پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) پنجاب کے صوبائی ارکان اسمبلی کے لیے ہر ہفتے اڈیالہ جیل جانا اب قریباً ناممکن ہوگیا ہے۔ پارٹی کی طرف سے ہر منگل اور جمعرات کو جیل کے باہر حاضری لازمی قرار دی گئی ہے، لیکن حالیہ پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں ریکارڈ اضافے نے ایم پی ایز کی جیبوں پر بھاری بوجھ ڈال دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق اب ایم پی ایز نے خود فیصلہ کرلیا ہے کہ وہ مہینے میں صرف ایک یا دو بار جیل پہنچیں گے۔
مزید پڑھیں: پی ٹی آئی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج پر بھی تقسیم، فیملی اور مختلف رہنماؤں کی الگ الگ ٹولیاں
پی ٹی آئی پنجاب کے ایم پی ایز منگل کو فیملی ملاقاتوں کے دن اور جمعرات کو الگ سے اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج اور دھرنا دیتے ہیں۔
بانی پی ٹی آئی عمران خان سے براہ راست ملاقات پر پابندی کے باعث وہ باہر ہی موجود رہتے ہیں۔ پارٹی نے ایک فارمولا بھی طے کر رکھا ہے کہ منگل کو 50 فیصد اور جمعرات کو 50 فیصد ایم پی ایز اڈیالہ جیل کے باہر حاضری لگوائیں گے۔
نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر متعدد ایم پی ایز نے بتایا کہ ملتان، رحیم یار خان، لاہور، میانوالی، بھکر اور لیہ سمیت دور دراز اضلاع سے آنے والے ارکان کے لیے سفر کا خرچ ناقابل برداشت ہوگیا ہے۔
ایک ایم پی اے نے کہاکہ گاڑی کے پیٹرول پر 20 سے 25 ہزار روپے لگ جاتا ہے، کھانے پینے کا خرچ الگ سے ہے، آنے جانے پر 70 سے 80 ہزار روپے ہر ہفتے ضائع ہو رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ جب سے پی ٹی آئی ٹکٹ پر ایم پی اے بنے ہیں، کاروبار بھی ریاستی دباؤ کی وجہ سے متاثر ہوا ہے۔
انہوں نے کہاکہ پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے کے بعد قیادت سے بار بار گزارش کی گئی، مگر کوئی حل نہیں نکلا، بلکہ قیادت نے سختی سے ہدایت کی کہ وہاں پہنچنا ضروری ہے، ورنہ پارٹی نوٹس جاری کر دے گی۔
ان کے مطابق اب ایم پی ایز نے اتفاق رائے سے فیصلہ کیا ہے کہ اب ہر ہفتے نہیں، صرف مہینے میں ایک یا دو بار حاضری لگوائی جائے گی۔
اس منگل کے روزجب ایم پی ایز اور کارکن اڈیالہ جیل پہنچنے کی کوشش کر رہے تھے تو پولیس نے انہیں لاہور اسلام آباد موٹروے پر کلر کہار اور چکری ریسٹ ایریاز میں روک لیا۔
مزید پڑھیں: علیمہ خان نے 10 ہزار پی ٹی آئی کارکنان کو اڈیالہ جیل پہنچنے کی کال دیدی
پولیس کی جانب سے اپوزیشن لیڈر معین قریشی، علی امتیاز وڑائچ، فرخ جاوید مون، امتیاز محمود شیخ اور درجنوں کارکنوں کو حراست میں لے لیا گیا، جسے پی ٹی آئی کی جانب سے ظلم قرار دیا گیا ہے۔
پی ٹی آئی قیادت نے مہنگائی کے خلاف ملک گیر احتجاج اور آل پارٹیز کانفرنس بلانے کا اعلان بھی کیا ہے، لیکن پنجاب کے ایم پی ایز کا کہنا ہے کہ پارٹی کی جانب سے حاضری کا ٹاسک اب ان کے لیے مالی طور پر تباہ کن ہوگیا ہے۔













