غزہ امدادی نظام میں دراڑ، اسرائیل نے اسپین کو روک دیا

جمعہ 10 اپریل 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اسرائیل نے جمعہ کے روز اعلان کیا ہے کہ اس نے جنگ کے بعد غزہ کو مستحکم کرنے کے لیے قائم امریکی قیادت والے مرکز میں اسپین کی شرکت روک دی ہے۔

امریکی قیادت میں قائم سول ملٹری کوآرڈینیشن سینٹر (سی ایم سی سی)  کو 10 اکتوبر 2025 کو اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کے بعد شہر کیریات گیٹ میں قائم کیا گیا تھا۔

 یہ بھی پڑھیں: اسپین کی پارلیمنٹ نے اسرائیل پر اسلحہ کی خرید و فروخت پابندی کا قانون منظور کر لیا

اس سینٹر کا مقصد جنگ بندی کی نگرانی اور فلسطینی علاقے میں انسانی امداد کی ترسیل کو آسان بنانا ہے۔

سی ایم سی سی میں فرانس، برطانیہ اور متحدہ عرب امارات سمیت کئی ممالک کے فوجی اہلکار اور سفارتکار بھی شامل ہیں، جو غزہ میں سیکیورٹی اور انسانی امور سے متعلق اجلاسوں میں شرکت کرتے ہیں، اسپین کے نمائندے بھی اب تک اس مرکز کی سرگرمیوں میں شریک رہے تھے۔

تاہم جمعہ کواسرائیلی وزارت خارجہ نے اسپین کوسی ایم سی سی کے اجلاسوں میں شرکت سے روکنے کا اعلان کیا۔

اسرائیلی وزیر خارجہ گڈن سار نے ایک بیان میں کہا کہ ہسپانوی حکومت کا اسرائیل مخالف رویہ اس حد تک بڑھ چکا ہے کہ وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے امن منصوبے پر عملدرآمد میں مثبت کردار ادا کرنے کی صلاحیت کھو چکی ہے۔

مزید پڑھیں: اسپین نے غزہ میں اسرائیلی جرائم کی تحقیقات کی منظوری دے دی

بیان کے مطابق، اسپین کو کیریات گیٹ میں قائم اس سینٹر میں شرکت کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

اسرائیل اور اسپین کے تعلقات 2024 میں اس وقت شدید خراب ہو گئے تھے جب میڈرڈ نے فلسطینی ریاست کو تسلیم کر لیا تھا، اس کے بعد دونوں ممالک نے اپنے سفیروں کو واپس بلا لیا۔

ہسپانوی وزیر اعظم پیڈرو سانچیز غزہ میں اسرائیلی جنگ کے نمایاں ناقدین میں شمار ہوتے ہیں، جو 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے اسرائیل پر حملے کے بعد شروع ہوئی تھی۔

انہوں نے 28 فروری سے شروع ہونے والے ایران پر امریکہاسرائیل کے فوجی حملوں کی بھی مخالفت کی تھی۔

اس سے قبل گڈن سار ہسپانوی حکومت پر الزام عائد کر چکے ہیں کہ وہ ایران پر حملوں کی مخالفت کر کے ظالموں کا ساتھ دے رہی ہے۔

مزید پڑھیں: اسرائیل سے ہسپانوی سفیر واپس بلا لیا گیا

انہوں نے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے بعد اسپین کو یہودیوں کے خلاف نسل کشی پر اکسانے اور جنگی جرائم میں معاونت کا بھی ذمہ دار ٹھہرایا تھا۔

اسپین نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات 1986 میں قائم کیے تھے، جو 1975 میں آمر جنرل فرانسسکو فرانکو کی وفات کے بعد ممکن ہوا.

  جنرل فرانکو کے دور میں اسپین اسرائیل کو تسلیم کرنے سے گریزاں رہا اور عرب ممالک کے ساتھ قریبی تعلقات برقرار رکھے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

تونسہ میں ایچ آئی وی بحران، غیر تربیت یافتہ افراد سے انجیکشن لگوانے کا انکشاف

بحیرہ انڈمان میں کشتی ڈوبنے کا ہولناک واقعہ، 250 سے زائد افراد لاپتا ہونے کا خدشہ

امریکی سفارتکار زکری ہارکن رائیڈر کی مولانا فضل الرحمان سے ملاقات

خیبرپختونخوا: سرکاری ملازمین کی حکومتی اجازت کے بغیر غیرملکیوں سے شادی پر پابندی، نئے رولز جاری

ورلڈ کوانٹم ڈے: نئی ٹیکنالوجی کے چیلنج پر ادارے تیار، ڈیٹا کو لاحق خطرات میں اضافہ

ویڈیو

پاکستان، ایران اور امریکا کے درمیان امن معاہدے کے لیے مزید کیا سکتا ہے؟

پاکستان میں بھارتی مواد چلانے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے، عوام کی رائے

پچھلے 13 سالوں میں پی ٹی آئی نے خیبرپختونخوا میں کرپشن کے سوا کچھ نہیں کیا، آفتاب شیرپاؤ

کالم / تجزیہ

ایران امریکا تصادم کس طرف جا رہا ہے؟

ایک تھی آشا

سمندری ناکہ بندی اور فیصلہ کن گھڑی میں پاکستان کا ثابت قدم کردار