افغان سرزمین سے عالمی دہشت گردی کا پھیلاؤ، چین بھی تشویش میں مبتلا

بدھ 8 اپریل 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

چین نے افغانستان اور پاکستان کے درمیان حالیہ سفارتی پیش رفت کے تناظر میں دہشتگردی کو دونوں ممالک کے تعلقات کا بنیادی مسئلہ قرار دیا ہے۔

ارومچی میں ہونے والے سہ فریقی مذاکرات کے بعد چینی وزارت خارجہ کی ترجمان ماؤ ننگ نے واضح کیا کہ افغانستان اور پاکستان کے درمیان کشیدگی کی اصل وجہ محض سیاسی یا سفارتی اختلافات نہیں بلکہ دہشتگردی ہے۔

چین کے اس مؤقف نے پاکستان کے دیرینہ موقف کو تقویت دی ہے کہ افغانستان کی سرزمین سے ہونے والی دہشتگردی دونوں ممالک کے تعلقات میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

یہ بھی پڑھیں: افغانستان میں پھیلتے دہشتگردی کے مرکز کے خلاف پاکستان مضبوط دیوار

بین الاقوامی رپورٹس کے مطابق، افغانستان میں اس وقت 20 سے زائد دہشت گرد تنظیمیں سرگرم ہیں جن میں تحریک طالبان پاکستان یعنی ٹی ٹی پی، داعش خراسان، القاعدہ اور ایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ شامل ہیں۔

اندازوں کے مطابق ان گروہوں سے وابستہ 20 سے 23 ہزار جنگجو افغانستان میں موجود ہیں، جن میں 6 سے 7 ہزار جنگجو صرف ٹی ٹی پی کے ہیں۔

سلامتی کونسل کی مانیٹرنگ رپورٹس، SIGAR اور شنگھائی تعاون تنظیم سمیت مختلف علاقائی تجزیوں میں بھی اس صورتحال کی تصدیق کی گئی ہے کہ یہ گروہ افغان سرزمین پر محفوظ پناہ گاہیں رکھتے ہیں۔

مزید پڑھیں: اسپتال پر حملے کا دعویٰ جھوٹ، افغانستان پوزیشن واضح کرے دہشتگردوں کے ساتھ کھڑا ہے یا پاکستان کے ساتھ، عطا تارڑ

پاکستان پر اس کے اثرات واضح ہیں، جہاں صرف 2025 کے دوران ٹی ٹی پی کی جانب سے 600 سے زائد حملے کیے گئے، جبکہ 2021 سے اب تک 8 ہزار سے زائد پاکستانی شہری اور سیکیورٹی اہلکار ان حملوں میں جاں بحق یا زخمی ہو چکے ہیں۔

دہشت گردی کا دائرہ صرف پاکستان تک محدود نہیں رہا بلکہ اس کے اثرات خطے کے دیگر ممالک تک بھی پھیل رہے ہیں۔

تاجکستان میں چینی شہریوں پر حملے، جو افغان سرزمین سے منصوبہ بندی کے تحت کیے گئے۔

مزید پڑھیں: افغانستان میں دہشتگردوں کے خلاف کارروائیاں، خیبرپختونخوا کے عوام کا افواج پاکستان کو خراج تحسین

اسی طرح کابل میں چینی مفادات کو نشانہ بنانے کے واقعات اس بات کا ثبوت ہیں کہ دہشتگردی بین الاقوامی سلامتی کے لیے براہِ راست خطرہ بن چکی ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اگر طالبان حکومت خطے میں استحکام اور عالمی سطح پر قبولیت چاہتی ہے تو اسے اپنی سرزمین پر موجود دہشتگرد نیٹ ورکس کا خاتمہ کرنا ہوگا۔

دہشگردوں کی پناہ گاہیں ختم کرنا ہوں گی اور خاص طور پر ٹی ٹی پی، داعش خراسان اور القاعدہ کے خلاف مؤثر کارروائی کرنا ہوگی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پاکستان کی عالمی سطح پر پذیرائی، گرین پاسپورٹ کو دنیا بھر میں عزت مل گئی

امریکا ایران جنگ بندی: وزیراعظم کا سفارتی کوششوں میں تعاون فراہم کرنے والے ممالک سے اظہار تشکر

آپریشن ایپک فیوری کامیاب، ایران کو بڑی شکست دی، امریکی وزیر جنگ پیٹ ہیگسیتھ

ایوانِ صدر میں سفارتی تقریب، 6 ممالک کے سفیروں نے صدر زرداری کو اپنی اسناد پیش کیں

امریکا ایران جنگ بندی: پاکستان کی سفارتکاری پر اسلام آباد کے عوام کیا کہتے ہیں؟

ویڈیو

پاکستان کی عالمی سطح پر پذیرائی، گرین پاسپورٹ کو دنیا بھر میں عزت مل گئی

امریکا ایران جنگ بندی: پاکستان کی سفارتکاری پر اسلام آباد کے عوام کیا کہتے ہیں؟

مری میں شدید بارش، لینڈ سلائیڈ اور سیلاب کا خطرہ، ہائی الرٹ جاری

کالم / تجزیہ

نوبل امن انعام تو بنتا ہے

پاکستان نے جنگ بندی کیسے کرائی؟ کیا، کیسے اور کیونکر ممکن ہوا؟

فیصلہ کن موڑ: امن جیتے گا یا کشیدگی؟