اسلام آباد ارضِ امن، ایران امریکا معاہدے کے بعد فلسطین اور کشمیر کا حل بھی یہیں سے نکلے گا، علامہ طاہر اشرفی

جمعرات 9 اپریل 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

چیئرمین پاکستان علما کونسل علامہ طاہر اشرفی نے کہا ہے کہ دنیا تیسری عالمی جنگ کے دہانے پر کھڑی تھی اور خدشہ تھا کہ امریکا ایران پر ایٹمی حملہ کرسکتا ہے، جس سے ایک تہذیب اور ملک تباہ ہوسکتا تھا، تاہم اچانک حالات نے رخ بدلا اور دونوں ممالک مذاکرات کی طرف آگئے۔ اسلام آباد ارضِ امن ہے، ایران امریکا معاہدے کے بعد فلسطین اور کشمیر کے مسائل کا حل بھی یہیں سے نکلے گا۔

وی نیوز ایکسکلوسیو میں گفتگو کرتے ہوئے علامہ طاہر شرفی نے اس پیشرفت میں پاکستان کے کردار کو انتہائی اہم قرار دیتے ہوئے کہاکہ اگر پاکستان موجود نہ ہوتا یا اس کا کردار نہ ہوتا تو جنگ ایک ماہ قبل ہی عالمی جنگ میں تبدیل ہوچکی ہوتی۔ موجودہ پاکستانی قیادت، بالخصوص فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، وزیراعظم شہباز شریف اور اسحاق ڈار نے دنیا کو امن واپس کیا۔

طاہر اشرفی نے کہاکہ ایران پر حملے کے بعد فوری طور پر خطے میں ردعمل آیا، لیکن پاکستانی قیادت نے فوری سفارتی اقدامات کیے۔ آرمی چیف سعودی عرب گئے، جہاں اعلیٰ سطحی ملاقاتوں میں صبر و تحمل کا راستہ اختیار کرنے پر اتفاق کیا گیا۔ اس کے بعد وزیراعظم اور دیگر قیادت نے بھی سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقات کی، جس میں کشیدگی کم کرنے پر زور دیا گیا۔

انہوں نے کہاکہ اگر اس وقت جوابی کارروائی کا فیصلہ ہو جاتا تو نہ صرف عالم اسلام بلکہ پوری دنیا شدید تباہی کا شکار ہو سکتی تھی۔ بعد ازاں ریاض میں پاکستان، ترکیہ، مصر اور سعودی عرب کے وزرائے خارجہ کے اجلاس سے مذاکراتی عمل کا آغاز ہوا، جس نے امن کی راہ ہموار کی۔

طاہر اشرفی نے بات کو جاری رکھتے ہوئے کہاکہ بعد ازاں اسلام آباد میں بھی اہم اجلاس ہوا، جبکہ سعودی وزیر خارجہ نے مصروفیات کے باوجود پاکستان آ کر واضح پیغام دیا کہ امن ہی واحد راستہ ہے۔

انہوں نے کہاکہ پاکستان نے بیک وقت سعودی عرب، ایران اور امریکا کے ساتھ رابطے رکھ کر ایک متوازن اور مؤثر سفارتکاری کا مظاہرہ کیا۔

انہوں نے اس دوران پیش آنے والے چیلنجز کا ذکر کرتے ہوئے کہاکہ سعودی شہر الجبیل پر حملے کے بعد صورتحال انتہائی نازک ہو گئی تھی، تاہم پاکستانی قیادت نے مایوسی کے بجائے امید کا راستہ اپنایا اور کشیدگی کو مزید بڑھنے سے روکا۔

ایک سوال کے جواب میں طاہر اشرفی نے کہاکہ اگر خدانخواستہ ایران اور خلیجی ممالک کے درمیان جنگ چھڑ جاتی تو پاکستان کو بھی واضح مؤقف اختیار کرنا پڑتا، تاہم قرآن و سنت کی روشنی میں پاکستان ہمیشہ صلح اور اتحاد کا راستہ اختیار کرتا ہے۔

انہوں نے کہاکہ بھارت اور اسرائیل نہیں چاہتے کہ ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کامیاب ہوں، کیونکہ ایک صہیونی منصوبہ تھا جس کے تحت ایران اور عرب ممالک کو آپس میں لڑایا جائے، تاہم پاکستان، سعودی عرب اور دیگر قیادت نے اس منصوبے کو ناکام بنایا۔

