ہانیہ عامز نے سوشل میڈیا پر کامیاب اور خوش خواتین کے خلاف بڑھتی ہوئی نفرت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ معاشرے میں خواتین کو بلا وجہ تنقید اور بُلینگ کا سامنا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: تنقید بند کریں، سب ایک جیسے نہیں ہوتے، ہانیہ عامر برہم
اداکارہ، جن کے انسٹاگرام پر 20 ملین فالوورز ہیں اور حالیہ ڈرامہ میری زندگی ہے تو سے بھی شہرت سمیٹ چکی ہیں، نے کچھ عرصہ قبل سوشل میڈیا سے دوری اختیار کی تھی۔ ان کا کہنا ہے کہ مسلسل منفی تبصروں اور تنقید نے انہیں ذہنی طور پر تھکا دیا تھا۔
ہانیہ عامر کے مطابق انہوں نے کئی ہفتے اس بات پر غور کیا کہ آیا وہ خود کچھ غلط کر رہی ہیں یا انہیں اپنی شخصیت اور انداز میں تبدیلی لانے کی ضرورت ہے، تاہم بعد ازاں انہیں احساس ہوا کہ مسئلہ دراصل معاشرتی رویوں میں ہے جہاں خوش اور کامیاب خواتین کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: دوست کی شادی میں ہانیہ عامر کا ڈانس، ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل
انہوں نے کہا کہ خواتین کے خلاف یہ منفی رویہ صرف مردوں تک محدود نہیں بلکہ بعض اوقات خواتین بھی ایک دوسرے کو نیچا دکھانے میں کردار ادا کرتی ہیں۔ ان کے مطابق لوگ دوسروں کو اپنے ذہن میں بنائے گئے معیار کے مطابق دیکھنا چاہتے ہیں اور اس سے ہٹنے والوں کو تنقید کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
اداکارہ نے اس امر پر بھی روشنی ڈالی کہ لوگ کیا کہیں گے جیسی سوچ اب صرف خاندان تک محدود نہیں رہی بلکہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز تک منتقل ہو چکی ہے، جہاں خواتین کو رنگ، جسامت اور ظاہری شکل کی بنیاد پر پرکھا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ’عائزہ خان کا ہانیہ عامر کے ساتھ مقابلہ جاری‘، صارفین کی اداکارہ کے لباس پر سخت تنقید
انہوں نے خواتین سے اپیل کی کہ وہ ایک دوسرے کے خلاف نفرت اور تنقید کو فروغ دینے کے بجائے باہمی تعاون کو فروغ دیں، کیونکہ بلا وجہ بُلینگ اور تنقید معاشرے میں منفی رجحانات کو بڑھا رہی ہے۔
ہانیہ عامر کے بیان پر شوبز شخصیات اور سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے مثبت ردعمل سامنے آیا ہے اور اسے ایک اہم سماجی مسئلے کی نشاندہی قرار دیا جا رہا ہے۔













