شمالی کوریا نے ایک بار پھر اپنے میزائل پروگرام میں اہم پیش رفت کا دعویٰ کرتے ہوئے ایک طاقتور ٹھوس ایندھن راکٹ انجن کا کامیاب تجربہ کیا ہے، جسے ماہرین امریکا تک مار کرنے والے جدید میزائلوں کی تیاری کی جانب اہم قدم قرار دے رہے ہیں۔
شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن نے ایک طاقتور ٹھوس ایندھن پر چلنے والے راکٹ انجن کے تجربے کی نگرانی کی ہے، جسے سرکاری میڈیا کے مطابق ملک کی اسٹریٹجک دفاعی صلاحیت میں اضافے کے لیے اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق اس جدید راکٹ انجن کا زمینی تجربہ کیا گیا، جو شمالی کوریا کے اسلحہ پروگرام میں ایک اور نمایاں قدم سمجھا جا رہا ہے۔ دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کے انجن بین البراعظمی بیلسٹک میزائل (ICBM) کی تیاری میں استعمال کیے جا سکتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق ٹھوس ایندھن والے انجنوں کی خاصیت یہ ہے کہ انہیں کم تیاری کے ساتھ فوری طور پر لانچ کیا جا سکتا ہے، جس سے میزائل حملوں کی رفتار اور مؤثریت میں اضافہ ہوتا ہے۔
سرکاری بیان میں کہا گیا کہ یہ تجربہ نئے پانچ سالہ قومی دفاعی منصوبے کا حصہ ہے، تاہم اس کی تاریخ اور مقام کے بارے میں تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔ گزشتہ برس ستمبر کے بعد یہ پہلا باضابطہ طور پر تسلیم شدہ ہائی تھرسٹ انجن ٹیسٹ ہے۔
سرکاری میڈیا کے مطابق حالیہ تجربے میں انجن نے 2,500 کلو نیوٹن تک تھرسٹ پیدا کیا، جو اس سے قبل رپورٹ کیے گئے 1,971 کلو نیوٹن سے زیادہ ہے۔
یہ بھی پڑھیے شمالی کوریا نے 10 سے زیادہ بیلسٹک میزائل سمندر میں داغ دیے
ماہرین کے مطابق یہ پیش رفت اس بات کا اشارہ ہے کہ شمالی کوریا دنیا بھر میں اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھنے والے میزائل حاصل کرنے کے عزم پر قائم ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ زیادہ طاقتور انجن میزائل دفاعی نظام کو ناکام بنانے کی صلاحیت بھی بڑھاتے ہیں۔
جاری کردہ تصاویر میں کم جونگ اُن کو انجن کے حصوں کا معائنہ کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے، جبکہ ایک اور تصویر میں تجربے کے دوران آگ کے شعلے بلند ہوتے دکھائی دیتے ہیں۔
کم جونگ اُن کے مطابق ملک کی دفاعی صلاحیتیں اسٹریٹجک قوت بڑھانے کے حوالے سے ایک ’اہم مرحلے‘ میں داخل ہو چکی ہیں۔
کیا کئی وارہیڈ لے جانے والے میزائل تیار ہو رہے ہیں؟
دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا پہلے ہی ایسے میزائل ٹیکنالوجی کا مظاہرہ کر چکا ہے جو امریکا تک پہنچنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اب اصل سوال یہ ہے کہ آیا وہ ایک ہی میزائل پر متعدد وارہیڈ نصب کرنے کی صلاحیت بھی حاصل کر رہا ہے یا نہیں۔
متعدد وارہیڈ لے جانے والے میزائل ایک ہی وقت میں مختلف اہداف کو نشانہ بنانے اور دفاعی نظام کو الجھانے کی صلاحیت رکھتے ہیں، تاہم اس کے لیے زیادہ طاقتور انجن درکار ہوتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے 2040 تک شمالی کوریا کے جوہری ہتھیار 400 سے تجاوز کر سکتے ہیں، ماہر کی پیشگوئی
ماہرین کے مطابق اگر شمالی کوریا اس ٹیکنالوجی میں مہارت کا دعویٰ کرنا چاہتا ہے تو اسے عملی طور پر ایسے میزائل کا تجرباتی لانچ بھی کرنا ہوگا۔
واضح رہے کہ شمالی کوریا نے آخری بار اکتوبر 2024 میں ایک بین البراعظمی بیلسٹک میزائل کا تجربہ کیا تھا۔
دریں اثنا سرکاری میڈیا نے بتایا کہ کم جونگ اُن نے ایک خصوصی فورسز کے تربیتی مرکز کا بھی دورہ کیا، جہاں فوجیوں کی مشقوں کا جائزہ لیا گیا۔ جاری تصاویر میں اہلکاروں کو مختلف ہتھیاروں کے ساتھ تربیت کرتے ہوئے دکھایا گیا۔
رپورٹ کے مطابق ان مشقوں کا مقصد فوجیوں کی جسمانی اور تکنیکی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرنا تھا تاکہ وہ میدانِ جنگ میں مؤثر کردار ادا کر سکیں۔













