پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں منگل کے روز ایک اور اتار چڑھاؤ سے بھرپور کاروباری سیشن ریکارڈ کیا گیا، جہاں بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس بالآخر مثبت زون میں بند ہوا۔
کاروبار کے آغاز پر مارکیٹ دباؤ کا شکار رہی اور انڈیکس انٹرا ڈے کم ترین سطح 149,129.41 پوائنٹس تک گر گیا۔
یہ بھی پڑھیں: اسٹاک مارکیٹ بلند ترین سطح پر پہنچ کر مندی سے دوچار، کیا معیشت خطرے میں ہے؟
مارکیٹ ذرائع کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان ڈیڈ لائن قریب آنے اور 3.5 ارب ڈالر کے ممکنہ زرمبادلہ کے اخراج کے خدشات کے باعث سرمایہ کار محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے تھے۔
تاہم وقت گزرنے کے ساتھ سرمایہ کاروں کے اعتماد میں بہتری آئی اور مارکیٹ نے بتدریج سنبھلنا شروع کیا۔
Market Close Update: Positive Today! 🚀
🇵🇰 KSE 100 ended positive by +465.6 points (+0.31%) and closed at 151,673.5 with trade volume of 205.2 million shares and value at Rs. 17.5 billion. Today's index low was 149,129 and high was 152,013. pic.twitter.com/kEc6dpZRj7— Investify Pakistan (@investifypk) April 7, 2026
سیشن کے وسط تک انڈیکس میں واضح ریکوری دیکھنے میں آئی جبکہ بعد ازاں مسلسل تیزی کا رجحان برقرار رہا اور انڈیکس انٹرا ڈے بلند ترین سطح 152,013.05 پوائنٹس تک پہنچ گیا۔
کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس 465.64 پوائنٹس یعنی 0.31 فیصد اضافے کے ساتھ 151,673.45 پوائنٹس پر بند ہوا۔
مزید پڑھیں: اسٹاک ایکسچینج میں اتار چڑھاؤ، انڈیکس 555 پوائنٹس کمی کے ساتھ بند
اس سے قبل پیر کے روز بھی مارکیٹ میں شدید اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آیا تھا، تاہم سیشن کے اختتام پر بہتری کے باعث انڈیکس 809.10 پوائنٹس یعنی 0.54 فیصد اضافے کے ساتھ 151,207.82 پوائنٹس پر بند ہوا تھا۔
عالمی سطح پر بھی منگل کو اسٹاک مارکیٹس غیر یقینی صورتحال کا شکار رہیں جبکہ تیل کی قیمتیں 110 ڈالر فی بیرل کے قریب برقرار رہیں۔

مشرق وسطیٰ میں ممکنہ جنگی کشیدگی اور اہم معاہدے کی ڈیڈ لائن نے سرمایہ کاروں کو محتاط بنا رکھا ہے۔
فروری کے آخر میں امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلاف کارروائی کے بعد سے عالمی منڈیاں دباؤ میں ہیں، جبکہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی بندش نے عالمی تیل کی ترسیل کو متاثر کر کے مہنگائی کے خدشات بڑھا دیے ہیں۔
مزید پڑھیں: پاکستان کی معیشت میں بہتری، دوسری سہ ماہی میں 3.89 فیصد ترقی ریکارڈ
سرمایہ کار جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات سے امیدیں وابستہ کیے ہوئے ہیں، تاہم تاحال کوئی پیش رفت سامنے نہیں آئی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے معاہدے کے لیے منگل کی رات تک کی ڈیڈ لائن مقرر کر رکھی ہے۔

ایشیا پیسیفک خطے میں جاپان کے علاوہ حصص کا ایم ایس سی آئی انڈیکس 0.4 فیصد بڑھا، جبکہ جاپان کا نکی انڈیکس ابتدائی تیزی کے بعد 0.2 فیصد کمی پر آ گیا۔
امریکی فیوچر مارکیٹ میں 0.55 فیصد کمی جبکہ یورپی فیوچر مارکیٹس میں بہتری کے آثار دیکھے گئے۔














