تیاریاں کر رہی ہے تاہم ایسا نہیں لگ رہا کہ کسی منی بجٹ کی تیاریاں کی جا رہی ہیں۔
انہوں نے کہا ملک کے معاشی حالات فی الوقت تو معمول کے مطابق ہی چل رہے ہیں اور ایسا نہیں کہ معیشت منی بجٹ کے بغیر نہیں چل سکتی۔
مزید پڑھیے: وفاق کی مشکلات دور کرنے کے لیے ٹیکس جمع کرسکتے ہیں، بلاول بھٹو کا 18ویں ترمیم سے دستبردار ہونے سے انکار
مہتاب حیدر نے کہا کہ بلاول بھٹو نے جو حمایت کا اعلان کیا ہے وہ حکومت کے اتحادی کے طور پر کیا ہے جس کا مقصد یہ ہے کہ اگر منی بجٹ کی ضرورت پڑے تو حکومت اس آپشن پر غور کر سکتی ہے۔
سینیئر صحافی شعیب نظامی کے مطابق اس وقت منی بجٹ کی باتیں حکومتی حلقوں سے نہیں آ رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وزارت خزانہ کی تمام تو توجہ اس وقت آئندہ مالی سال کے بجٹ پر مرکوز ہے اور وزارت اسی کی تیاریوں میں مصروف ہے۔
شعیب نظامی نے کہا کہ مالی سال مکمل ہونے میں صرف ڈھائی ماہ باقی بچے ہیں اور بجٹ جون کے پہلے ہفتے میں پیش کر دیا جاتا ہے جس میں 2 ماہ سے بھی کم وقت رہتا ہے لہٰذا ایسے میں منی بجٹ پیش کرنے کے امکانات کافی کم ہیں۔
ذرائع کے مطابق اگر حکومت منی بجٹ لانے کا فیصلہ کرتی بھی ہے تو منی بجٹ کے ذریعے کئی اشیا پر سیلز ٹیکس اور کسٹم ڈیوٹی میں اضافے کا امکان ہوسکتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اس کے علاوہ غیر ترقیاتی اخراجات کو کم کرنے کے لیے پی ایس ڈی پی میں کٹ لگایا جا سکتا ہے جبکہ منی بجٹ کے نتیجے میں بجلی، گیس اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر بھی براہ راست اثر پڑ سکتا ہے۔
مزید پڑھیں: اسلام آباد میں دکانیں اور شاپنگ مالز رات 8 بجے بند کرنے کا نوٹیفکیشن جاری
دوسری جانب وزارت خزانہ کے حکام ابھی تک اس کی باضابطہ تصدیق سے گریز کر رہے ہیں تاہم سیاسی حلقوں میں یہ تاثر عام ہے کہ حکومت پارلیمنٹ سے اس اضافی بجٹ کی منظوری لینے کے لیے اتحادیوں کو اعتماد میں لے رہی ہے۔











