اکیسویں صدی کی تیسری دہائی عالمی سیاست کے لیے انتہائی کٹھن ثابت ہو رہی ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی، ایران اور امریکا کے درمیان براہِ راست ٹکراؤ کے خطرات اور آبنائے ہرمز کی بندش نے عالمی معیشت اور انسانی بقا کو داؤ پر لگا دیا تھا۔ ایسی صورتحال میں جہاں بڑی طاقتیں طاقت کے توازن کو برقرار رکھنے میں ناکام نظر آ رہی تھیں، پاکستان نے اپنی روایتی اور دفاعی سفارت کاری کے ذریعے وہ کر دکھایا جس کی توقع عالمی مبصرین بھی نہیں کر رہے تھے۔ وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی مشترکہ حکمت عملی نے ثابت کر دیا کہ پاکستان نہ صرف ایک ایٹمی قوت ہے بلکہ ایک ذمہ دار اور بااعتماد عالمی کھلاڑی بھی ہے۔
سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والے بیانات اور عالمی رہنماؤں، بشمول اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل اور قازقستان کے صدر کے ٹویٹس اس بات کی گواہی دے رہے ہیں کہ پاکستان نے امریکا اور ایران کے درمیان پل کا کردار ادا کیا۔ ایران اور امریکا کے درمیان دہائیوں پر محیط بداعتمادی کو ختم کرنا کوئی معمولی کام نہ تھا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے اپنی سیاسی بصیرت اور عالمی رہنماؤں کے ساتھ ذاتی تعلقات کو استعمال کرتے ہوئے مذاکرات کا وہ راستہ ہموار کیا جس میں دونوں فریقین کے تحفظات کو جگہ دی گئی۔ تہران سے جاری ہونے والے سرکاری بیان میں پاکستان کے برادرانہ کردار کی تعریف اس بات کا ثبوت ہے کہ ایران کی قیادت کو پاکستان کی نیت پر کامل بھروسہ ہے۔
پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار ’فیلڈ مارشل‘ کا منصب سنبھالنے والے عاصم منیر نے دفاعی سفارت کاری کے ذریعے دنیا کو ورطہِ حیرت میں ڈال دیا۔ ان کے براہِ راست رابطوں اور تزویراتی سمجھ بوجھ نے پینٹاگون اور ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے درمیان جنگی جنون کو کم کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جاری کردہ بیان، جس میں انہوں نے پاکستان کی قیادت کی درخواست پر بمباری روکنے کا ذکر کیا، فیلڈ مارشل کی عالمی ساکھ کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
سوشل میڈیا پر بھارتی دانشوروں اور عام شہریوں کے ردعمل سے یہ واضح ہوتا ہے کہ جہاں بھارت نے اپنے پڑوسیوں کو تنہا کرنے کی پالیسی اپنائی تھی، وہاں پاکستان کی موجودہ قیادت نے ’دوستی اور امن‘ کی پالیسی سے بھارت کو ہی اخلاقی طور پر تنہا کردیا۔ بھارتی صارفین کا یہ کہنا کہ ’پاکستان حقیقی وشوا گرو بن کر ابھرا ہے‘، اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ طاقت صرف اسلحہ جمع کرنے میں نہیں بلکہ امن قائم کرنے میں بھی ہے۔
پاکستان کی اس کامیابی نے جنوبی ایشیا میں اس کے وقار کو بلندیوں تک پہنچا دیا ہے۔ اب دنیا پاکستان کو صرف ’مسائل کا شکار ملک‘ نہیں بلکہ ’مسائل حل کرنے والا ملک‘ سمجھ رہی ہے۔
اگر ایران اور امریکا کے درمیان جنگ چھڑ جاتی تو آبنائے ہرمز کی بندش سے عالمی تیل کی قیمتیں آسمان کو چھو لیتیں، جس سے کروڑوں لوگ غربت کی لکیر سے نیچے چلے جاتے۔ پاکستان کی ثالثی کے نتیجے میں جو 2ہفتوں کی جنگ بندی عمل میں آئی ہے، اس نے نہ صرف انسانی جانیں بچائیں بلکہ عالمی سپلائی چین کو بھی تباہ ہونے سے بچا لیا۔ یہ وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل کی معاشی سفارت کاری کا شاہکار ہے کہ انہوں نے سمجھا کہ عالمی امن ہی پاکستان کی معیشت کی بہتری کی ضمانت ہے۔
اس کامیابی کا سب سے اہم پہلو پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت کا ون پیج پر ہونا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کی انتظامی صلاحیتیں اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی تزویراتی گرفت جب یکجا ہوئیں، تو پاکستان کی خارجہ پالیسی میں ایک نئی روح پھونک دی گئی۔
8اپریل 2026 کی یہ تاریخ پاکستان کی خارجہ پالیسی کے سنہری باب کے طور پر لکھی جائے گی۔ پاکستان نے ثابت کردیا کہ وہ کسی ایک بلاک کا حصہ بننے کے بجائے بلاکس کے درمیان دوریاں ختم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف کی سیاسی جرات اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی پیشہ ورانہ مہارت نے پاکستان کو عالمی نقشے پر ایک ناگزیر قوت بنا دیا ہے۔ آج اگر دنیا ایک بڑی جنگ سے محفوظ ہے، تو اس کا کریڈٹ ان 2رہنماؤں کی انتھک محنت اور ’پاکستان فرسٹ‘ کی پالیسی کو جاتا ہے۔ پاکستان کی یہ کامیابی اس بات کا پیغام ہے کہ امن کی آواز ہمیشہ جنگ کے شور سے زیادہ طاقتور ہوتی ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ قوم اپنی قیادت پر بھروسہ کرے اور اس عالمی وقار کو ملکی تعمیر و ترقی کے لیے استعمال کرے۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔














