وائٹ ہاؤس نے منگل کے روز ایک بار پھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس مطالبے کو دہرایا ہے کہ ایران مقررہ وقت کے اندر معاہدہ کرے بصورت دیگر آئندہ کا لائحہ عمل صدر خود طے کریں گے۔
یہ بھی پڑھیں: آج رات ایک تہذیب ختم ہو سکتی ہے، ٹرمپ کا ایران کو آخری انتباہ
وائٹ ہاؤس کے مطابق ایران کو مشرقی وقت کے مطابق رات 8 بجے تک مہلت دی گئی ہے تاکہ وہ امریکا کے ساتھ معاہدہ کرنے کا فیصلہ کرے۔
وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیویٹ نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایرانی حکومت کے پاس رات 8 بجے تک کا وقت ہے کہ وہ اس موقعے کو سمجھے اور امریکا کے ساتھ معاہدہ کرے۔
انہوں نے مزید کہا کہ صورتحال کہاں کھڑی ہے اور آئندہ کیا قدم اٹھایا جائے گا اس کا علم صرف صدر کو ہے۔
مزید پڑھیے: ایران نے رویہ نہ بدلا تو وہ ہتھیار بھی استعمال کریں گے جو اب تک نہیں کیے، امریکی نائب صدر جے ڈی وینس
مزید برآں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے خبردار کیا ہے کہ امریکا کے پاس ایران کے خلاف ایسے ہتھیار موجود ہیں جو ابھی تک استعمال ہی نہیں کیے گئے تاہم انہوں نے اس امید کا اظہار بھی کیا کہ مذاکرات کے ذریعے ان کے استعمال کی ضرورت نہ پڑے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایرانی حکام کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ ہمارے پاس ایسے اوزار ہیں جو ابھی استعمال نہیں کیے گئے اور اگر ایران اپنا رویہ نہ بدلے تو صدر امریکا ان ٹولز کے استعمال کا فیصلہ کریں گے۔
امریکی نائب صدر نے امید ظاہر کی کہ ایران کی جانب سے مثبت جواب ملے گا تاہم انہوں نے کہا کہ ہم پر امید ہیں کہ ہمیں ایران سے جواب ملے گا خواہ وہ مثبت ہو یا منفی۔
وائٹ ہاؤس کے اس بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی ایک اہم اور فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکی ہے جہاں کسی بھی فیصلے کے خطے پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں تاہم پاکستان بھی خطے میں کشیدگی ختم کروانے کے لیے کوشاں ہیں اور امید کی جاسکتی ہے کہ اس کی کوششیں بارآوار ثابت ہوجائیں اور خطہ کسی بڑے خطرے سے بچ جائے۔














