اسرائیل نے جمعہ کے روز اعلان کیا ہے کہ اس نے جنگ کے بعد غزہ کو مستحکم کرنے کے لیے قائم امریکی قیادت والے مرکز میں اسپین کی شرکت روک دی ہے۔
امریکی قیادت میں قائم سول ملٹری کوآرڈینیشن سینٹر (سی ایم سی سی) کو 10 اکتوبر 2025 کو اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کے بعد شہر کیریات گیٹ میں قائم کیا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: اسپین کی پارلیمنٹ نے اسرائیل پر اسلحہ کی خرید و فروخت پابندی کا قانون منظور کر لیا
اس سینٹر کا مقصد جنگ بندی کی نگرانی اور فلسطینی علاقے میں انسانی امداد کی ترسیل کو آسان بنانا ہے۔
سی ایم سی سی میں فرانس، برطانیہ اور متحدہ عرب امارات سمیت کئی ممالک کے فوجی اہلکار اور سفارتکار بھی شامل ہیں، جو غزہ میں سیکیورٹی اور انسانی امور سے متعلق اجلاسوں میں شرکت کرتے ہیں، اسپین کے نمائندے بھی اب تک اس مرکز کی سرگرمیوں میں شریک رہے تھے۔
Prime Minister Benjamin Netanyahu accuses Spain of waging a diplomatic campaign against Israel after Madrid was barred from taking part in the work of a US‑led center created to help stabilize post‑war Gaza. pic.twitter.com/S2Sr8kpjOc
— Al Arabiya English (@AlArabiya_Eng) April 10, 2026
تاہم جمعہ کواسرائیلی وزارت خارجہ نے اسپین کوسی ایم سی سی کے اجلاسوں میں شرکت سے روکنے کا اعلان کیا۔
اسرائیلی وزیر خارجہ گڈن سار نے ایک بیان میں کہا کہ ہسپانوی حکومت کا اسرائیل مخالف رویہ اس حد تک بڑھ چکا ہے کہ وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے امن منصوبے پر عملدرآمد میں مثبت کردار ادا کرنے کی صلاحیت کھو چکی ہے۔
مزید پڑھیں: اسپین نے غزہ میں اسرائیلی جرائم کی تحقیقات کی منظوری دے دی
بیان کے مطابق، اسپین کو کیریات گیٹ میں قائم اس سینٹر میں شرکت کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
اسرائیل اور اسپین کے تعلقات 2024 میں اس وقت شدید خراب ہو گئے تھے جب میڈرڈ نے فلسطینی ریاست کو تسلیم کر لیا تھا، اس کے بعد دونوں ممالک نے اپنے سفیروں کو واپس بلا لیا۔
For a long time, the government of Spain under @sanchezcastejon has been operating against the State of Israel in every way possible. Sánchez and his ministers level false blood libels against Israel and its army, defame and incite against Israel and Prime Minister Netanyahu. The…
— Gideon Sa'ar | גדעון סער (@gidonsaar) April 10, 2026
ہسپانوی وزیر اعظم پیڈرو سانچیز غزہ میں اسرائیلی جنگ کے نمایاں ناقدین میں شمار ہوتے ہیں، جو 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے اسرائیل پر حملے کے بعد شروع ہوئی تھی۔
انہوں نے 28 فروری سے شروع ہونے والے ایران پر امریکہ–اسرائیل کے فوجی حملوں کی بھی مخالفت کی تھی۔
اس سے قبل گڈن سار ہسپانوی حکومت پر الزام عائد کر چکے ہیں کہ وہ ایران پر حملوں کی مخالفت کر کے ظالموں کا ساتھ دے رہی ہے۔
مزید پڑھیں: اسرائیل سے ہسپانوی سفیر واپس بلا لیا گیا
انہوں نے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے بعد اسپین کو یہودیوں کے خلاف نسل کشی پر اکسانے اور جنگی جرائم میں معاونت کا بھی ذمہ دار ٹھہرایا تھا۔
اسپین نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات 1986 میں قائم کیے تھے، جو 1975 میں آمر جنرل فرانسسکو فرانکو کی وفات کے بعد ممکن ہوا.
جنرل فرانکو کے دور میں اسپین اسرائیل کو تسلیم کرنے سے گریزاں رہا اور عرب ممالک کے ساتھ قریبی تعلقات برقرار رکھے۔