طاہر اشرفی کے مطابق موجودہ حالات میں پاکستان عالمی امن کی علامت بن چکا ہے اور امید ہے کہ ایران اور امریکا کے ساتھ ساتھ ایران اور عرب ممالک کے تعلقات بھی بہتری کی طرف جائیں گے۔

انہوں نے بتایا کہ ایران اور سعودی عرب کے وزرائے خارجہ کے درمیان رابطہ بھی ہو چکا ہے، جو مثبت پیش رفت ہے۔

انہوں نے اسلام آباد کو ‘ارضِ امن‘ قرار دیتے ہوئے کہاکہ یہاں سے دنیا کو امن کا پیغام ملے گا اور یہیں سے فلسطین اور کشمیر کے مسائل کے حل کی راہیں بھی نکلیں گی۔

نوبل امن انعام سے متعلق سوال پر طاہر اشرفی نے کہاکہ پاکستان اس کا حقیقی حقدار ہے کیونکہ اس نے نہ صرف ممکنہ عالمی جنگ کو روکا بلکہ امریکا، ایران اور عالم اسلام کے درمیان تصادم کو بھی ٹالا۔

ملکی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ پاکستان میں بعض داخلی مسائل اور مسلکی اختلافات موجود ہیں، تاہم علما کو متحد کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ 14 اپریل کو اسلام آباد میں پیغامِ اسلام کانفرنس منعقد ہوگی، جس میں پاکستان سمیت دنیا بھر سے 3 سے 4 ہزار علما شرکت کریں گے، جبکہ فلسطین اور دیگر ممالک سے اہم مذہبی شخصیات بھی شریک ہوں گی۔

طاہر اشرفی کے مطابق کانفرنس کا مقصد اسلام کے حقیقی پیغام، یعنی امن، محبت اور رواداری کو اجاگر کرنا اور امت مسلمہ کو درپیش چیلنجز کا مشترکہ حل تلاش کرنا ہے۔

چیئرمین پاکستان علما کونسل نے کہاکہ اس موقع پر بین الاقوامی سطح پر دو اہم اسلامی شخصیات کا اعلان بھی کیا جائے گا، جو پاکستان کے لیے اعزاز ہوگا۔

انہوں نے مزید کہاکہ پاکستان اور سعودی عرب مشترکہ مؤقف اپنا کر خصوصاً فلسطین، کشمیر اور دہشتگردی کے خلاف جنگ میں امت مسلمہ کے لیے رہنمائی کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ قومی پیغام امن کمیٹی نے حالیہ بحرانوں کے دوران اہم کردار ادا کیا اور ملک میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے مؤثر اقدامات کیے۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ 14 اپریل کا دن امت مسلمہ کے لیے ایک مثبت اور متحد راستے کے تعین کا دن ثابت ہوگا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

صدر آصف زرداری کا لبنان جنگ بندی کا خیرمقدم، خطے میں پائیدار امن کے لیے مذاکرات پر زور

پاکستان کی معروف خاتون سائیکلسٹ 28 برس کی عمر میں انتقال کرگئیں

اسلام آباد مذاکرات کے دوسرے راؤنڈ کے لیے فارن میڈیا ایکریڈیشن ہدایات جاری

نسیم شاہ پر جرمانہ پی سی بی کا فیصلہ، پنجاب حکومت کا کوئی تعلق نہیں، عظمیٰ بخاری

آزاد کشمیر انتخابات 2026: ن لیگ نے پارلیمانی بورڈ تشکیل دے دیا، نواز شریف سربراہ مقرر

ویڈیو

ترکیہ میں اہم سفارتی سرگرمیاں: وزیراعظم شہباز شریف اور حاقان فیدان کی ملاقات، امریکا ایران امن معاہدے کی کوششیں تیز

افغانستان میں کامیاب کارروائی کے بعد پاکستان میں 70 فیصد دہشتگرد کارروائیوں میں کمی ہوئی، صحافیوں کی رائے

واسا لاہور عالمی سطح پر نمایاں، ٹاپ 5 واٹر یوٹیلیٹیز میں شارٹ لسٹ

کالم / تجزیہ

امریکا ایران مذاکرات: کیا ہونے جا رہا ہے؟

ہنساتے ببو برال کی اداس کہانی

جب پاکستان ہے تو کیا غم ہے؟