327ویں عالمی وساکھی میلے کے سلسلے میں بھارت سے 2840 سکھ یاتری واہگہ بارڈر کے راستے پاکستان پہنچ گئے، جہاں ان کا پرتپاک استقبال کیا گیا۔
صوبائی وزیر اقلیتی امور و پردھان گردوارہ پربندھک کمیٹی رمیش سنگھ اروڑہ نے یاتریوں کا خیر مقدم کیا اور ان کے ساتھ لنگر بھی تناول کیا۔
مزید پڑھیں: وساکھی میلہ: بھارت سے سکھ یاتریوں کی پاکستان آمد شروع،واہگہ بارڈر پر بھرپور انتظامات
اس موقع پر سکھ یاتریوں کے لیے لنگر، ٹرانسپورٹ، میڈیکل اور سیکیورٹی کے فول پروف انتظامات کیے گئے تھے جبکہ ان کی حفاظت کے لیے پنجاب پولیس اور رینجرز کے خصوصی دستے بھی تعینات کیے گئے۔
یاتریوں کو بسوں کے تین مختلف قافلوں میں گوردوارہ جنم استھان ننکانہ صاحب روانہ کر دیا گیا۔ بھارتی ریاستوں امرتسر، ہریانہ اور دہلی سے آنے والے یاتری 10 روز پاکستان میں قیام کریں گے۔
واہگہ بارڈر پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صوبائی وزیر اقلیتی امور رمیش سنگھ اروڑہ نے کہاکہ بھارت اور دنیا بھر سے آنے والے سکھ یاتریوں کو گرو نانک کی دھرتی پر جی آیاں نوں کہتے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ وہ وزیراعظم پاکستان شہباز شریف اور وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے بے حد مشکور ہیں۔
انہوں نے وزارت مذہبی امور، سیکریٹری عثمان علی خان اور ایڈیشنل سیکریٹری ناصر مشتاق کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہاکہ بہترین انتظامات کیے گئے ہیں۔
رمیش سنگھ اروڑہ نے میڈیا کو بھی سراہتے ہوئے کہا کہ میڈیا نے ہمیشہ پاکستان کا سافٹ امیج دنیا کے سامنے اجاگر کیا۔
انہوں نے اپنے محکمے اور میڈیا ٹیم کا بھی شکریہ ادا کیا اور کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایت پر یاتریوں کے استقبال، لنگر اور سیکیورٹی کے بہترین انتظامات کیے گئے ہیں جبکہ ان کی خصوصی توجہ سے سکھ یاتریوں کو بہترین طبی اور سفری سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔
رمیش سنگھ اروڑہ نے کہاکہ پاکستان امن کا داعی ہے اور کشیدہ تعلقات کے باوجود ہزاروں ویزے جاری کرنا ہماری امن دوستی کا ثبوت ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان سکھوں کا دوسرا نہیں بلکہ پہلا گھر ہے اور سکھ مت کا آغاز اسی پاک دھرتی سے ہوا۔
انہوں نے کہاکہ سکھ یاتریوں کے لیے پاکستان کے دروازے اور دل ہمیشہ کھلے ہیں اور وہ جب چاہیں اپنے گھر آ سکتے ہیں۔
ان کے مطابق پاکستان میں تمام اقلیتوں کو مکمل مذہبی آزادی حاصل ہے جبکہ دنیا بھر میں بسنے والے سکھ اپنی پاک دھرتی سے محبت کرتے ہیں اور یہاں کے ذرے ذرے میں ان کی تاریخ ہے۔
انہوں نے بھارتی حکومت کو پیغام دیتے ہوئے کہاکہ کرتار پور کوریڈور کو مکمل طور پر کھولا جائے تاکہ محبتوں کا سفر جاری رہے۔
مزید پڑھیں: سکھ یاتری خاتون کی پاکستانی شہری سے شادی، اداروں کی جانب سے تلاش کا سلسلہ جاری
رمیش سنگھ اروڑہ کا کہنا تھا کہ پاکستان دشمن قوتیں بھی ہماری امن کی کوششوں کو سراہنے پر مجبور ہیں۔
انہوں نے مزید کہاکہ 10 روزہ قیام کے دوران سکھ یاتریوں کو ننکانہ صاحب اور پنجہ صاحب سمیت تمام مقدس مقامات کی زیارت کروائی جائے گی۔














