جنوبی کوریا نے شمالی کوریا میں ڈرون بھیجنے کے معاملے میں ‘سرکاری کردار’ کا اعتراف کرتے ہوئے افسوس کا اظہار کر دیا ہے، جس کے بعد خطے میں کشیدگی ایک بار پھر موضوع بحث بن گئی ہے۔
دارالحکومت سیول میں کابینہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے جنوبی کوریا کے صدر لی جے میونگ نے کہا کہ رواں سال جنوری میں شمالی کوریا کی حدود میں بھیجے گئے ڈرونز کے معاملے کی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ اس میں سرکاری اہلکار ملوث تھے۔ انہوں نے ان اقدامات کو ‘غیر ذمہ دارانہ’ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے غیر ضروری فوجی کشیدگی پیدا ہوئی۔
یہ بھی پڑھیے: امریکا پر کئی وار ہیڈ برسانے والے میزائل کی تیاری؟ شمالی کوریا کا نیا تجربہ اہم پیش رفت قرار
صدر لی جے میونگ نے کہا کہ ‘یہ تصدیق ہو چکی ہے کہ نیشنل انٹیلی جنس سروس کے ایک اہلکار اور ایک حاضر سروس فوجی اس کارروائی میں شامل تھے’۔ انہوں نے مزید کہا کہ جنوبی کوریا کا آئین نجی افراد کو ایسے اقدامات سے روکتا ہے جو شمالی کوریا کو اشتعال دلا سکتے ہیں، اس لیے ایسے معاملات میں انتہائی احتیاط ضروری ہے۔
واضح رہے کہ ابتدائی طور پر سیول حکومت نے اس ڈرون کارروائی میں کسی بھی سرکاری کردار کی تردید کی تھی اور اسے شہریوں کی انفرادی سرگرمی قرار دیا تھا، تاہم بعد ازاں تحقیقات میں مختلف حقائق سامنے آئے۔
یہ بھی پڑھیے: شمالی کوریا نے 10 سے زیادہ بیلسٹک میزائل سمندر میں داغ دیے
دوسری جانب شمالی کوریا نے فروری میں خبردار کیا تھا کہ اگر اس کی فضائی حدود میں مزید ڈرون داخل ہوئے تو اس کا ‘سنگین جواب’ دیا جائے گا۔ پیانگ یانگ کا دعویٰ ہے کہ اس نے جنوری کے اوائل میں ایک ایسا ڈرون مار گرایا تھا جس میں نگرانی کا سامان نصب تھا۔
صدر لی جے میونگ نے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے شمالی کوریا کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کی کوششیں کی ہیں اور ماضی کی حکومت پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ پیانگ یانگ میں پروپیگنڈا مواد گرانے کے لیے ڈرون استعمال کرتی رہی ہے۔












